داخلی آماد گی کے بغیرہدایت نہیں

قرآن کی سورۃ الانعام میں ارشاد ہو اہے:

وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ (6:111)۔ یعنی، اگر ہم ان پر فرشتے اتاردیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ساری چیزیں ان کے سامنے اکٹھا کردیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے، الایہ کہ اللہ چاہے،مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔

اس آیت میں إِلَّا أَن يَشَاءَ اللهُ ( الایہ کہ اللہ چاہے)سے مراد مشیتِ خداوندی نہیں ہے،بلکہ متابعتِ سنتِ الٰہی ہے۔ اصل یہ ہےکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہےکہ اس کو کا مل آزادی عطا فر مائی ہے۔ اس کے ساتھ انسان کو وہ عقل دی گئی ہے جو باتوں کی حقیقت کو سمجھے اور صحیح اور غلط میں فرق کرسکے ۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔جوآدمی اپنی خدا داد عقل کودرست طوپر استعمال نہ کرے، وہ ہدایت سے محروم رہے گا ۔

ہدایت کے سلسلے میں اصل چیز یہ نہیں ہےکہ آدمی کو محسوس طورپر تمام حقیقتیں دکھا دی جائیں ، بلکہ اس معاملے میں اصل فیصلہ کن چیز یہ ہےکہ آدمی اپنی عقل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ درست طورپر استعمال کرے۔وہ حاصل شدہ ڈاٹا (data)کا تجزیہ کرکے صحیح علم تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ محسوس حقیقتیں خواہ کتنی ہی زیادہ دکھائی جائیں، خواہ سارا عالمِ حقیقت ان کے لیے کھول دیا جائے، لیکن انسان اگر اپنی عقل کو درست طور پر استعما ل نہ کر ے تو وہ بدستور اندھا بنارہے گا۔ وہ حقیقتوں کو دیکھ کربھی حقیقتوں کا اعتراف نہیں کر ے گا۔ ابلیس کا واقعہ اس کا ایک کھلاہوا ثبوت ہے۔

 ابلیس تمام حقیقتوں کو محسوس طورپر دیکھ چکا تھا ،لیکن اس کی سرکشی نے اس کو اعترافِ حق سے محروم رکھا۔ حقیقت یہ ہےکہ داخلی آماد گی کے بغیرکسی چیز کا اعترف ممکن نہیں۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion