میں اہم تھا
اردو کے ایک مشہور شاعر میر تقی میر (1723-1810) کا شعر ہے:
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر میں بھی کبھو کسو کا سرِپُر غرور تھا
اس شعر کا پس منظر یہ ہے کہ میر تقی میر ایک قبرستان گئے، وہاں پر ایک مردہ انسان کی کھوپڑی ان کے پاؤں کے نیچے آگئی، اس پر انھوں نے انسانی کھوپڑی کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ شعر کہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی حقیقت نہیں بھولنی چاہیے۔ وہ بے شک اپنی زندگی میں کتنا ہی امیر کبیر،اور کتنا ہی عظمت والا رہا ہو، مرنے کے بعد دنیا سے اس کو خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ مرنے کے بعد انسان کی ساری اکڑ اور اس کا سارا غرور خاک میں سما جاتا ہے۔
ایک صاحب کا واقعہ ہے۔وہ ایک مرتبہ کسی کے جنازے میں قبرستان گئے، وہاں انھوں نے ایک قبر پر یہ لکھا ہوا دیکھا تھا— میں اہم تھا، یہی میراوہم تھا۔حقیقت یہی ہے کہ انسان اپنی طاقت اور جوانی کے دنوں میں اپنی موت کو بھلائے رہتا ہے، مگر جب اس کا بڑھاپا آتا ہے، یااس کی موت آجاتی ہے تو اس کی ساری شان و شوکت ختم ہوجاتی ہے۔گویا وہ اس انسان کی نہیں تھی۔
ایک قاریِ الرسالہ کا واقعہ ہے۔ جوانی کی عمر میںان کا انتقال ہوگیا۔ پہلی بار جب میں اُن سے ملا تھا تو بظاہر وہ بالکل تندرست اور صحت مند نظر آتے تھے۔ بعد کو اُنھیں کینسر کی بیماری ہوگئی۔ علاج کے باوجود مرض بڑھتا گیا، یہاں تک کہ وہ صاحب فراش ہوگئے۔ آخری زمانے میں اُن کا حال یہ تھا کہ وہ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن چکے تھے۔ اُس زمانے میں کوئی شخص ان کی عیادت کے لیے آتا تو وہ اُس سے کہتے کہ تم میرے بارے میں نہ سوچو، بلکہ خود اپنے بارے میں سوچو۔ تم شکر کرو کہ تم کو صحت مند جسم حاصل ہے۔ تم کھانا کھاتے ہو اور پانی پیتے ہو اور زمین پر چلتے ہو۔ یہ سب چیزیں خدا کا عطیہ ہیں۔ وہ جب چاہے، اِس عطیہ کو چھین لے اور پھر تمھارے پاس کچھ بھی باقی نہ رہے۔
انسان کو ایک صحت مند جسم ملا ہوا ہے۔ انسان کو پیدا ہونے کے بعد یہ صحت مند جسم بظاہر اپنے آپ مل جاتا ہے، اِس لیے وہ اُس کو فار گرانٹیڈ(for granted) لے لیتا ہے۔ وہ کبھی سوچتا نہیں کہ یہ صحت مند جسم سرتاسر خدا کا عطیہ ہے۔ اِس عطیہ کا اعتراف کرتے ہوئے مجھے خدا کے آگے جھک جانا چاہیے۔ یہی معاملہ عمر کا ہے۔ آدمی جب تک زندہ ہے، وہ سمجھتا ہے کہ اس کی یہ زندگی ہمیشہ باقی رہے گی۔ وہ کبھی اپنی موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی بھول ہے۔
یہی ہر عورت اور ہر مرد کا امتحان (test)ہے۔ کامیاب شخص وہ ہے جو زندگی سے زیادہ موت کے بارے میں سوچے، جو ہر ملی ہوئی چیز کو خداوند ِ عالم کا عطیہ سمجھے۔ یہی وہ انسان ہے جو امتحان میںکامیاب ہوا۔ اِس کے برعکس، جو انسان خدا کا اعتراف نہ کرے اور موت کو بھلائے ہوئے ہو، وہی وہ شخص ہے جو ا متحان میں ناکام ہوگیا۔ پہلے انسان کے لیے ابدی جنت ہے اور دوسرے انسان کے لیے ابدی ناکامی ۔
