قربانی کی صورتیں
ایک قربانی یہ ہے کہ آدمی مال کا نقصان اٹھائے، اور جسمانی تکلیف کو برداشت کرے۔ اس سے زیادہ بڑی قربانی وہ ہے، جب کہ مومن دین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنی خواہشات پر روک لگائے۔اسی لیے قرآن میں ان لوگوں کے لیے جنت کا اعلان ہے جنھوں نےاپنے نفس کو خواہش سے روکا:وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوى (79:40)۔ خواہشات پر روک لگانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان اپنی ضرورتوں میں کمی کو برداشت کرے۔ اگراس کے مقابلے میں کسی دوسرے کو ترجیح دی جارہی ہو، تو وہ اس کو پورے دل کی آمادگی کے ساتھ قبول کرلے۔ وہ زیادہ کام کرے، اور اس کے بدلے میں اس کو کم دیا جائے، تو وہ اس پر راضی ہوجائے۔ اس کی قربانیوں کا تذکرہ نہ ہو، جب کہ دوسرے کی قربانیوں کا خوب تذکرہ ہو،مگر وہ اس پر خوشی کے ساتھ راضی ہوجائے، وغیرہ۔
صبر کے مواقع صرف جنگ کے میدان میں نہیں ہوتے، بلکہ امن کے میدان میں اس سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ بلکہ موجودہ زمانے میں جنگ کے میدان میں صبر کی نوبت ہی نہیں آتی۔ موجودہ زمانہ ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں صبر کے مواقع زیادہ تر امن کے حالات میں پیش آتے ہیں۔ اس لیے اس انعام کو پانے کے مواقع جنگ کے میدان کے بجائے امن کے میدان کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔
کسی نے کہا ہے کہ سب سے بڑی قربانی رائے کی قربانی ہے۔ آپ جوش و خروش کے ساتھ ایک رائے پیش کریں، لیکن آپ کی رائے کو نظر انداز کردیا جائے، اور کسی دوسرے کی رائے کو قبول کرلیا جائے۔ آپ نے اپنے خیال سے ایک بڑا کام کیا ہو، لیکن ایسے شخص کو بڑا انعام دے دیا جائے، جس نے آ پ کے نزدیک کوئی بڑا کام نہ کیا ہو۔ اس طرح کے مواقع پر جو قربانی دی جائے، وہ زیادہ تر جذبات کی قربانی ہوتی ہے۔ لیکن جذبات کی قربانی کو برداشت کرنا، جسمانی قربانی سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔
