سی پی ایس علما کو وصیت
میرے مر نے کے بعد آپ کو میری چرچا نہیں کرنی ہے، بلکہ میرے چھوڑے ہوئے دعوتی مشن کو آگے بڑھانا ہے ۔میرا مشن کیا ہے۔شخصیت کو چھوڑو، عظمت خداوندی کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ حدیث میں ہے:لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3445)۔ یعنی میرابیان بڑھا چڑھا کر نہ کرو، جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کابیان کیا ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کی چر چا میں نہیں لگنا چاہیے۔ جیسا کہ روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرنے ایک وفد ایک قوم کی طرف بھیجا تو ان سے کہا کہ ان کو حدیث نہ سنانا، کیوں کہ وہ قرآن میں مصروف ہیں:إِنَّكُمْ تَأْتُونَ أَهْلَ قَرْيَةٍ لَهُمْ دَوِيٌّ بِالْقُرْآنِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، فَلَا تَصُدُّوهُمْ بِالْأَحَادِيثِ، فَتَشْغَلُوهُمْ (شرح مشکل الآثار، اثر نمبر 6049)۔اس کو منکرینِ حدیث ، حدیثِ رسول کے انکار کے لیے بطوراستدلال پیش کرتے ہیں۔ مگر یہ غلط ہے۔ حضرت عمر کے قول کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ خدا کے چرچے میں ہیں، تم ان کو رسول کے چرچے میں مصروف نہ کرو۔یہی میری وصیت اپنی ذات کے لیے ہے۔ (بحوالہ ڈائری مولانا خطیب اسرار الحسن عمری، تامل ناڈو، 31جنوری 2012)
