غزوۂ بنی قریظہ
ذی قعدہ5ھ
غزوہ خندق کے خاتمہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن بنی قریظہ پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ بنی قریظہ پر چڑھائی کا اصل سبب ان کی غداری تھی۔ بنی قریظہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان معاہدہ تھا۔ جب قریش دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو بنی قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کو توڑ کر قریش کے ساتھ مل گئے۔ جب غزوہ احزاب میں ان کو شکست ہوئی تو بنی قریظہ قلعوں میں گھس گئے۔ آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ جتنی جلد ممکن ہو بنو قریظہ کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص بنی قریظہ کی بستیوں تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے۔پھر حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر بنی قریظہ کا محاصرہ کیا۔ پچیس روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا۔ طویل محاصرہ کے بعد آخر کار بنو قریظہ اس بات پر آمادہ ہوئے کہ رسول اللہ جو حکم دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ آپ نے ان کو یہ پیغام دیا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا فیصلہ تم ہی میں کا ایک شخص کر دے۔ انہوں نے کہا یارسول اللہ سعد بن معاذ جو فیصلہ کر دیں وہ ہمیں منظور ہے۔ چنانچہ سعد بن معاذ کو بلایا گیا اور آپ نے کہاکہ اے سعد ان لوگوں نے اپنا فیصلہ تمہارے سپرد کیا ہے۔ حضرت سعد نے تورات کے مطابق، یہ فیصلہ کیا کہ ان کے لڑنے والے قتل کیے جائیں اور عورتیں اور بچے غلام بنا لیے جائیں، اور ان کا تمام مال و اسباب مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے۔
