غزوۃ بنی قینقاع
شوال2ھ
قبیلہ بنی قینقاع یہودی عالم عبداللہ بن سلام کی برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ ان کی شجاعت و بہادری مشہور تھی۔ اکثر لوگ زرگری کا کام کرتے تھے۔ پیغمبر اسلام ان کے بازار میں گئے اور ان کو جمع کرکے انہیں اسلام کا پیغام دیا۔ آپ نے کہا کہ اے گروہ یہود، تم لوگ اللہ سے ڈرو۔ بدر میں جس طرح قریش خدا کی پکڑ میں آگئے، ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی طرح خدا کی پکڑ میں آ جاؤ۔ اسلام کو مان لو، یقینا تم جانتے ہو کہ میں خدا کا بھیجا ہوا نبی ہوں۔ تم اس کو اپنی کتاب میں پاتے ہواور اللہ نے تم سے اس کا عہد لیا ہے۔
یہود اس تقریر کو سن کر بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے آپ کا مقابلہ ایک ناواقف اور ناتجربہ کار قوم(قریش) سے تھا، جس میں آپ غالب ہوگئے۔ بخدا اگر ہم سے مقابلہ ہو تو آپ جان لیں گے کہ ہم مرد ہیں۔
پیغمبر اسلام جب مکہ کو چھوڑ کرمدینہ آئے تھے تو وہاں کے یہودی قبائل بنی قینقاع اور بنی قریظہ اور بنی نضیر سے یہ معاہدہ ہوا تھا کہ ہم نہ آپ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ کے دشمن کو کسی قسم کی مدد دیں گے۔ قینقاع نے عہد شکنی کی اور آپ سے جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ یہ یہودی قبیلے مدینہ کے اطراف میں رہتے تھے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام نے مدینہ میں اپنی جگہ ابولبابہ بن عبدالمنذر انصاری کو مقرر کیا۔ اور بنی قینقاع کی بستی کی طرف روانہ ہوئے۔ یہود نے قلعہ میں داخل ہو کر اس کا دروازہ بند کر لیا۔ پیغمبر اسلام نے پندرہ شوال سے یکم ذی قعدہ تک ان کا محاصرہ کیا۔ آخر کار وہ لوگ دو ہفتہ بعد قلعہ سے اترے۔ آپ نے ان کو قتل نہیں کیا البتہ حکم دیا کہ ضروری سامان لے کر وہاں سے چلے جائیں۔
