خدا کا وجود
کوالا لمپور ، ملیشیا کے سفر 1984کا واقعہ ہے۔ راقم الحروف کو المعہد العلمی للفكر الاسلامی (International Institute of Islamic Thought) کے تیسرے سیمینار میں مقالہ پڑھنے کے لیے بلایا گیا تھا، جو کوالالمپور میں منعقد ہوا تھا۔مہمانوں کے لیےایک بڑا ہال نماز باجماعت کے لیے خاص کیا گیا تھا۔ یکم اگست 1984کو جب میں اس ہال میں پہنچا تو وہاں کوئی نہ تھا۔ ہال کی لمبی دیواریں پوری کی پوری شیشہ کی تھیں، اس لیے باہر کی دنیا بھی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔ اندر ایک بہت بڑا کمرہ تھا جس کے اندر مکمل سنّاٹا تھا۔ باہر کی دنیا میں بھی چاروں طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف درخت اور پہاڑ اور بادل اور آسمان دکھائی دے رہے تھے۔
اس طرح کی ایک دنیا میں، میں اکیلے ایک انسان کی حیثیت سے کھڑا ہوا تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ میرا وجود خدا کے وجود کا ثبوت بن رہا ہے۔ جو لوگ خد ا کو نہیں مانتے وہ اسی لیے نہیں مانتے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس مادی کائنات میں کہیں کوئی زندہ اور باشعور ہستی بھی ہے۔ جو ہم سے الگ اپنا وجود رکھتی ہے۔ انھیں لوگوں کو اس وقت کوئی تعجب نہیں ہوتا جب کائنات کے کسی بعید مقام پر ایک نیا ستارہ دریافت ہو۔ وہ فوراً اس کو مان لیتے ہیں، مگران کو یہ یقین نہیں آتا کہ یہاں خدا جیسا کوئی زندہ وجود بھی ہے، جو کائنات میں کہیں متمکن ہے۔
مگرمذ کورہ ہال میں جب میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے تھا اور چیزوں کو دیکھ اور سمجھ رہا تھا تو اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں اپنے وجود کی صورت میں خدا کے وجود کو دیکھ رہا ہوں۔ ’’جیسے میں یہاں ہوں اسی طرح خدا بھی تو ہو گا‘‘ ۔ میں نے سوچا اگر یہاں ایک زندہ شخص موجود ہے تو کسی دوسرے مقام پر دوسری زندہ اور باشعور ہستی کیوں موجود نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا ۔ ایک ماننے اور دوسرے ماننے میں صرف درجہ کا فرق ہے ، ان میں نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔(الرسالہ، دسمبر 1984)
