دریافت نہ کہ نفاذ
گلیلیو گلیلی (1564-1642ء) کو فادر آف ماڈرن سائنس کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے— کسی کو کوئی چیز سکھانا تمھارے بس میں نہیں ہے، تم صرف اس کی مدد کرسکتے ہو کہ وہ اس چیز کو بذاتِ خود دریافت کرے:
You cannot teach a man anything; you can only help him discover it himself.
یہی اسلام کی تعلیم ہے۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺکواپنا پیغام پہنچانے کے لیے جو طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا، وہ یہ ہے وَقُلْ لَہُمْ فِی أَنْفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا (4:63)۔ یعنی، اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر نے والی ہو۔اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ لوگوں سے زور زبردستی اپنی بات نہ منواؤ،بلکہ ان سے ایسی زبان میں خطاب کرو جو اُن کے لیے قابلِ فہم ہو اور ان کے ذہن کو ایڈریس کرے۔
اسلام نفاذ(enforcement) کاموضوع نہیں ہے۔ بلکہ وہ انسانی ذہن کو ایڈریس کرنے کاموضوع ہے۔ تاکہ انسان خدائی پیغام کو ڈسکور کرکے خدا کے آگے خود کو سرینڈر کرے۔قرآن کے مطابق، موجودہ دنیا دار الامتحان (الملک،67:2) ہے، امتحان کی اسی مصلحت کی بنا پر موجودہ دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ تاکہ وہ اپنے اختیار (choice) سے اس کو مانے یا اس کا انکار کرے۔ قرآن میں ہے:فَذَكِّرْ إِنَّما أَنْتَ مُذَكِّرٌ : لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ (88:21-22)۔ یعنی، پس تم یاد دہانی کردو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں ۔
قولِ بلیغ میں کلام کرنےسے مخاطب کے اندر سنجیدگی کے ساتھ آپ کی باتوں پر غور وفکر کا ذہن پیدا ہوتا ہے، اس کی غفلت ٹوٹتی ہے، اس کے اندر نیا تفکیری عمل (thinking process)جاری ہوجاتاہے، اوروہ چیزوں پر ازسر نو غور کرنے لگتا ہے۔اس کے اندر ایک نیا مزاج ڈیولپ ہوتا ہے، جس کو قرآن میں معرفت یا عرفانِ حق (5:83) یا ربانی مزاج (3:79) کہاگیا ہے۔اسی حقیقت کو گلیلیو نے سائنس کے ریفرنس میں سیلف ڈسکوری سے تعبیر کیا ہے۔(ڈاکٹر فریدہ خانم)
