معرفت، معلومات
ایک ہے دین کی معلومات، اور دوسری چیز ہے دین کی معرفت۔ معلومات ہمیشہ ایک قانونی نوعیت کی چیز ہوتی ہے۔ معلومات کی مثال ایسی ہے جیسے کمپیوٹر میں تمام قانونی دفعات بھر دیے جائیں۔ ایسا کمپیوٹر سوئچ دبانے پر اپنے اندر فیڈ کی ہوئی معلومات کو کاغذ پر لکھ دے گا۔ مگر ایسے کاغذ پر دین ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود نہ ہوگا۔ وہ ٹیکنکل یا فنی اعتبار سے الفاظ کا ایک مجموعہ ہوگا، لیکن وہ زندہ دین کا نمائندہ نہ ہوگا۔ وہ ایک الفاظ کا مجموعہ ہوگا جہاں بظاہر کچھ فنی معلومات تو ہوں گی، لیکن وہ زندہ وجود نہ ہوگا، جو قرآن کے الفاظ میں اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرے، اور اللہ سے سب سے زیادہ خوف کرے۔
دین کی معرفت ہمیشہ ایک زندہ انسان کے ساتھ ہوتی ہے۔ دین کی معرفت اور زندہ انسان جب دونوں اکٹھا ہوجائیں تو اس سے وہ ربانی انسان بنتا ہے جو جنتی اوصاف کا حامل ہو۔ جو ربانی حقیقت کاحامل ہو۔ جو اس قابل ہو کہ آخرت کی عدالت میں اس کو جنت میں آباد کرنے کے لیے منتخب کیا جائے۔
جو تقریر یا تحریر معلومات کی بنیاد پر کی جائے، وہ بظاہر شاندار ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کی مثال پلاسٹک کے پھول کی ہے، بظاہر شاندار لیکن حقیقت کے اعتبار سے مکمل طور پر بے روح۔ بظاہر وہ تقریر و تحریر ہوگی۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ نہ تقریر ہوگی، اور نہ تحریر۔ کیوں کہ اس میں الفاظ ہوں گے، لیکن اس میں اسپرٹ موجود نہ ہوگی۔
اس کے برعکس، وہ تقریر و تحریر جو معرفت پر مبنی ہو۔ اس میں علم کے ساتھ گہری معنویت ہوگی۔ اس میں الفاظ کے ساتھ اسپرٹ کا خزانہ ہوگا۔ اس میں صرف کان سے ٹکرانے والے الفاظ نہ ہوں گے، بلکہ دلوں میں اترنے والے حقائق بھی ہوں گے۔ اس میں کلام بھی ہوگا، اور کلام کے ساتھ داخلی کیفیات بھی۔
