اللہ کی قدرت

قرآن میں اللہ کی یہ صفت بتائی گئی ہےکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے( اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ)۔ یہ آیت معمولی لفظی فرق کے ساتھ قرآن میں تقریباً 40 بار آئی ہے۔یہاں یہ سوال ہےکہ اللہ کی قدرت سے کیا مراد ہے۔اللہ کی قدرت محدود ہے یا لامحدود۔اس کا جواب یہ ہےکہ اللہ کی قدرت بلا شبہ لامحدود ہے۔لیکن اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں ہمیں اس معروف اصول کو منطبق کرنا چاہیے جس کو التمييز بين الشيئين (principel of differentiation) کہا جاتا ہے،یعنی قدرت اور استعمالِ قدرت میں فرق کرنا۔اللہ تعالیٰ بلا شبہ لامحدود قدرت رکھتا ہے،لیکن وہ اس قدرت کا استعمال خود اپنے قائم کردہ اصول کے مطابق کرتا ہے۔

  اس اصول کی طرف اشارہ خود قرآن میں موجود ہے۔قرآن کی سورہ الانعام میں ارشاد ہوا ہے:كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ( 6:54)۔ یعنی کامل قدرت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ وہ اپنی قدرت کا استعمال رحمت کے اصول کے تحت کرے گا۔اس کی ایک معلوم مثال یہ ہےکہ یہ باپ اپنے چھوٹے بچے کو مار ڈالنے پر قادر ہوتا ہے،لیکن اس کی محبت پدری اس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہےکہ وہ اپنے بچے کو ہلاک کرے۔

  اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو اللہ اور انسان کی نسبت سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی جب اللہ ہر چیز پر قادر ہےتو انسانی اختیار کا درجہ کیا ہے۔اس سوال کا وہی جواب صحیح ہے۔ جو متکلمین کی اس جماعت نے دیا ہے، جن کو وسطیہ کہا جاتا ہے۔

  اصل یہ ہےکہ اللہ نے انسان کو موجودہ دنیا میں امتحان کی مصلحت کی بنا پر پوری آزادی دی ہے،لیکن یہ آزادی صرف اپنے ذاتی ارادے کی حد تک ہے۔اپنے ذاتی ارادے کے باہر وہ جو کچھ کرتا ہے،وہ خدا کی اسی دنیا میں کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ ہےکہ انسان اپنے ذاتی ارادے کے اعتبار سے آزاد ہے،لیکن وہ اپنی کارکردگی کے لیے مجبور ہےکہ وہ خدا کے پیدا کیے ہوئے انفراسٹرکچر (infrastructure) کو استعمال کرے ۔کیونکہ وہ اس کا بدل پیدا نہیں کر سکتا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion