سریہ عمر وبن العاص
جمادی الثانی8ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنی قضاعہ کی ایک جماعت مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس لیے آپ نے ان کے خلاف عمر وبن العاص کو ذات السلاسل کی طرف روانہ کیا۔ ان کے ساتھ تین سو آدمی تھے جن میں تیس سوار تھے۔ جب قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس نے رافع بن مکیث کو مدینہ روانہ کیا تاکہ آپ مدد کے لیے کچھ اور آدمی بھیجیں۔
آپ نے ابو عبیدہ بن الجراح کو دو سوآدمیوں کے ساتھ روانہ کیا جس میں ابو بکر و عمر بھی تھے۔ اور یہ ہدایت کی کہ جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف نہ کرنا۔ ابو عبیدہ جب وہاں پہنچے اور نماز کا وقت آیا تو امامت میں اختلاف ہوا۔ عمر وبن العاص نے کہا کہ امیر لشکر میں ہوں تم میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہو اس لیے امامت میرا حق ہے۔ اختلاف سے بچنے کے لیے حضرت ابو عبیدہ نے ان کی امامت کو تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد سب مل کر قبیلہ بنو قضاعہ پہنچے اور حملہ کیا۔ قبیلہ کے لوگ مرعوب ہوگئے اور اپنا مخالفانہ ارادہ ترک کر دیا۔
