ابوطالب کی وفات کے بعد

عربوں کے قبائلی رواج کے مطابق ،بنو ہاشم کے لیے ضروری تھا کہ وہ ابو طالب کی وفات کے بعد کوئی دوسرا رئیس قبیلہ منتخب کریں۔مقررہ رواج کے تحت یہ حق ابو طالب کے بھائی ابولہب کے حصہ میں آیا۔ ابولہب کا قبیلۂ ہاشم کا سردار بن جانا حضرت محمد کے لیے شدید تر مسئلہ کی صورت میں سامنے آیا۔ اب اس نے منصوبہ بنایا کہ حضرت محمد گوقبیلہ سے نکال دے جس کے بعد آدمی بے یارو مددگار ہو جاتا تھا اور اگر کوئی اس کوقتل کر دے تو اس کے قبیلہ سے اس کو جنگ نہیں کرنی پڑتی تھی۔

مکہ والوں نے اس سے پہلے بھی یہی مطالبہ کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ بنو ہاشم حضرت محمدکو اپنے قبیلہ سے نکال دیں تا کہ وہ آپ کوقتل کرسکیں۔ مگر ابو طالب، جو اس سے پہلے رئیس قبیلہ تھے، انہوں نے اس کو گوارا نہ کیا اور اپنے بھتیجے کو لے کر گھاٹی میں چلے گئے جہاں سختیاں برداشت کرتے ہوئے ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ بات بے حد اہم تھی۔ کیوں کہ عرب میں ہرشخص ایک قبیلہ کا جزء ہوتا۔ قبیلہ سے کٹنے کے بعد اس کی کوئی زندگی نہ تھی۔ ابولہب نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوقبیلہ بنوہاشم سے خارج کر دیا۔ اس طرح اس نے آپ کو تمام زندہ چیزوں سے الگ کر کے گویا ایک خشک بیابان میں ڈال دیا اور ناقابل کاشت صحرا کے سپرد کر دیا۔ اپنے قبیلہ سے کٹ کر آپ زمین میں بالکل تنہا ہو گئے۔ اس سے پہلے جب بھی آپ کوکوئی تکلیف ہوتی تھی تو حضرت خدیجہ آپ کے زخم دھوتیں اور آپ کی خدمت کرتیں۔ آپ کے چچا ابو طالب آپ کی دل داری کرتے۔ مگراب نہ خدیجہ اس دنیا میں رہ گئی تھیں اور نہ ابوطالب۔

اب آپ نے یہ کیا کہ حج کے موسم میں جب عرب کے مختلف قبیلوں کے لوگ مکہ آتے تو آپ ان میں سے ایک ایک کے پڑاؤ پر جا کر ان سے ملتے اور ان سے کہتے کہ مجھ کوا پنی حفاظت میں لے لو۔ تا کہ اپنا کام جاری رکھ سکوں۔

آپ قبیلہ بنو عامر کے پاس گئے تو انہوں نے آپ پر پتھراؤ کیا۔قبیلہ بنو محارب کے پاس گئے تو اس نے ابولہب کے ڈر سے آپ کواپنی حمایت میں لینے سے انکار کر دیا۔ عکاظ کے میلہ میں قبیلہ بنوکندہ کے پاس گئے اور اس سے کہا:أَدْعُوكُمْ إِلَى اللهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنْ تَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ(دلائل النبوۃ لابی نعیم الاصبہانی، حدیث نمبر 222)۔یعنی، میں تم کو ایک خدا کی طرف بلاتا ہوں اور اس بات کی طرف کہ تم جس طرح اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح میری حفاظت کرو۔مگر انہوں نے آپ کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ ایک اور قبیلہ نے آپ کی درخواست پر کہا کہ ‌لَا ‌نَطْرُدُكَ وَلَا نُؤْمِنُ بِكَ (ہم نہ تم کو دھتکاریں گے اور نہ تمہارے اوپر ایمان لائیں گے) السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ161۔ مختلف قبائل میں سے کوئی بھی قبیلہ آپ کی حمایت کرنے پر تیار نہ ہوا۔

 طائف کے باشندے دولت مند تھے۔ زراعت اور باغبانی کے علاوہ وہ سود کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ کہا جا تا ہے کہ وہ اصل سرمایہ کا صد فی صد سود وصول کرتے تھے۔ طائف میں اس زمانہ میں شمالی عرب کا واحد عرب طبیب حارث بن کلدہ رہتا تھا جس نے مورخ ابن خلکان کے بیان کے مطابق، علم طب ایرانیوں سے سیکھا تھا۔ اس زمانہ میں عرب کا سب سے بڑا نجومی بھی طائف میں رہتا تھا جس کا نام عمرو بن امیہ تھا۔ عربی زبان میں’’ طائف‘‘ دیوارکو کہتے ہیں۔ چونکہ یہ عرب کا واحد شہر تھا جس کے چاروں طرف دیوار تھی ،اس لیے اس کا نام طائف پڑ گیا۔

طائف کے ممتازلوگوں میں عبد یالیل ،مسعود اور حبیب بہت نمایاں تھے اور تینوں بھائی تھے۔ آپ نے سوچا کہ اگر انہوں نے میری بات مان لی تو ساری بستی میری بات مان لے گی۔ آپ سب سے پہلے انہی کے پاس گئے۔مگر تینوں نے نہایت حوصلہ شکن جواب دیا۔ عبد یالیل عبدالمطلب کارشتہ دار بھی تھا۔

’’خدانے کعبہ کی بے عزتی کے لیے تم کوہی نبی بنا کر بھیجا ہے ایک نے کہا۔

’’کیا اللہ کوتمہارے سوا کوئی اور رسول بنانے کے لیے نہیں ملا تھا‘‘ دوسرا بولا۔

’’اگرتم رسالت کے دعوے میں سچے ہو تو تم سے بات کرنا بے ادبی ہے اور اگرتم جھوٹے ہوتو تم سے مخاطب ہو نا ہماری شان کے خلاف ہے‘‘ تیسرے نے کہا۔

حضرت محمد طائف سے مایوس ہو کر واپس ہوئے تو ان لوگوں نے بستی کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ آپ کو گالیاں دیتے اور پتھر برساتے۔ اس وقت آپ کے ساتھ صرف زید بن حارثہ تھے۔ وہ پتھروں کی بو چھارا پنی چادر پر لیتے ، پھر بھی آپ کا جسم لہولہان ہو گیاحتیٰ کہ خون بہہ کر آپ کے جوتوں میں بھر گیا۔ حضرت محمد جب زخموں سے نڈھال ہو کر بیٹھ جاتے تو وہ آپ کا بازو پکڑ کر آپ کو کھڑا کر دیتے اور جب آپ چلنے لگتے تو پھر گالیوں اور پتھروں کی بارش کر دیتے۔ طائف کے سرداروں کو آپ کے خلاف اتنا شدید رویہ اختیار کر نے کی جرأت اس لیے ہوئی کہ نہیں معلوم ہو گیا تھا کہ قبیلہ بنو ہاشم نے آپ کوا پنی برادری سے خارج کر دیا ہے۔

یہاں تک کہ اس حال میں شام ہوگئی اور طائف کے لڑ کے واپس چلے گئے۔ سامنے عتبہ اور شیبہ، دو بھائیوں کا انگوروں کا باغ تھا، یہ مکہ کے رہنے والے تھے۔ حضرت محمد نے اس باغ میں پناہ لی۔ اس وقت دعا کرتے ہوئے آپ کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ آپ کی اس وقت کی کیفیت کے مکمل ترجمان ہیں۔ آپ نے کہا:اللَّهمّ إلَيْكَ أَشْكُو ضَعْفَ قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ420)۔ یعنی، اے اللہ میں تجھی سے اپنی کمزوری اور بے تدبیری اورلوگوں کی نگاہوں میں اپنی ذلت کی شکایت کرتا ہوں ۔

باغ والوں کو آپ کی حالت پر رحم آیا اور انہوں نے اپنے ایک غلام عداس کے ہاتھ انگور کے چند خوشے ایک طباق میں رکھ کر آپ کے پاس بھیجے۔آپ نےبسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ انگوراٹھایا اور اس کونوش فرمایا۔یہ غلام نصرانی، ’’بسم اللہ ‘‘پڑھ کر کھانے کا یہ طریقہ اسے علاقہ کے رواج کے خلاف معلوم ہوا۔ اس نے تعجب سے پو چھا کہ یہ طریقہ آپ نے کہاں سے سیکھا۔ آپ نے جواب میں غلام سے دریافت کیا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو، اس نے’’نینوا‘‘ کا نام لیا۔ حضرت محمد نے کہا’’ اس نینوا کے جہاں اللہ کے مقدس بندے یونس بن متّٰی پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ غلام کو اب اور بھی زیادہ تعجب ہوا۔’’ آپ یونس بن متّٰی کو جانتے ہیں‘‘۔ اس نے کہا۔ آپ نے جواب دیا’’ ہاں وہ میرے بھائی ہیں، وہ بھی نبی تھے، میں بھی نبی ہوں‘‘۔ غلام یہ سن کر آپ کے ہاتھ اور پیروں کو چومنے لگا اوراسی وقت اسلام قبول کرلیا۔

حضرت محمد طائف سے واپس آ کر مکہ کے باہر غار حرا میں ٹھہرے۔ مکہ میں دوبارہ داخل ہوکر امن کے ساتھ رہنے کے لیے آپ کو قبائلی رواج کے مطابق کسی کی ’’امان‘‘ کی ضرورت تھی۔ کیوں کہ اپنے خاندان سے آپ کٹ چکے تھے۔ آپ نے اخنس بن شریق اور سہیل بن عمر کے پاس پیغام بھیجا کہ وہ آپ کو اپنی امان میں لے لیں مگر وہ تیار نہ ہوئے۔ آخر آپ کی نظرمطعم بن عدی پر پڑی۔مطعم نے اس سے پہلے کئی بار آپ کی مدد کی تھی۔ اور خاندان نبوت کے مقاطعہ سے متعلق عہد نامہ کومنسوخ کرانے میں اس کا بہت حصہ تھا۔ حضرت محمد نے مطعم کوا پنی واپسی کی خبر دی اور پیغام بھیجا کہ وہ آپ کو اپنی پناہ میں لے لیں۔ مطعم نے فوراً اس کو قبول کر لیا اور اپنے چھ بیٹوں کوحکم دیا کہ اسلحہ بند ہو کر جاؤ اور محمد کو واپس لاؤ۔ مکہ میں داخل ہو کر آپ نے سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا مطعم نے اعلان کیا کہ:

’’میں نے محمد کو پناہ دی ہے خبر دارکوئی ان کو اذیت نہ پہنچائے‘‘۔

 مطعم کی اس امان نے آپ کو موقع دیا کہ آپ دوبارہ مکہ میں رہ کر نبوت کا کام کرسکیں۔مطعم جنگ بدر سے پہلے اسلام قبول کیے بغیر مر گئے۔حسان بن ثابت نے ان کا مرثیہ لکھا۔ جنگ بدر کے بعد جب قریش کے لوگ گرفتار ہو کر آپ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے فرمایا:

لَوْ كانَ الْمُطْعِمُ بن عَدِيٍّ حَيا ثُمَّ كَلَّمَنِي في هَؤُلاءِ النَّتْنَي لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ(السیرۃ النبویہ لابن کثیر، جلد2، صفحہ 182)۔یعنی،اگر آج مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور وہ ان نا پاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیتا۔

مکہ واپس آنے کے بعد آپ نے اس زمانہ میں سودہ سے نکاح کر لیا۔ سودہ اپنے شوہر کے ساتھ ہجرت کر کے حبشہ گئی تھیں۔مگران کے شو ہر وہاں پہنچ کر عیسائی ہو گئے۔سودہ ان سے طلاق لے کر مکہ واپس چلی آئیں۔ یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال پیش آیا۔ اس کے بعد ابوبکر نے جو پیغمبر  اسلام کے دوست اور ساتھی تھے، پیغمبر اسلام سے درخواست کی کہ ان کی لڑکی عائشہ کوا پنی زوجیت میں لے لیں۔ عائشہ کی عمراس وقت صرف سات سال تھی۔ اس لیے آپ نے کم سنی کی وجہ سے عذر رکیا۔ اس کے بعد ابو بکر کے اصرار پر620ء میں اس شرط پر نکاح ہوگیا کہ رخصتی بعد کو ہوگی۔ عائشہ سب سے پہلی خاتون ہیں جو مسلمان باپ اور ماں سے پیدا ہوئیں۔

طائف کا تجر بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سب سے زیادہ سخت تجربہ تھا۔ آپ کی اہلیہ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک بار آپ سے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ پر کیا احد سے بھی زیاد ہ سخت کوئی دن گزرا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔تمہاری قوم سے مجھ کو بہت سی تکلیفیں پہنچی ہیں۔ مگر میرے اوپر سب سے زیادہ سخت دن وہ تھا جس دن میں نے اپنے آپ کو طائف کے عبد یالیل کے بیٹے کے سامنے پیش کیا۔ اس نے مجھ کو نہایت برا جواب دیا۔

وہاں سے میں نہایت غم اور رنج کے ساتھ واپس ہوا۔ جب میں قرن الثعالب کے مقام پر پہنچا تو مجھ کو کچھ افاقہ محسوس ہوا۔ اس وقت میں نے اپناسراو پراٹھایا تو میں نے دیکھا کہ ایک بادل مجھ پر سایہ کیے ہوئے ہے۔اس کے اندر خدا کا فرشتہ جبریل ہے۔ جبریل نے وہیں سے مجھ کو آواز دی کہ اے محمد ، آپ کی قوم نے آپ کو جو جواب دیا ہے وہ اللہ نے سن لیا۔ اب اللہ نے آپ کے پاس پہاڑوں کے فرشتہ (ملک الجبال ) کو بھیجا ہے۔ آپ جوحکم چاہیں اس کو دیں۔ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے گا۔

اس کے بعد پہاڑوں کا فرشتہ میرے سامنے آیا۔ اس نے مجھ کو آواز دی اور مجھ کوسلام کیا۔ پھر کہا کہ اے محمد، اللہ نے مجھ کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ میں ملک الجبال ہوں۔ یہ تمام پہاڑ میرے قبضے میں ہیں۔ آپ جو چاہیں مجھ کو حکم دیں۔اگر آپ حکم دیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں اور طائف کے تمام لوگ اس میں پس کر رہ جائیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جوان کے جیسے نہ ہوں گے۔ وہ ایک اللہ کی عبادت کر یں گے اور اس کے ساتھ کسی کوشر یک نہ ٹھہرائیں گے۔

طائف کا یہ سفر ہجرت سے تین سال پہلے پیش آیا۔ وہاں سے واپس ہوتے ہوئے جب آپ نخلہ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ اس وقت صرف زید بن حارثہ آپ کے ساتھ تھے۔ یہ پورا سفر آپ نے پیدل طے کیا۔

آپ سخت پریشان تھے کہ مکہ کس طرح واپس جائیں۔سخت اندیشہ تھا کہ ان کو طائف کا قصہ معلوم ہو گیا تو وہاں کے لوگ اپنی مخالفت میں پہلے سے زیادہ جری ہو جائیں گے۔اس دوران رات کو یہ واقعہ ہوا کہ آپ نماز میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ کچھ جنات وہاں سے گزرے۔انہوں نے قرآن کو سنا تو وہ متاثر ہوگئے اوراس پر ایمان لائے۔

یہ جنات واپس ہوکر اپنی قوم میں پہنچے تو انہوں نے اپنی قوم میں دین اسلام کی تبلیغ شروع کردی۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے بغیر ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ آپ کو اس کی خبر کی۔ قرآن میں فرمایا گیا:اور جب ہم جنات کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے۔ وہ قرآن سننے لگے۔ پس جب وہ اس کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ چپ رہو۔ پھر جب قر آن پڑھا جا چکا تو وہ لوگ ڈرانے والے بن کراپنی قوم کی طرف واپس ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اے ہماری قوم، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعدا تاری گئی ہے۔ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کرتی ہوئی جو اس کے پہلے سے موجود ہیں۔ وہ حق کی طرف اور ایک سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

اے ہماری قوم، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔ اللہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اورتم کو دردناک عذاب سے بچائے گا۔ اورجو شخص اللہ کے داعی کی دعوت پر لبیک نہیں کہے گا تو وہ ز مین میںٹھہر نہیں سکتا۔ اور اللہ کے سوا اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ ایسے لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ (46:29-32)

یہ ایک خوش خبری تھی جو اللہ نے عین وقت پر اپنے پیغمبر کو پہنچائی۔اس میں بتایا گیا کہ زمین پر بسنے والوں کا ایک گروہ اگر قر آن کو ردکر رہا ہے تو عین اس وقت دوسرا گروہ اس کو قبول کر رہا ہے۔مزید یہ کہ وہ اتنی شدت کے ساتھ اس کو قبول کر ر ہا ہے کہ قبول کرتے ہی وہ اس دین کا مبلغ بن گیا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion