ایک قابلِ ذکر واقعہ

مولانا بلال احمد مدنی صاحب کا تعلق یوپی سے ہے۔ انھوں نے 31 مارچ 2026 کوالرسالہ آفس کے واٹس ایپ پر درج ذیل سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے:

’’کبھی کبھی ایک چھوٹا سا حادثہ معاشرے میں ایک بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، لیکن اگر اس نازک موڑ پر ردِ عمل (reaction) کے بجائے حکمت (wisdom) سے کام لیا جائے، تو بھڑکتی ہوئی آگ کو نہ صرف ٹھنڈا کیا جا سکتا ہے بلکہ اسے محبت کے گلزار میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک سبق آموز واقعہ 10جنوری 2011 کی ایک رات کو بنارس کےایک  محلہ میں پیش آیا۔اس وقت مولانا وحید الدین صاحب کی باتوں نے میری درست رہنمائی کی اور ایک فرقہ وارانہ فساد ٹل گیا۔

میں اپنے مکان کی تعمیر کے سلسلے میں رات کے وقت ملبہ ہٹوا رہا تھا۔ اتفاقاً ملبہ لادنے والے ٹریکٹر نے پیچھے ہوتے وقت وہاں موجود ایک قدیم’’ کالی جی مندر‘‘ کی سیڑھی کوٹکرمار دی، جس سے مندر کی سیڑھی ٹوٹ گئی۔ حادثہ مذہبی نوعیت کا ہونے کی بنا پر انتہائی حساس تھا۔ ڈرائیور خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلا، لیکن میں نے نہ فرار کی راہ اختیار کی اور نہ ہی معاملے کو چھپانے کی کوشش کی۔

میں نے سوچا کہ جب مندر آنے والے لوگ اس منظر کو دیکھیں گے تو وہ اسے ’’مندر پر حملہ‘‘ قرار دے کر فرقہ وارانہ رنگ دے سکتے ہیں۔چنانچہ میں نےفیصلہ کیا کہ رات کو اسی جگہ ٹھہرنا  چاہیے۔ رات کے تین بجے تقریباً دو سو افراد پر مشتمل نوجوانوں کا ایک ہجوم انتہائی اشتعال میں شور مچاتا ہوا وہاں پہنچا۔ میں اس مشتعل ہجوم کے سامنےاکیلے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہوگیا، اور بڑے تحمل اور نرمی سے کہا’’:اس حادثے کا ذمہ دار میں ہوں۔ یہ گاڑی میرے کام کے لیے ہائر کی گئی تھی، اس لیے یہ میری غلطی ہے۔ آپ جو چاہیں سزا دیں، میں حاضر ہوں، اور اگر آپ موقع دیں تو میں صبح ہی اسے پہلے سے بہتر تعمیر کرا دوں گا۔‘‘یہ غلطی کا اعتراف اور معذرت خواہانہ انداز ایک ’’اخلاقی بم‘‘ ثابت ہوا۔ ہجوم کا سارا اشتعال ایک لمحے میں سرد پڑ گیا۔ مجمع میں سے ایک آواز آئی’’:ارے! یہ تو مولانا بلال صاحب ہیں، بہت بھلے اور سجن انسان ہیں۔ ہمیں لگا مندر پر حملہ ہوا ہے، کوئی بات نہیں آپ اسے بنوا دیجیے گا۔‘‘ اور وہ مجمع جو خون بہانے آیا تھا، پُر امن طریقے سے واپس لوٹ گیا۔ اگلے دن مولانا نے اس سیڑھی کی تعمیر پہلے سے بہتر طریقے سے کرا دی۔

مولانا وحید الدین خان صاحب اکثر فرماتے تھے کہ ’’مسائل کے حل کی طاقت ٹکراؤ میں نہیں بلکہ اعتراف اور نرم روی میں ہے‘‘۔ جب انسان اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے تو وہ دوسرے فریق کی انا (ego) ختم کر دیتا ہے۔ سچے دل اور نرم انداز میں مانگی گئی معافی کسی بھی بڑے سے بڑے ہجوم کے اشتعال کو انسانی ہمدردی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میرے ساتھ پیش آنے والا بنارس کا یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم اشتعال کے بجائے حکمت کا راستہ اختیار کریں، تو ہم نہ صرف بڑے نقصانات سے بچ سکتے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں انسانیت اور سچائی کے لیے احترام بھی پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘

ماہنامہ الرسالہ:صحابی رسول حبیب بن خماشہ کا قول ہے:مَنْ لَا ‌يَرْضَى ‌بِالْقَلِيلِ ‌مِمَّا ‌يَأْتِي بِهِ السَّفِيهُ يَرْضَى بِالْكَثِيرِ(المعجم الاوسط للطبرانی، اثر نمبر2258)۔ یعنی جو شخص نادان کے چھوٹے شر کو برداشت نہ کرے، اس کو نادان کا بڑا شر برداشت کرنا پڑے گا۔

مولانا وحید الدین خاں صاحب کہا کرتے تھے کہ اگر آپ فریقِ ثانی کی انا کو بھڑکانے کے بجائے ان کے ضمیر کو جگائیں تو وہ آپ کا دوست بن سکتا ہے۔ نرمی اور سمجھداری انسانی ضمیر کو جگانے کا طریقہ ہے۔انسان کی انا میں نفرت اور غصے کے جذبات موجود ہوتے ہیں، لیکن وہ خوابیدہ (dormant)  ہوتے ہیں۔ اس کو بیدار کرنا خود فریقِ ثانی کی طرف سے نہیں ہوتا، بلکہ اکثر ہماری طرف سے ہوتا ہے۔ ہم چاہیں تو اس کو سویا ہوا رہنے دیں، یا ردّعمل کا طریقہ اختیار کرکے اسے بھڑکا دیں اور اپنے لیے پہلے سے زیادہ بڑا مسئلہ پیدا کر لیں۔

 مولانا بلال مدنی صاحب نے نرمی کا طریقہ اختیار کرکے فریقِ ثانی کے ایگو کو بھڑکنے نہیں دیا، اور نتیجتاً ایک فرقہ وارانہ فساد ہوتے ہوتے ٹل گیا۔انھوں نے گویا فریق ثانی کے چھوٹے شر کو برداشت کیا، اس لیے انھیں بڑا شر برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حالات کتنے ہی کشیدہ ہوں، آپ نرمی اور تواضع کا طریقہ اختیار کرکے اس کو نارمل کرسکتے ہیں، نفرت کے ماحول کو محبت اور امن کے ماحول میں تبدیل کرسکتے ہیں، اور یہ کوئی بزدلی نہیں، بلکہ سب سے بڑی بہادری ہے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion