سریۂ دومۃ الجندال
شعبان6ھ
شعبان6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے کہا میں تمہیں ایک مہم پر بھیجنے والا ہوں، تیار رہنا۔ اگلے روز جب نماز سے فارغ ہوئے تو عبدالرحمن کو بلایا اور اپنے ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور جھنڈا دے کر سات سو لوگوں کے ساتھ ان کو دومۃ الجندل کی طرف روانہ کیا۔ روانگی کے وقت آپ نے ان کو یہ وصیت کی، خیانت نہ کرنا، غدر نہ کرنا، کسی کی ناک اور کان نہ کاٹنا، بچوں کو قتل نہ کرنا، اور اسلام پیش کرنا، اگر وہ لوگ دعوت قبول کر لیں تو وہاں کے رئیس کی بیٹی سے نکاح کرنے میں تامل نہ کرنا۔
چنانچہ عبدالرحمن بن عوف نے وہاں پہنچنے کے بعد لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ تین دن تک ان کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ تیسرے دن دومۃ الجندل کے رئیس اصبع بن عمر نے اسلام قبول کر لیا اور ان کے ساتھ اور بہت سے لوگ بھی۔ اور ان کی بیٹی تماضر کی شادی حضرت عبدالرحمن سے ہوئی۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن جو مشہور تابعی ہیں، وہ ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ اس نکاح کا مقصد قبیلہ سے رشتہ کا تعلق قائم کرکے اس کو اسلام کے قریب لانا تھا۔
