کامیابی کا راز

الفریڈ ایڈلر (1870-1937) مشہور نفسیاتی عالم (Psychologist)ہے۔ اس کا مخصوص موضوع شخصی نفسیات (Individual Psychology) ہے۔ پوری عمر انسان اور انسان کی چھپی ہوئی محفوظ قوتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نے یہ اعلان کیا کہ انسانی شخصیت کی خصوصیات میں سے ایک حیرت ناک خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک نہیں کو ہے میں تبدیل کرسکے:

One of the wonder-filled characteristics of human beings is "their power to turn a minus into a plus." (Dale Carnegie: How to Stop Worrying and Start Living, Ch. 17, p. 143)

 اللہ تعالیٰ نے انسان کو انتہائی غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مذکورہ اقتباس ایک نفسیات کی زبان سے اس کا اعتراف ہے۔ اسی صلاحیت کی آخری حد یہ ہے کہ انسان تاریکی میں بھی روشنی کا پہلو دیکھ لیتا ہے۔ وہ ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کرسکتا ہے۔ جب اس کی بازی کھوئی گئی ہو، اس وقت وہ دوبارہ اپنے لیے نیا میدان تلاش کرلیتا ہے، جس میں جدو جہد کرکے، وہ از سرِ نو اپنی منزل پر پہنچ جائے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان فطری طور پر well equipped  ہے کہ وہ اپنے ’’نہیں‘‘ کو اپنے ’’ہے‘‘ میں تبدیل کرسکے۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ وہ نزاعی طریقِ کار (confrontational approach) کو چھوڑے، اور مینجمنٹ (management) کا طریقہ اختیار کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی کوئی صورتِ حال سامنے آئے، تو پہلے اس کا مطالعہ (study) کرے، اور پھر غیر نزاعی طریقِ کار (non-confrontational approach) کو اختیار کرتے ہوئے آبجکٹیو طریقے (objective way) میں اپنے عمل کی پلاننگ کرے۔

زندگی میں کامیابی کا راز مینجمنٹ پر مبنی ہے، نہ کہ چینج (change) پر۔ غیر نزاعی طریقِ کار ہمیشہ مثبت نتیجہ (positive result) دیتا ہے، اورنزاعی طریقِ کار ہمیشہ مسئلے میں اضافہ کرتا ہے۔

دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر صورت حال میں کام کے مواقع موجود رہتے ہیں۔ لوگ اکثر مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں کام کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ ہر صورت حال میں مواقع (opportunities) کی بنیاد پر اپنے کام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مواقع کو تلاش کرنا، اور مواقع کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنانا، دانش مندانہ طریقہ ہے۔ یہ دنیا اسباب کی دنیاہے۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، جو اسباب کی رعایت کرتے ہوئے بنایا جائے۔

اس دنیا میں منصوبہ بند کام ہی حقیقی کام ہے۔جو کام غیر منصوبہ بند انداز میں کیا جائے، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے عملاًکوئی کام نہیں ہوتا۔ جب بھی ایسا ہو کہ آپ کا کوئی عمل بے نتیجہ رہ جائے، تو ہر گز کسی دوسرے کو الزام نہ دیجیے، بلکہ بے لاگ احتساب کے ساتھ خود اپنے منصوبے کی خامی کو تلاش کیجیے۔ اپنے منصوبے کی خامی درست کیجیے، آپ دوبارہ کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion