پوری زمین مسجد

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ مسند احمد (حدیث نمبر 22137)کے الفاظ یہ ہیں:پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کہا تھاکہ پوری زمین کو میرے لیے اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنادیا گیا ہے (وَجُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا)۔ اس حدیث میں یہ خوش خبری ہے کہ آنے والادور عالمی اظہارِ دین کا دور ہے۔ ایک وقت آنے والا ہے، جب کہ پوری زمین امت کے لیے دائرہ کار بن جائے گی۔ان کے لیے پوری دنیا میں اسی طرح پرامن طریقے سے خدائی مشن کا کام کرنا ممکن ہوگا، جیسے کہ وہ مسجد میں پرسکون طریقے سے عبادت کا کام انجام دیتے ہیں۔ اس روایت میں مسجد صرف مقام سجدہ کے معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وسیع تر معنی میں ہے۔ یعنی پوری دنیا آپ کے لیے مواقع کی دنیا بنادی گئی ہے۔ اب شکایت نہیں کرنا ہے، بلکہ مواقع کو تلاش کرکے اپنا کام کرنا ہے۔ پوری انسانیت کو خدا کے پیغام سے آگاہ کرنے کا کام کرو۔

 اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت کا مشن مکمل طور پر ایک پیس فل (peaceful) دعوہ مشن ہے، جیسے کوئی مسجد میں پرامن طریقے سے عبادت کا کام کرتا ہے۔ پیس فل دعوہ ورک کرنے والوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا ہے کہ وہ کامیابی کے ساتھ سارے عالم کو اپنا ورک پلیس (workplace) بنائے۔ 

دوسرے الفاظ میں یہ حدیث دورِ جدید کی پیشین گوئی ہے۔ یہی وہ دورِ جدید ہے جس میں انسانوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور دوسروں کو اس سے باخبر کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ اور یہ اس کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ قدیم دور مذہبی جبر کا دور تھا۔ اس دور میں کسی انسان کو نہ اپنی چوائس (choice) کے مذہب پر عمل کی آزادی تھی، اور نہ ہی وہ اس کی تبلیغ کرسکتا تھا۔ دور جدید تمام تر اہل مغرب کی دَین ہے، حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم بھی اسلام کی تائید کا کام کریں گے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّ اللهَ جَلَّ وعَزَّ لَيُؤَيِّدُ الإِسْلاَمَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی، بےشک اللہ تعالیٰ اسلام کی تائید ان لوگوں کے ذریعے کرے گا، جو اہل (دین) میں سے نہ ہوں گے۔ 

دورِ جدید حقیقت میں دور دعوت ہے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے دورِ انسانیت ہے، یعنی داعی تمام انسانوں کے لئے یک طرفہ طور پر خیرخواہ ہوتا ہے۔ اب داعی کی پلاننگ یونیورسل پلاننگ ہونی چاہیے۔ شرط صرف یہ ہے کہ داعی کے دل میں بالکل بھی منفی سوچ (negativity) نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارا آؤٹ لک یونیورسل آؤٹ لک ہونا چاہیے۔ پوری دنیا ہمارے لیے مدعوہے، اور ہم پوری دنیا کے لیے داعی ہیں۔ ایک مرتبہ پیغمبر اسلام نے کہا تھا:كَلِمَةٌ وَاحِدَةٌ تُعْطُونِيهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ، وَتَدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ(سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ417)۔ یعنی، ایک کلمہ جو تم قبول کرو گے، اس کے ذریعے تم عرب پر غلبہ حاصل کرلوگے، اور عجم تمھارے آگے جھک جائیں گے۔

یہ گویا اہل اسلام کےلیے رہنمائی ہے کہ آنے والے دور میں ان کو کیا کام کرنا ہے ۔ وہ کام ہے پوری دنیا میں توحید کا کلمہ یعنی توحید کی آئڈیالوجی کو پہنچانا۔ اوپر مذکور مسجد والی حدیث کو رسول اللہ کے اس دوسرے قول کے ساتھ ملایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب ساری دنیا میں اہل ایمان کو دین پر عمل کرنے اور دین کی دعوت دینے کی آزادی ہوگی تو امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دور کو اپنے لیے خدا کا عطیہ سمجھیں ، اورپرامن طریقے سے ساری دنیا میں توحید کا کلمہ پہنچائیں۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion