غزوۂ موتہ

جمادی الاولیٰ8ھ

موتہ ایک مقام کا نام ہے جو شام کی سرحد پر واقع تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلاطین اور امراء کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے تو شرحبیل بن عمر غسانی کے نام بھی ایک خط روانہ کیا۔ شرحبیل قیصر کی طرف سے شام کا امیر تھا۔ حارث بن عمیر جب آپ کا خط لے کر مقام موتہ پہنچے تو شرحبیل نے ان کو قتل کرا دیا۔ اس کے بعد آپ نے تین ہزار کا لشکر جمادی الاولیٰ میں موتہ کی طرف روانہ کیا۔

 زید بن حارثہ کو امیر لشکر مقرر کیا اور یہ کہا کہ اگر زید قتل ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب امیر لشکر ہوں اور اگر جعفر بھی قتل ہو جائیں تو عبداللہ بن ابی رواحہ امیر لشکر ہوں اور اگر عبداللہ بھی قتل ہو جائیں تو مسلمان جس کو چاہیں اپنا امیر بنالیں۔

اور ایک سفید جھنڈا زید بن حارثہ کو دیا اور کہا کہ وہاں پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا جب دعوت قبول نہ کریں تب ان سے قتال کرنا۔ اور وصیت کی کہ ہر حال میں تقویٰ اور پرہیز گاری کو ملحوظ رکھنا، اپنے ساتھیوں کی خیر خواہی کرنا۔

 جب شرحبیل کو اس لشکر کی روانگی کا علم ہوا تو ایک لاکھ کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے جمع کیا۔ اسی کے ساتھ ہر قل بھی مزید ایک لاکھ کی فوج لے کر شرحبیل کی مدد کے لیے پہنچا۔ جب مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ آخر میں یہ طے ہوا کہ مقابلہ کیا جائے اور موتہ کی طرف روانہ ہوئے۔ جنگ شروع ہوئی اور یکے بعد دیگرے زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ شہید ہوگئے۔ آخر میں اتفاق رائے سے خالد بن ولید کو امیر لشکر بنایا گیا۔ حضرت خالد نے محسوس کیا کہ یہ مقابلہ بالکل غیر متناسب ہے کیونکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار ہے اور دشمنوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے اس لیے وہ خاص تدبیر کرکے مدینہ واپس آگئے۔ بعد کو اسامہ بن زید کی سرداری میں مسلمانوں نے پیش قدمی کی اور ان کے اوپر فتح حاصل کی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion