کتاب، حکمت
قرآن میں کتاب اور حکمت کا ذکر پیغمبر اسلام ﷺ کے ریفرنس میں سات مقام پر آیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے:هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (62:2)۔ یعنی، وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول انھیں میں سے اُٹھایا، وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کرسناتا ہے۔ اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
کتاب سے مراد قانونِ شریعت ہے، اور حکمت سے مراد طریقِ کار ۔ مثلاً نماز کا حکم شریعت سے تعلق رکھتا ہے، اور کعبہ میں بتوں کی موجودگی میں آپ نے کیا رویہ اختیار کیا، اس کا تعلق حکمت سے ہے۔ جہاں تک شریعت کا تعلق ہے، وہ متعین احکام کا نام ہے۔ اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا۔ لیکن حکمت شرعی قانون کی طرح ناقابلِ تغیر نوعیت کی چیز نہیں ہے، بلکہ وہ اس سے تعلق رکھتا ہے کہ مختلف حالات کے لحاظ سے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس لیے اس کو دوسرے الفاظ میں پریکٹکل وزڈم کہا جاسکتا ہے۔
مثلاً کعبہ میں حج کے مراسم کا تعلق محکم قانون سے ہے۔ اس کے برعکس، کعبہ کو بتوں سے پاک کرنا پریکٹکل وزڈم سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں تک کعبہ میں حج کے فرائض کی ادائیگی کا تعلق ہے۔ اس میں تغیر کرنا مطلوب نہیں ہے۔ اس کے برعکس، کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے کا تعلق پریکٹکل وزڈم سے ہے۔ حالات کے مطابق، جو طریقہ مفید ہو، وہ اختیار کیا جائے گا، اور جس طریقے سے غیرضروری نزاع پیدا ہو، اس کو ترک کردیا جائےگا۔ مذہبی اصطلاح میں اس کو بصیرت کہا جاسکتا ہے۔
اس حقیقت کو صحابی رسول عمرو بن العاص (وفات 43 ھ) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:لَيْسَ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنَ الشَّرِّ، وَلَكِنِ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْنِ(المجالسۃ و جواہر العلم للدینوری، اثر نمبر670)۔ یعنی، عاقل وہ نہیں جو خیر کے مقابلے میں شر کو پہچانے، بلکہ عاقل وہ ہے، جو دو شر کے درمیان کے خیر کو جانے۔
