علم کی حد
فلسفی یا سائنس داں، جس شخص نے بھی گہرا علمی مطالعہ کیا ہے، آخر میں وہ اس رائے پر پہنچا ہے کہ انسانی علم کی ایک حد ہے۔ اس حد سے آگے انسان کےلیے جانا ممکن نہیں۔ مثال کے طورپر فلسفیوں کے درمیان یہ بحث تھی کہ انسان کے وجود کا علمی ثبوت کیا ہے۔ مشہور فلسفی ڈیکارٹ نے کہا کہ میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں:
I think, therefore I am. (A Discourse on Method, Introduction, p. 17, 20)
مگر یہ جواب کافی ثابت نہیں ہوا۔ کیوں کہ دوبارہ یہ سوال سامنے آیا کہ یہ تو ایک داخلی ثبوت (subjective evidence)ہے، نہ کہ موضوعی ثبوت(objective evidence)۔ داخلی ثبوت کسی شخص کو ذاتی یقین دے سکتا ہے، لیکن دوسرے شخص کے لیے اس میں یقین کا سامان موجود نہیں۔ یہ یک طرفہ ثبوت ہے، نہ کہ دوطرفہ ثبوت۔
سائنس دانوں نے طبیعیاتی دنیا کا مطالعہ شروع کیا۔ آخر میں وہ ایٹم تک پہنچے۔ لیکن ایٹم بھی ٹوٹ گیا اور اس کے بعد جو کچھ تھا وہ ناقابل مشاہدہ تھا، یعنی ایک سائنس داں کے الفاظ میں قیاسی لہریں (waves of probability)۔ اس کے بعد سائنس داں اس ناقابل حل سوال میں مبتلا ہوگئے کہ ہماری دنیا کا وجود خارجی (objective) ہے یا داخلی (subjective)۔
علم کے تمام شعبوں کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیت کے ساتھ اس کی آخری حد تک نہیں پہنچ سکتا۔ ایسی حالت میں یہ سب سے بڑا علم ہے کہ انسان علم کی حد کو جانے۔ اس حقیقت کا اعتراف نہ کرنابے حد خطرناک ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کو صرف کنفیوزن (confusion) تک پہنچائے گا، نہ کہ یقین تک۔ علم کا آخری مطلوب یقین ہے۔ جو طریق مطالعہ یقین تک پہنچائے وہ علم ہے، اور جو طریق مطالعہ بے یقینی یا کنفیوزن تک پہنچائے، وہ بلا شبہ بے علمی ہے، خواہ کوئی شخص اس کو علم کادرجہ دیتا ہو۔ (الرسالہ، جولائی 2015)
