غزوۃ بدرثانیہ
رمضان2ھ میں پہلی باقاعدہ جنگ پیش آئی۔ اس کو غزوۃ بدر کہا جاتا ہے۔ بدر ایک گاؤں کا نام تھا جو مدینہ سے تقریباً80 میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ یہ جنگ اسی مقام پر ہوئی۔ اس لیے اس کو غزوۃ بدر کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اس مقام پر قریش کی جارحیت کا دوسرا واقعہ تھا، اس لیے اس کو غزوۃ بدر ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس وقت اہل ایمان کی تعداد نسبتاً بہت کم تھی۔ سامان جنگ بھی کم تھا۔ مگر اللہ کی مدد سے دشمن کے مقابلہ میں ان کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ اسی لیے قرآن میں اس کو یوم الفرقان کہا گیا ہے، یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا دن۔
مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو توحید اور آخرت کی دعوت دے رہے تھے۔ قریش، جو عرب کے سردار کی حیثیت رکھتے تھے، انہوں نے آپ پر اور آپ کے اصحاب پر ہر قسم کا ظلم کیا۔ حتیٰ کہ بعض مسلمانوں کو مارتے مارتے ہلاک کر ڈالا۔ مگر آپ ہر حال میں صبر کرتے رہے۔ آپ قریش کی زیادتیوں سے یک طرفہ طور پر اعراض کرتے ہوئے پرامن انداز میں ان کواپنا پیغام پہنچاتے رہے۔
جب قریش کا ظلم بہت بڑھ گیا تو آپنے اپنے اصحاب کو مکہ چھوڑ کر مدینہ جانے کی اجازت دے دی۔ ایک ایک کرکے لوگ اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ جاتے رہے آخر میں قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہ انتہائی اقدام کیا کہ آپ کو اپنے قبیلہ بنو ہاشم سے خارج کر دیا۔ اب بھی آپ مکہ میں مقیم رہے۔ اس کے بعد مکہ کی کونسل(دارالندوہ) میں تمام سردار جمع ہوئے۔ اور یہ طے کیا کہ آخری طور پر آپ کا خاتمہ کر دیا جائے۔
اس کے مطابق ستمبر 622ء کی ایک رات کو مکہ کے سرداروں نےتلوار سے مسلح ہو کر آپ کا مکان گھیر لیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ صبح سویرے جب حسب معمول آپ باہر نکلیں تو ایک بارگی آپ پر حملہ کرکے آپ کو قتل کر دیا جائے۔ مگر آپ کو اللہ کی مدد حاصل ہوئی۔ رات کے اندھیرے میں آپ مکان سے نکل کر مکہ سے ہجرت کر گئے۔ اور24 ستمبر622ء کو بحفاظت مدینہ پہنچ گئے۔
ان واقعات نے قریش کی جارحیت واضح طور پر ثابت کر دی تھی۔ اس لیے قرآن میں اصحاب رسول سے کہا گیا:
کیا تم ان لوگوں سے لڑو گے جنہوں نے اپنے عہد توڑ ڈالے۔ اور انہوں نے رسول کو وطن سے نکال ڈالنے کا قصد کیا۔ اور وہی ہیں جنہوں نے تم سے لڑنے میں پہل کی۔ کیا تم ان سے ڈرو گے۔ اللہ زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، اور ان کو رسوا کرے گا اور تم ان کو پر غلبہ دے گا اور مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا۔(9:13-14)
رسول اور اصحاب رسول نے قریش کی جارحیت کی بنا پر اپنا وطن اور اپنا مال و اسباب مکہ میں چھوڑ دیا۔ اور تمام لوگ ہجرت کرکے مدینہ آگئے۔ مگر قریش نے اب بھی اپنی جارحیت نہ چھوڑی۔ وہ برابر مختلف انداز سے اپنے جارحانہ عزائم کا اظہار کرتے رہے۔ اسی سلسلہ کا ایک واقعہ وہ تھا جس کو اسلامی تاریخ میں غزوۃ بدر اولیٰ کہا جاتا ہے۔
اب قریش نے ایک نیا جارحانہ منصوبہ بنایا۔ انہوں نے طے کیا کہ باقاعدہ تیاری کرکے مدینہ پر بھرپور حملہ کیا جائے۔ اور مسلمانوں کی طاقت کو بالکل توڑ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مکہ کے تمام قبیلوں اور خاندانوںنے مشترکہ مالی تعاون سے ایک رقم فراہم کی۔ اور پھر مکہ کے ایک تجربہ کار تاجر ابو سفیان بن حرب کی رہنمائی میں ایک تجارتی قافلہ شام بھیجا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ وہاں سے سامان تجارت لایا جائے اور اس کو بیچ کر اس کے نفع سے جنگی تیاری کی جائے۔
رمضان2ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ قریش کا مذکورہ تجارتی قافلہ شام سے واپس ہو کر مکہ جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ہزار اونٹ ہیں جن پر تجارتی سامان لدا ہوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے جارحانہ منصوبہ کا ناکام بنانے کے لیے یہ ارادہ کیا کہ اس قافلہ کو درمیان میں پکڑیں اور اس سامان کو مکہ پہنچنے نہ دیں۔ آپ مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ قافلہ کی طرف روانہ ہوئے۔
سردار قافلہ ابوسفیان کو اندیشہ تھا کہ مسلمان اس قافلہ کو روکیں گے۔ چنانچہ وہ لوگ ہرراہ گیر اور مسافر سے مدینہ کے حالات دریافت کرتے رہتے تھے۔ بعض مسافروں کے ذریعہ یہ خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ قافلہ کی طرف آ رہے ہیں۔ اس کے بعد ابوسفیان نے ضمضم غفاری کو اجرت دے کر مکہ کی طرف بھیجا اور کہلایا کہ فوراً مدد کے لیے پہنچو، ورنہ مسلمان ہمارے قافلہ کو لوٹ لیں گے۔
ضمضم غفاری نے مکہ پہنچ کر اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے اور چیخ چیخ کر مکہ والوں کو بتایا کہ تمہارا قافلہ خطرہ میں ہے فوراً دوڑو اور اس کی مدد کرو۔ اس خبر کے ملتے ہی تمام مکہ میں جوش و خروش پھیل گیا۔ اس لیے کہ مکہ کے تقریباً ہر مرد اور عورت نے اس تجارتی قافلہ میں اپنا سرمایہ لگا رکھا تھا۔ فوراً مکہ کے ایک ہزار آدمی پورے فوجی سامان کے ساتھ تیار ہوگئے اور ابو جہل کی سرداری میں روانہ ہوگئے۔ اس فوج میں ابولہب کو چھوڑ کر مکہ کے تمام سردار اور قابل جنگ افراد شریک تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم12 رمضان کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ اس وقت آپ کے ساتھ 313 صحابی تھے۔ سامان بھی بہت کم تھا۔ صرف2 گھوڑے تھے اور70 اونٹ تھے۔ ایک اونٹ پر2 یا 3 آدمی باری باری سوار ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری میں علی بن ابی طالب اور ابولبابہ شریک تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدل چلنے کی باری آئی تو دونوں نے کہاکہ اے خدا کے رسول آپ اونٹ پر سوار ہو جائیں، ہم آپ کے بجائے پیدل چلیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو۔ اور نہ میں تم دونوں کے مقابلے میں اَجر سے بے نیاز ہوں:مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي، وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ 389)۔
حالات کی خبر گیری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آدمی آگے روانہ کررکھے تھے۔ آپ صفراء کے مقام پر پہنچے تو بُسبُس اور عدی نے آ کر آپ کو اطلاع دی کہ قریش کی فوج آپ کی طرف چلی آ رہی ہے۔ مزید معلوم ہوا کہ مکہ کا تجارتی قافلہ راستہ بدل کر تیزی سے سفر کرتے ہوئے نکل گیا ہے اور مکہ کے حدود میں داخل ہوگیا ہے۔ ابو جہل کی قیادت میں اہل مکہ کا جو لشکر روانہ ہوا تھا وہ اپنے تجارتی قافلہ کی طرف سے مطمئن ہو کر مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھاکہ مدینہ پر حملہ کرکے اس کا خاتمہ کردے۔
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الٰہی کی رہنمائی میں یہ طے کیا کہ وہ بھی ابو جہل کی فوج کی طرف بڑھیں اور اللہ کی مدد کے بھروسہ پر اس کا مقابلہ کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جاننے کی فکر تھی کہ ابو جہل کے ساتھ کتنے آدمی ہیں۔ آپ نے کچھ اصحاب کو خبرگیری کے لیے روانہ فرمایا۔ ان کو قریش کے دو غلام مل گئے۔ وہ انہیں پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ قریش کے لوگ کتنی تعداد میں ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم کو معلوم نہیں۔ آپ نے سوال بدل کر پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ وہ روزانہ اپنے کھانے کے لیے کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ دس اونٹ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ تقریباً ایک ہزار ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو313 (یا315) آدمی تھے ان میں کچھ مہاجرین تھے اور کچھ انصار۔ مہاجرین اپنی بیعت کے مطابق، ہر حال میں آپ کی مدد کرنے کے پابند تھے مگر انصار نے جو بیعت کی تھی وہ بیعت النساء تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر مدینہ پر حملہ ہو تو وہ آپ کے ساتھ حملہ آور سے لڑیں گے۔ لیکن اگر مدینہ سے باہر جنگل کرنا پڑے تو ازروئے بیعت وہ آپ کے ساتھ لڑنے کے پابند نہ تھے۔
اس نزاکت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اب ہمارا مقابلہ قریش کی فوجی طاقت سے ہے اس لیے تم لوگ اس معاملہ میں مجھ کو مشورہ دو:أَشِيرُوا عَلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 188)۔
اس کے بعد ابوبکر اور عمر نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔ مقداد بن اسود نے کھڑے ہو کر کہا کہ اے خدا کے رسول، اللہ نے آپ کو جس چیز کا حکم دیا ہے اس کو کر گزریے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم، ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ اے موسیٰ، تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ آپ چلیں اور آپ کا رب بھی۔ ہم آپ کے ساتھ لڑنے کے لیے حاضر ہیں۔
مہاجرین ایک کے بعد ایک اسی طرح پرجوش تعاون کا اظہار کرتے رہے لیکن اس کے باوجود آپ اپنے کلمہ کو دہراتے رہے کہ اے لوگو، مجھ کو مشورہ دو۔ اس کے بعد انصار کے سردار سعد بن معاذ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا:
اے خدا کے رسول، ہم آپ کے اوپر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی اور یہ گواہی دی کہ آپ جو دین لائے ہیں وہ حق ہے۔ اور اس پرہم آپ کے ساتھ سمع اور طاعت کا عہد کر چکے ہیں۔ اے خدا کے رسول، آپ مدینہ سے ایک چیز کے لیے نکلے تھے اور اللہ نے اس کے سوا دوسری صورت آپ کے لیے پیدا فرما دی۔ پس آپ جو چاہتے ہیں اس کے لیے قدم بڑھایئے۔ آپ جس سے چاہیں تعلق جوڑیں اور جس سے چاہیں تعلق توڑ دیں۔ جس سے چاہیں صلح کریں اور جس سے چاہیں دشمنی کریں۔ ہمارے مال میں سے جو آپ چاہیں لے لیں اور جو چاہیں ہم کو دے دیں۔ اور مال کا جو حصہ آپ لے لیں گے وہ ہم کو اس حصہ سے زیادہ محبوب ہوگا جو آپ ہم کو دیں گے۔ پس حکم دیجئے، ہم آپ کے تابع ہیں۔ اگر آپ چلیں یہاں تک کہ آپ برک غمار تک پہنچ جائیں تو ہم بھی ضرور آپ کے ساتھ جائیں گے۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ ہم کو اس سمندر میں داخل ہونے کے لیے کہیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے، اور ہم میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہے گا۔ دشمن کا سامنا کرنا ہمارے لیے کوئی ناپسندیدہ بات نہیں۔ ہم جنگ کے وقت ثابت قدم رہنے والے ہیں اور مقابلہ کے وقت سچے ہیں۔ اور شاید اللہ ہم سے آپ کو وہ چیز دکھائے گا جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پس اللہ کے بھروسہ پر ہم کو لے کر چلیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جواب کو سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایاکہ اللہ کے بھروسہ پر چلو۔ اور تم کو خوش خبری ہو۔ اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ضرور ہم کو فتح عطا کرے گا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو کر اس سمت میں چلے جدھر سے مکہ والوں کا لشکر مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ بدر کے قریب پہنچ کر آپ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر فریق ثانی بڑھتے ہوئے یہاں تک پہنچ جائے تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں اور اگر وہ لوگ یہاں تک آنے سے پہلے لوٹ جائیں تو ہم بھی مدینہ کی طرف واپس چلے جائیں گے۔
اس وقت ایک صحابی حباب بن منذر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ان کو اس طرح کے معاملات کا تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ جگہ جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالا ہے یہ وحی کی بنیاد پر ہے یا ذاتی رائے اور تدبیر کی بنیاد پر۔ آپ نے فرمایا کہ ذاتی رائے کی بنیاد پر۔
صحابی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، پھر تو یہ کوئی مناسب جگہ نہیں۔ اس کے بعد مذکورہ صحابی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جنگی تدبیر کے لحاظ سے یہ جگہ غیر موزوں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وضاحت کو قبول فرمایا اور کچھ آگے بڑھ کر دوسری جگہ پر پڑاؤ ڈالا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ اس طرح کی مہم میں آپ فریق ثانی کی خبر معلوم کرنے کی کوشش کرتے تاکہ پیشگی طور پر ان کے بارے میں ساری معلومات ہو جائیں۔ چنانچہ اس موقع پر بھی آپ نے بعض صحابہ کو خبر لینے کے لیے بھیجا۔ وہ قریش کے دو آدمیوں کو پکڑ لائے جو انہیں ایک چشمہ پر مل گئے تھے۔ ان کا کام مشک میں پانی بھر کر لانا تھا۔ وہ دونوں رسول اللہ کے پاس لائے گئے تو آپ نے پوچھا کہ قریش کے لوگ جو مکہ سے نکلے ہیں ان کی تعداد کیا ہے۔ انہوں نے بتانے سے انکار کیا۔ رسول اللہ نے سوال بدل کر پوچھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ وہ لوگ کھانے کے لیے روزانہ کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ کسی دن نو اور کسی دن دس۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ ان کی تعداد نو سو اور ہزار کے درمیان ہے۔
اس کے بعد قریش کا لشکر، جو تقریباً ایک ہزار تھا، بڑھتے ہوئے بدر کے مقام پر پہنچ گیا۔ یہیں دونوں گروہوں کے درمیان وہ جنگ ہوئی جس کو غزوۃ بدر کہا جاتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عریش(چھپر) میں تھے۔ جنگ سے پہلے آپ نے نہایت گریہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اس موقع پر آپ کی زبان سے جو دعائیہ کلمات نکلے ان میں سے ایک یہ تھا:
اے اللہ، یہ قریش ہیں جو گھمنڈ اور فخر کے ساتھ آئے ہیں:اللَّهُمَّ هَذِهِ قُرَيْشٌ قَدْ أَقْبَلَتْ بخُيلائها وَفَخْرِهَا(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 621) تو ان کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔ اس وقت ایک فرشتہ آپ کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے محمد اللہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔ آ پنے فرمایا کہ بلاشبہ وہ سلامتی ہے اور اس سے سلامتی ہے اور اسی کی طرف سلامتی ہے:هُوَ السَّلَامُ، وَمِنْهُ السَّلَامُ، وَإِلَيْهِ السَّلَامُ(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ403)۔
ابو جہل کی سرداری میں مکہ سے مشرکین کا جو لشکر آیا تھا اس کی تعداد ایک ہزار تھی۔ اس میں بہت سے لوگ ایسے تھے جو رسول اللہ سے لڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے ابو جہل کو جنگ سے منع کیا اور واپسی کے لیے کہا۔ لیکن ابو جہل جنگ پر اڑا رہا۔ چنانچہ دونوں فریقوں کے درمیان بدر کے میدان میں مسلح مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد اگرچہ صرف313 تھی۔ لیکن اللہ کی خصوصی مدد سے یہ لوگ کامیاب ہوئے۔ اس جنگ میں مسلمانوں میں سے چودہ آدمی شہید ہوئے۔ دوسری طرف مشرکین میں سے70 آدمی مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے۔ ان میں زیادہ تعداد مکہ کے سرداروں کی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے بعد تین دین بدر میں ٹھہرے۔ اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو کر مدینہ واپس آئے، واپس آنے والوں میں وہ70 مشرکین بھی تھے جو بدر کی جنگ میں گرفتار ہوئے تھے۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو قدیم زمانہ کے لحاظ سے پڑھے لکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ان میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے اس کو رہا کر دیا جائے گا۔ چنانچہ کئی لوگوں نے اس طرح تعلیمی خدمت کے ذریعہ قید سے رہائی حاصل کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب(سیکرٹری) حضرت زید بن ثابت انصاری پہلے لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے انہی بدری قیدیوں سے لکھنا اور پڑھنا سیکھا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب خاص بن گئے اور یہی تھے جنہوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں قرآن کا مکمل نسخہ لکھ کر تیار کیا اور پھر یہی تھے جنہوں نے حضرت عثمان کے زمانہ میں قرآن کے مزید کتابت شدہ نسخے تیار کیے۔
اس زمانہ میں مدینہ میں قیدیوں کو رکھنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انتظام اس طرح کیا کہ ان قیدیوں کو مختلف مسلمانوں کے حوالہ کر دیا اور کہا کہ ان کو اپنے گھروں میں رکھو۔ اس سلسلہ میں آپ نے حکم بھی فرمایا کہ ان قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو:اسْتَوْصُوا بِالْأَسَارَى خَيْرًا (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر977) چنانچہ صحابہ کا یہ حال ہوا کہ جن کے پاس قیدی تھے وہ پہلے قیدیوں کو کھانا کھلاتے اور بعد میں خود کھاتے اور اگر نہ بچتا تو خود کھجور پر اکتفا کرتے۔ اس حسن سلوک کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان میں سے بیشتر قیدی بعد کو اسلام میں داخل ہوگئے۔
بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگوں نے مدینہ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا کر رہائی حاصل کی۔ کچھ نادار لوگ صرف اس وعدہ پر رہا کر دیے گئے کہ آئندہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ پر نہیں آئیں گے۔ کچھ لوگوں کے رشتہ دار مکہ سے آئے اور فدیہ کی رقم ادا کرکے اپنے قیدی کو واپس لے گئے، وغیرہ۔
انہی قیدیوں میں ایک سہیل بن عمرو بھی تھے۔ وہ اعلیٰ درجہ کے شاعر اور خطیب تھے۔ وہ اجتماعات میں رسول اللہ کی مذمت کیا کرتے تھے اور آپ پر سب و شتم کرتے ہوئے اشعار پڑھا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق نے کہاکہ اے خدا کے رسول، مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں سہیل کے نیچے کے دو دانت اکھاڑ دوں تاکہ اس کی آواز خراب ہو جائے اور وہ آپ کے خلاف بولنے کے قابل نہ رہے۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر، سہیل کو چھوڑ دو عجب نہیں کہ خدا تم کو ان سے کوئی خوشی دکھائے۔ چنانچہ صلح حدیبیہ انہیں کی کوششوں سے ہوئی، جو اسلام کے لیے فتح مبین بن گئی۔ بعد کو فتح مکہ کے وقت وہ خود بھی اسلام میں داخل ہوگئے۔
ایک اور روایت میں آیا ہ کہ حضرت عمر نے جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تو آپ نے فرمایا کہ اے عمر، میں اس طرح کسی کا مثلہ نہیں کرتا ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ خدا میرا مثلہ کر دے گا۔ اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں:لَا أُمَثِّلُ بِهِ فَيُمَثِّلُ اللهُ بِي وَإِنْ كُنْتُ نَبِيًّا(سیرۃ ابن ہشام،جلد1، صفحہ649)۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد جب عرب قبائل میں بغاوت(ارتداد) پھیل گئی تو اس وقت سہیل بن عمرو کی خطابت نے بہت کام کیا۔ انہوں نے قبائل میں زبردست تقریریں کیں اور ان کی بغاوت کو ٹھنڈا کیا۔
