اسٹیج ایکٹوزم کا دور
موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے اسٹیج ایکٹوزم کا زمانہ ہے۔ جو آدمی اسٹیج پر عوام پسند بولی بول سکے، وہ اچانک مقبولیت حاصل کرلیتا ہے۔ لوگ اس کی باتوں کو شوق کے ساتھ سنتے ہیں، اور تالیاں بجاتے ہیں۔ اس کو تیزی سے سستی مقبولیت (cheap popularity) حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ میڈیا میں نمایاں ہوجاتا ہے۔ خوبصورت الفاظ بولنا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ ہر جگہ سنا جائے۔ میڈیا میں اور اخبارات میں اس کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ مجلسوں میں اس کا چرچا ہوتا ہے، وغیرہ۔
اسٹیج کلچر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے اندر احتساب خویش (self-introspection)کا مزاج نہیں بن پاتا ہے،اس کے بجائے وہ احتساب ِ غیر میں جینے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کو خوش کرنے والی بولی بولتے ہیں۔ انھیں اس کا وقت نہیں ملتا کہ وہ اپنے بارے میں سوچیں، اور اپنے ذہنی ارتقا کی فکر کریں۔
