قرآن کے ٹکڑے کرنا
قرآن کی سورۃ الحجر میں ارشاد ہوا ہے:وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ كَما أَنْزَلْنا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَالَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ(15:89-91)۔یعنی، کہو کہ میں ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں ۔ اِس طرح ہم نے تقسیم کرنے والوں پر بھی اتارا تھا ، جنھوں نے اپنے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ۔
اِ س سلسلے میں ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیںکہ ایک شحض نے رسول اللہ ﷺ سے پو چھا:أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللهِ عز وجل كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِين، مَنِ الْمُقْتَسِمِين، قَالَالْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى. قَالَالَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ، مَاعِضِينَ؟ قَالَ آمَنُوا بِبَعْضٍ، وَكَفَرُوا بِبَعْضٍ(المعجم الاوسط للطبرانی،حدیث نمبر 6204)۔ یعنی، قرآن کی اِس آیت میں تقسیم کرنے والوںسے مراد کون ہیں، آپ نے فرمایا کہ یہود ونصاری ۔ پھر اُس آدمی نے پوچھا کہ عضین کا مطلب کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ بعض پر ایمان لائے اور بعض کا انکار کیا۔
اِس آیت کا ابتدائی انطباق (application)یہودونصاری پر ہے۔ جو دور سابق کے اہلِ کتاب تھے، اور توسیعی اعتبار سے، اس کا انطباق خود امتِ مسلمہ پر ہے۔قران کو ٹکڑے کرنے کا مطلب کیا ہے۔اس کامطلب یہ ہےکہ قرآن کی آیتوں کو ان کے انطباق کے اعتبار سےٹکڑے ٹکڑے کر دینا۔ قرآن میں جواحکا م ہیں اُن کو دوسرے گروہوں اورافراد سے اس طرح متعلق کر دینا کہ خوداپنے آپ سے تعلق رکھنے والی آیتیں بہت کم رہ جائیں ۔ مثلاًخیر امت جیسی کچھ آیتوں کو اپنے سے متعلق سمجھنا اور قرآن کی ذمہ داری اور جوابدہی سے متعلق تمام آیتوں کو دوسروں کے خانے میں ڈال دینا ۔جب کوئی امت کتاب ِ الٰہی کے ساتھ یہ معاملہ کرے تو کتابِ الٰہی اس کے لیے صرف فخر کی ایک کتا ب بن جاتی ہے ، نہ کہ زندگی کے لیے رہنما کتاب ۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہے۔ موجودہ زمانےکے مسلمانوں کے لیےقرآن صرف ایک قومی فخر کی چیز ہے۔ وہ ان کےلیے زندگی کو گائڈ کرنے والی کتاب نہیں۔
