سیرتِ رسول کا انطباقی مطالعہ
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلو ہیں اور ان مختلف پہلوؤں پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ لیکن میرے علم کے مطابق، ایک پہلو ایسا ہے جس پر غالباً کوئی قابل ذکر کتاب نہیں لکھی گئی اور وہ ہے سیرت رسول کا انطباقی مطالعہ (applied study of seerah)۔ یعنی سیرت رسول کے موضوع پر ایسی کتاب جو آج کے ذہن کو ایڈریس کرے، اور آج کا انسان محسوس کرے کہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں وہ رہنمائی موجود ہے جس کی عہد حاضر کو ضرورت ہے۔
مثال کے طور پر محمد حسین ہیکل (1888-1956)نے سیرت رسول پر عربی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے، حیاۃمحمد (طباعتِ اول1935،502صفحات )۔اس کتاب کا تقریباً نصف حصہ وہ ہے جس میں مصنف نے سیرت رسول کے بارے میں مستشرقین کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔سیرت نگاری کا یہ انداز کسی اعتبار سے مفید ہو سکتا ہے۔میرے نزدیک اس سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ جدید تقاضوں کو سمجھا جائے اور سیرت پرایسی کتاب لکھی جائے جو جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔
مثال کے طور پر اگر ایک مصنف بدرا ور احد کے جنگی واقعات کی تفصیل بیان کرے تو آج کا انسان ان کو پڑھ کر زیادہ متاثر نہیں ہوگا۔اس کے برعکس،اگر یہ بتایا جائے کہ رسول اللہﷺ نے کس طرح پرامن انداز میں تبلیغ کی،کس طرح ٹکراؤ کے طریقے سے اعراض کیا اور کس طرح حدیبیہ کے معاہدۂ امن جیسی تدبیروں کے ذریعے عرب میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا، جو عملاً غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کے ہم معنی تھا تو یہ طریقہ آج کے ذہن کو زیادہ اپیل کرے گا۔
آج کے انسان کی سب سے اہم ضرورت کیا ہے۔ آج کے انسان کو ایسی آئڈیالوجی کی تلاش ہے جو اس کو ذہنی سکون (peace of mind)عطا کرنے والی ہو۔ آج کے انسان کو ایسے طریقِ کار کی تلاش ہے جو مکمل طور پر امن کے اصول پر مبنی ہو۔آج کے انسان کو ایسے اجتماعی اصول کی ضرورت ہے جو سماج کے مختلف طبقات کے درمیان امن قائم کرنے والا ہو۔
