سریۂ عبداللہ بن رواحہ
شوال6ھ
ابو رافع کے قتل ہو جانے کے بعد یہود نے اسیر بن رِزام کو اپنا امیر بنایا۔ اس نے رسول اللہ سے مقابلہ کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ قبیلہ غطفان اور دیگر قبائل کوآپ کے خلاف آمادہ کیا۔ آپ کو جب معلوم ہوا تو آپ نے عبداللہ بن رواحہ کو تحقیق حال کے لیے بھیجا۔ عبداللہ بن رواحہ نے آ کر اس کی تصدیق کی۔ آپ نے تیس آدمیوں کو عبداللہ بن رواحہ کے ساتھ روانہ کیا کہ ان کو بلا لائیں تاکہ ان سے زبانی گفتگو کریں۔
اُسیر بن رزام بھی تیس آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ راستہ میں اس کی نیت بدل گئی اور دھوکہ سے مسلمانوں کو قتل کرنا چاہا جس کی وجہ سے فریقین میں جنگ چھڑ گئی۔ نتیجہ کے طور پر یہودیوں کو زبردست شکست و نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
