اہل کتاب سے سیکھو
بیسوی صدی عیسوی مسلم سرگرمیوںکی صدی تھی۔ مسلمانوں کےتمام بڑے بڑے لیڈر اس صدی میں پیدا ہوئے۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تویقیناً مسلمانوں نےاس صدی میں صرف کھویا ہے، پایا کچھ بھی نہیں۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب صرف ایک تھا— کنڈیشنڈ سوچ کے تحت اپنے اقدامات کی منصوبہ بندی کرنا۔ یعنی مسلمانوں کے اندر سیاسی ناکامیوں کے نتیجے میں یہ مفروضہ سوچ پیدا ہوگئی کہ امت مسلمہ کے باہر کوئی ان کا خیر خواہ نہیں ہے، تمام لوگ ان کے اور ان کے دین کے دشمن ہیں، وہ ان کے خلاف سازش کرنے والے ہیں۔
اس کے بعد یہ ہوا کہ اپنی کنڈیشننگ کی وجہ سے امت نے اہل مغرب اور ان کے ذریعے وجود میں آنے والی جدید تہذیب یعنی سائنسی تہذیب کو ایک دشمن تہذیب یا سازش سمجھا۔ اس بنا پر وہ اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ کسی قوم کی کوشش اسی وقت نتیجہ خیز ہوتی ہے، جب کہ وہ زمانی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر کی جائے۔ مگر مسلمانوں کی کوششیں زمانی تقاضوں کے مطابق نہ تھیں، اس لیے وہ ناکام رہیں۔ مثلاً یہ کہ قدیم ٹرائبل ایج میں ملٹری قوت کی بنیاد پر کامیابی ملتی تھی، مگر جدید دور میں سائنس اور ٹکنالوجی کی بنیاد پر قومیں ترقی کررہی ہیں، وغیرہ۔ امت مسلمہ اپنی کنڈیشنڈ سوچ کی بنا پر اس زمانی تبدیلی کو سمجھنے میںناکام رہی۔ چنانچہ ان کی ساری کوششیں بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔
قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی یہ سوچ درست سوچ نہ تھی کہ اہل کتاب سے علم اور تجربے کی سطح پر استفادہ نہ کیا جائے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے:فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16:43)۔ یعنی، اہل علم سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے۔اکثر مفسرین کے نزدیک اہل ذکر سے مراد اہل کتاب ہیں۔یہ آیت بتاتی ہے کہ لرننگ کے لیے امت کا دائرہ کیا ہے۔امت کے لیے لرننگ کا دائرہ امت کے باہر کے افراد بھی ہیں۔ یعنی قرآن کے نزول کے بعد وہ دور اب ختم ہو گیا کہ آپ یہ سوچیں کہ تعارف اسلام کے لیے کس کے علم اور تجربےاور کس پلیٹ فارم کو استعمال کریں، اور کس کو نہیں۔ آنے والا دور یونیورسل آؤٹ لک کا دور ہے۔اب ساری دنیا مشترک طور پر ہر ایک کا پلیٹ فارم ہے۔ آپ اگر پیس فل اور پازیٹیو انداز اختیار کریں تو ساری دنیا آپ ہی کا پلیٹ فارم ہے۔
دور جدید میں اہل کتاب کون لوگ ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو سائنسی تہذیب کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ڈائسپورا میں بھیجے گئے۔ ڈائسپورا میں بھیجنے کا مقصد کنڈیشننگ توڑنا تھا۔جدید دور اسی ڈی کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے۔اب اہل ایمان کی ذمے داری ہے کہ وہ خدا کے منصوبے کو دریافت کریں، اور اس میں اپنے آپ کو لگانے کے لیے دوڑ پڑیں۔ وہ خدا کے مشن کو کامیابی کے ساتھ گلوبل لیول پر جاری کرنے کے لیے اہل کتاب کے ڈسکورڈ علم اور تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔
