غزوۂ بدر اولیٰ

جمادی الاولیٰ2ھ

ہجرت کے آخری زمانہ میں مکہ کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے درپے ہوگئے تھے۔ انکے بڑے بڑے سردار اپنی قومی مجلس دارالندوہ میں جمع ہوئے تاکہ اس معاملہ میں مشورہ کر کے آخری فیصلہ کریں۔ مشورہ میں کسی نے کہا کہ محمد کو پکڑ کر کوٹھری میں بند کر دو یہاں تک کہ اسی کے اندر ان کی موت آ جائے۔ کسی نے کہا کہ ان کو مکہ سے جلا وطن کر دو۔ کسی نے کہا کہ تمام قبیلوں کے لوگ مل کر انہیں قتل کر دیں تاکہ ان کا خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہو جائے اور بنو ہاشم اس کا انتقام نہ لے سکیں(سیرۃ ابن ہشام،جلد2، صفحہ93-95)۔

مکہ کے اس واقعہ کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے__ اور جب منکرین تمہاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا تم کو قتل کر دیں یا تم کو جلاوطن کر دیں۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا۔ اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے(8:30)۔

اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل کر مدینہ آگئے۔ تاہم اب یہ ظاہر ہو چکا تھا کہ قریش صرف عام مخالفت پر رکنے والے نہیں ہیں بلکہ وہ جنگ کرکے اسلام اور اہل اسلام کو ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہجرت کے بعد برابر آپ مہاجر صاحبہ کے جاسوس دستے مکہ کے اطراف میں بھیجتے رہے تاکہ قریش جب جنگی اقدام کریں تو پیشگی طور پر ان کا اندازہ ہو جائے۔ ہجرت کے بعد مہاجر صحابہ پر مشتمل جو سرایا بھیجے گئے وہ زیادہ تر قریش کی جارحانہ سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے تھے۔

عشیرہ کی مہم بھی اسی قسم کی تھی جو جمادی الاولیٰ 2ھ میں پیش آئی۔ قریش کے بعد قافلہ کی خبر سن کر آپ200 مہاجرین کو لے کر عشیرہ کی طرف گئے جو ینبع کے قریب ہے۔ مگر ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ آپ چند روز کے بعد مدینہ واپس آگئے۔ اسی سفر میں آپ نے قبیلہ بنی مدلج سے وہ حلیفانہ معاہدہ کیا تھا جو تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 177)۔

عشیرہ سے آپ کی واپسی پر تقریباً دس دن گزرے تھے کہ قریش کی طرف سے براہ راست حملہ کا وہ واقعہ پیش آگیا جس کا اندیشہ تھا۔ قریش مکہ کے ایک سردار کرزبن جابر فہری نے ایک دستہ کے ساتھ مدینہ پر چھاپا مارا۔ یہ لوگ رات کے وقت مدینہ کے علاقہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے مدینہ کے مسلمانوں کی ایک چراگاہ پر شب خون مارا۔ وہ مسلمانوں کے اونٹ اور بکریاں لے کر بھاگ گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قریش کی طرف سے اس واقعہ کی خبر معلوم ہوئی تو فوراً ہی آپ صحابہ کا ایک دستہ لے کر حملہ آوروں کے تعاقب میں نکلے۔ اس تعاقب میں آپ صفوان کے مقام تک گئے جو بدر کے قریب واقع ہے۔ مگر آپ کے اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ہی قریش کا حملہ آور دستہ آگے جا چکا تھا۔ چنانچہ آپ صفوان سے واپس مدینہ چلے آئے۔ آپ نے صفوان سے آگے کی طرف سفر نہیں کیا۔

 یہ قریش کی طرف سے پہلا براہ راست حملہ تھا جو بدر کے قریب پیش آیا۔ اسی لیے اس کو غزوۃ بدر الاولیٰ کہا جاتا ہے۔ نیز مذکورہ سبب سے اس کو غزوۃ صفوان بھی کہتے ہیں۔ اس غزوہ کے لیے جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا۔

 کرز بن جابر قریش مکہ کے سرداروں میں سے تھے۔ بعد کو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اسلام کی صداقت ان پر واضح ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے مدینہ آ کر اسلام قبول کر لیا۔

قبول اسلام کے بعد انہوں نے بہت سی اسلامی خدمات انجام دیں۔ رسول اللہ نے بعد کو عرینیین کے تعاقب میں بیس سواروں کا ایک دستہ روانہ فرمایا۔ اس دستہ کا امیر آپ نے کرزبن جابر کو مقرر کیا۔ فتح مکہ کی مہم میں وہ شریک تھے۔ اس مہم میں وہ شہید ہوئے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion