وفات
دوشنبہ12 ربیع الاول10ھ کوآپ کی وفات ہوئی۔ اس دن صبح کو آپ نے حجرے کا پردہ اٹھایا تو دیکھا کہ لوگ صف باندھے ہوئے صبح کی نماز میں مشغول ہیں۔ اس کو دیکھ کر آپ خوش ہوگئے۔ اسی دن آپ پر نزع کی کیفیت شروع ہوگئی۔ آپ اپنا سر حضرت عائشہ کی گود میں رکھ کر لیٹ گئے۔ اس عالم میں مسواک کیا۔ آپ کے پاس پانی کاایک پیالہ رکھا ہوا تھا۔ درد سے بے چین ہو کر بار بار ہاتھ اس پیالے میں ڈالتے اور چہرے پر پھیر لیتے اور یہ کہتے:اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک موت کی بڑی سختیاں ہیں(إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ)صحیح البخاری، حدیث نمبر4184۔ پھر چھت کی طرف دیکھا اور ہاتھ اٹھا کر فرمایا:اے اللہ، رفیق اعلیٰ، اور اس کے بعدآپ کی روح عالم بالا کو پرواز کی گئیاناللہ واناالیہ راجعون۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر تریسٹھ سال تھی۔ یہ بارہ ربیع الاول دوشنبہ کا دن تھا۔
