خدا کا ذکر

30 اپریل تا 2 مئی 1984 میں گونڈہ میں تھا۔ وہاں میرا قیام جناب عبد المحیط خاں صاحب کے یہاں تھا جو گورنمنٹ پالی ٹیکنک میں پرنسپل ہیں۔ شہر کے باہر تقریباً 65 ایکڑ کے رقبہ میں ایک الگ تھلگ دنیا ہے جو درختوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ دہلی کے ہنگاموں سے نکل کر اچانک 30 اپریل کی صبح کو میں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں قدرت کے سکون کو صرف چڑیوں کے چہچہے توڑتے تھے۔ جہاں انسانی مصنوعات سے زیادہ خدائی مصنوعات دکھائی دیتی تھیں۔ رات کو لان میں چار پائی کے اوپر لیٹا تو کھلے آسمان کا وہ منظر دکھائی دیا جس میں خدا کے سوا کسی اور کا جلوہ شامل نہیں تھا۔ کھلا ہوا آسمان جس میں ستارے جگمگا رہے ہوں، ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو خدا کی عظمت کا زندہ اعلان بن جاتا ہے۔

 میں آسمان کے مہیب منظر میں کھویا ہوا تھا کہ ایک روشن چیز ایک طرف سے دوسری طرف جاتی ہوئی نظر آئی۔ یہ بظا ہر غیر متحرک ستاروں کے درمیان ایک متحرک ستارہ تھا۔ مجھے یاد آیا کہ یہ انسانی ساخت کا سیارہ ہے جو سورج کی روشنی پڑنے سے چمک رہا ہے ۔ آجکل مختلف ممالک نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنے خلائی سیارے اوپر بھیج رکھے ہیں جو مسلسل زمین کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور رات کے مختلف حصوں میں دیکھنے والوں کو نظر آتے ہیں۔ یہ مصنوعی سیارہ دیکھنے میں ایک روشن ستارہ تھا۔ دوسرے تارے بظاہر ٹھہرے ہوئے تھے اور وہ تیزی سے ایک طرف سے دوسری طرف کو چلا جار ہا تھا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آسمان کے ستارے اس سے کہیں زیادہ روشن ہیں اور کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ گر دش کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ستارے ٹھہرے ہوئے نظر آتے ہیں اور مصنوعی سیارے متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ستارے بہت زیادہ دور ہیں اور مصنوعی سیارہ بہت زیادہ قریب۔ نیز یہ کہ ستاروں کی روشنی ان کی اپنی روشنی ہے اور مصنوعی سیارہ کی روشنی صرف سورج کی روشنی— اگر سوچنے والی عقل نہ ہو تو صرف دیکھنے والی آنکھ آدمی کو کتنی بڑی غلطی میں مبتلا کر سکتی ہے۔

 کائنات خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ آدمی اس کے اندر سفر کرتا ہے مگر اس کے سفر میں اور مصنوعی سیارہ کے سفر میں کوئی فرق نہیں۔ انسان خدا کی دنیا میں اپنے صبح و شام بِتاتا ہے مگر خد اسے اس کی ملاقات نہیں ہوتی۔ اس کی زندگی میں کوئی ایسا موڑ نہیں آتا جب کہ خدا سے اس کا سامنا ہو اور وہ اس سے باتیں کرے۔ خدا کی تجلیوں میں سے کسی تجلی سے اس کی نظر نہیں ٹکراتی جو اس کو تڑپائے اور اس کو اشک بار کر دے۔

یکم مئی کا سورج طلوع ہوا اور ہرے بھرے درختوں پر اس کی سنہری کرنیں پڑیں تو درخت اس کی روشنی سے چمک اٹھے۔ چڑیاں پھد کنے اور چہچہانے لگیں۔ درختوں کی شاخیں ہو اؤں میں ہلتی ہوئی دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا گویا وہ ربانی نغمہ کو سن کر رقص کر رہی ہوں۔ سارا ماحول قدرتی حسن کے سیلاب میں ڈوب گیا۔ اچانک میری زبان پر قرآن کی یہ آیتیں آگئیں :

وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّها وَوُضِعَ الْكِتابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَداءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ (39:69)۔ یعنی، اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ اور کتاب رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور گواہ حاضر کیے جائیں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔

