نکاح سیدہ فاطمہ
2ھ
2ھ میں پیغمبر اسلام نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ کا نکاح علی بن ابی طالب سے کیا۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب میں نے نکاح کا پیام دینے کا ارادہ کیا تو دل میں یہ خیال آیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں حالانکہ شادی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے۔ جب میں نے اپنی درخواست آپ کی خدمت میں پیش کی تو آپ نے فرمایا تمہارے پاس مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز ہے۔ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا وہ زرہ جو تم کو جنگ بدر میں ملی تھی وہ کہاں ہے۔ میں نے عرض کیا وہ تو موجود ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہی زرہ فاطمہ کو مہر میں دے دو۔
حضرت علی نے اس زرہ کو حضرت عثمان کے ہاتھ480 درہم میں فروخت کر دیا اور یہ رقم لا کر رسول اللہ کے سامنے پیش کر دی۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ اس میں سے خوشبو اور کپڑے کا انتظام کر لو۔ رسول اللہ نے صاحب زادی کو جہیز میں جو سامان دیا وہ یہ تھا ایک سادہ لحاف، چمڑے کا معمولی گدا جس میں درخت کی چھال بھری ہوئی تھی، چکی، پانی کی مشک، اور دو مٹی کے گھڑے۔