میں نے کہا ، آج کی دنیا سورج کےنور سے روشن ہوتی ہے، آخرت کی دنیا براہ راست نورِ خداوندی سے روشن ہوگی ۔ آج کائنات کی چیزیں خدا کے آلاء (کرشموں) پر غیر ملفوظ حمد کہہ رہی ہیں ، آخرت میں ساری کائنات ملفوظ طور پر الحمد للہ رب العٰلمین کہہ اٹھے گی ۔ آج ہر آدمی اپنی مرضی چلانے کے لیے آزاد ہے ، آخرت میں کتاب اور میزان عدل کی حکمرانی ہوگی۔ آج دھاندلی اور موقع پرستی میں زور ہے ، آخرت میں صرف ان باتوں میں زور ہو گا جن کو لے کر انبیاء اور شہدا کھڑے ہوئے۔

خدا کے ظہور کے بعد دنیا کیسی عجیب و غریب دنیا ہوگی۔ اس کا ابتدائی انداز ہ اسی فانی دنیا میں ہو رہا ہے ۔ یہاں قدرت کی دنیا کو دیکھیے۔ سورج یہ مظاہرہ کر رہا ہے کہ تاریک مادہ کس طرح خدا کے حکم سے روشن ہو جاتا ہے۔ درخت یہ منظر پیش کر رہے ہیں کہ خدا کس طرح مادہ کو شاداب درخت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ زندگی کی انواع بتا رہی ہیں کہ خدا کا اشارہ پاکر کس طرح بے جان چیز جاندار کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ انسانی دماغ کا حیرت ناک واقعہ بتا رہا ہے کہ بے شعور جسم کس طرح شعور اور ارادہ کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔

خدا کی دنیا کیسی عجیب ہے ، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ ہم یہ سوچیں کہ کیا تمام انسان مل کر ایسی دنیا بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان مل کر ایک پتی بھی نہیں بناسکتے اور کائنات کایہی ایک پہلو اس کی حیرت ناکی کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

انسان کے لیے کوئی ایسا کارخانہ بنا ناممکن نہیں جس کے اندر مٹی ڈالی جائے اور وہ درخت بن کر نکلے جس کے اندر گھاس ڈالی جائے اور وہ دودھ اور گوشت بن کر نکلے۔ جس کے اندر لکڑی اور پتھر ڈالا جائے اور وہ پھول اور پھل بن کر نکلے ۔ مگر خدا کی دنیا میں ہر آن بے حساب مقدار میں یہ سارے واقعات ہو رہے ہیں۔

 امریکی انسان جب خلائی جہاز کے ذریعہ چاند پر پہنچا تو میں اس روز رات کو ایک اردو اخبار کے دفتر میں گیا۔ اس وقت ٹیلی پرنٹر پر تفصیلات آرہی تھیں اور وہ مسلسل ترجمہ کر کے کاتب صاحبان کو دی جارہی تھیں ۔ ایڈیٹر صاحب نے گفتگو کے دوران کہا:بڑی تھرلنگ نیوز آرہی ہیں۔

میں نے سوچا، کیسی عجیب بات ہے کہ انسانی واقعات لوگوں کے اندر تھرل (thrill)پیدا کر رہے ہیں۔ مگر خدائی واقعات ان کے اندر کوئی تھرل پیدا نہیں کرتے۔ لوگ مخلوقات کے کارناموں کو دیکھ کر جھوم اٹھے ہیں مگر خالق کے کارناموں کو دیکھ کر جھومنے والا کوئی نہیں۔

گراموفون کا ریکارڈ بظاہر ایک کامل خاموش تختی ہے۔ لیکن اگر اس کے اوپر سوئی رکھ دیجیے تو اچانک وہ ایک انتہائی بولنے والی تختی بن جائے گی۔ یہی حال موجودہ کائنات کا ہے ۔ کائنات بظاہر انتہائی خاموش ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ریکارڈ سے زیادہ آواز یں اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ خدا نے کمال درجہ قدرت کے ساتھ ایک انتہائی بولتی ہوئی کائنات کو ایک انتہائی خاموش کائنات میں تبدیل کر دیا ہے ۔ تاکہ اس کے سریلے نغموں کو وہی لوگ سنیں جو اس کو سننے کا حق رکھتے ہیں۔ اور جو ناکا رہ لوگ ہیں وہ اس کو سننے اور جاننے سے اندھے بہرے بنے رہیں۔

 آج کی دنیا کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ یہی اندھا پن اور بہر اپن ہے۔ کائنات خدا کا انتہائی کھلا ہو ا ظہار ہے۔ مگر یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا اظہار آج سب سے زیادہ چھپا ہوا واقعہ بن گیا ہے۔ آج نہ کوئی آنکھ ہے جو اس کو دیکھے اور نہ کوئی زبان ہے جو اس کو بیان کرے ۔

خدا کی دنیا خدا کی باتوں سے خالی ہو رہی ہے ۔ آج انسانوں کی عظمت بیان کرنے والے بے شمار ہیں، مگر خدا کی عظمت بیان کرنے والا کوئی نہیں ۔ تاریخی نشانیوں کو دیکھ کر لوگ تڑپ رہے ہیں، مگر خدا کی نشانیوں کو دیکھ کر تڑپنے والا کوئی نہیں۔ مخلوقات کی شان میں گم ہونے والے بے شمار ہیں، مگر خدا کی شان میں گم ہونے والا کوئی نہیں۔

آہ ، کیسی عجیب ہے وہ دنیا جہاں ہر طرف دوڑ لگ رہی ہو، مگر خدا کی طرف دوڑنے والا کوئی نہ ہو۔ جہاں انسانی تقریریں سننے کے لیے لوگوں کی بھیڑ جمع ہو، مگر جہاں خدا کی آواز نشر کی جا رہی ہے وہاں سناٹے کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔

اگر کوئی شخص دور کائنات میں کھڑے ہو کر پوری کائنات کو دیکھ سکے تو وہ ایک حیرت انگیز منظر کو اپنی آنکھ سے دیکھے گا۔ وہ دیکھے گا کہ ایک اتھاہ کا ئنات ہے جس میں یا تو دہشت ناک خلا ہے، یا دہکتے ہوئے ستارے یا پھر خشک دوڑتی ہوئی چٹانیں ۔ اس نا قابل قیاس حد تک وسیع کائنات میں ایک ہی استثنا ہے اور وہ اس چھوٹے سے ذرے کا ہے جس کو زمین کہتے ہیں ۔ معلوم کا ئنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا کرہ ہے جہاں پانی کی روانی ہے۔ جہاں ہر یالی کا رقص ہے۔ جہاں ز ندگی کی رعنائیاں ہیں۔ جہاں یہ حیرت ناک واقعات پائے جاتے ہیں کہ مادہ ہریالی میں تبدیل ہو۔ جہاں گھاس کھانے والے گھاس کھا کر اس کو دودھ اور گوشت میں کنورٹ کریں۔ جہاں وہ انسان ہو جو دیکھے اور سوچے اور نقشہ بنائے ۔

ایسی استثنائی زمین پر انسان کو بسانا بتاتا ہے کہ خدا انسان کے اوپر ایک استثنائی انعام کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ کائنات کے اندر ایک انوکھی دنیا بنائی جائے جس کا نام جنت ہو۔ جہاں ہر قسم کی لذتیں جمع ہوں۔ جو ہر قسم کے ناموافق حالات سے پاک ہو ۔ جو خدا کی صفات کمال کا ابدی ظہور ہو۔

’’ یہ انوکھی جنت کس کو ملے گی‘‘، میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ اور قدرت کی حسین دنیا میرے لیے اس سوال کا جواب بن گئی۔ موجودہ زمین گویا ایک قسم کا ابتدائی نمونہ ہے، جو بتاتا ہے کہ خدا آئندہ اپنی پسند کی کون سی دنیا بنانا چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہ وہ اپنی پسند کی اس دنیا میں کس قسم کے لوگوں کو بسائے گا— جنت اس کو ملےگی جو خدا کی دنیا میں درخت کی طرح شادابی کا ثبوت دے۔ وہ اس کو ملے گی جو چڑیوں کی طرح خدا کی حمد کے نغمے گائے ۔ وہ اس کے حصہ میں آئے گی جس کی روح سورج اور چاند کی طرح خدا کے نور سے چمک اٹھی ہو۔

یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی دنیا میں خدا کے داعی بنتے ہیں ۔ خدا کی دعوت خدا کے اس خاموش پیغام کی ترسیل (relay)کا دوسرا نام ہے جو کائنات میں ہر آن نشر ہو رہا ہے۔ خدا کا داعی وہ ہے جو خدا کے فیضان کا آخذ (recipient)بن جائے۔ وہ بولے تو اس کی آواز زمین و آسمان میں بلند ہونے والی گونج سے ہم آہنگ ہو جائے ۔ اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمات، انسانی الفاظ میں اس حمد کی ترجمانی بن جائیں، جو چڑیوں کی زبان سے فطرت کے لہجے میں سنائی جارہی ہے۔ آخرت کا داعی بننے کے لیے دنیا سے بلند ہونا پڑتا ہے۔ لوگ دنیا میں گم ہیں پھر وہ آخرت کے داعی کیسے بن سکتے ہیں۔ داعی بھی اگر وہیں کھڑا ہوا ہو جہاں لوگ کھڑے ہوئے ہیں تو وہ کبھی لوگوں کے اوپر داعی نہیں بن سکتا۔(الرسالہ، نومبر 1984)

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion