مواخاۃ

مکہ سے ہجرت کرکے جو مسلمان مدینہ پہنچے ان کی حیثیت نئے شہر میں پناہ گزیں کی تھی۔ ان کی آباد کاری کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کو مواخاۃ (ایک دوسرے کو بھائی بنانا) کہا جاتا ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے کہا کہ تم لوگ دو دو شخص اللہ کی راہ میں بھائی بھائی بن جاؤ:تَآخَوْا فِي اللهِ أَخَوَيْنِ أَخَوَيْنِ۔ اس کے بعد آپ نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا:هَذَا أَخِي(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 505)۔یعنی،یہ میرا بھائی ہے۔

اس طرح مہاجر مسلمان مدینہ میں اجنبی نہیں رہے، مہاجر اور انصار دونوں بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے مدد گار بن گئے۔ یہ بھائی چارہ اتنا مکمل تھا کہ دونوں کو ایک دوسرے کی وراثت ملنے لگی جس طرح بھائی کو بھائی سے ملتی ہے۔ مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان یہ مواخاۃ ہجرت کے پانچ مہینہ بعد قائم کی گئی۔

 مہاجرین کی حیثیت لٹے ہوئے قافلہ کی تھی۔ اس لیے اس مواخاۃ میں انصار کی حیثیت دینے والے کی تھی، اور مہاجر کی حیثیت پانے والے کی۔ مگر انصار نے دل کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کو قبول کر لیا۔ انصار مدینہ کے باشندے تھے۔ ان کے پاس گھر اور مال اور زمین اور باغات تھے۔ ہر انصاری نے اپنے تمام اثاثہ کو تقسیم کرکے اس کا آدھا حصہ خود لیا اور بقیہ آدھا حصہ اپنے مہاجر بھائی کو دے دیا۔

حضرت انس کہتے ہیں کہ کوئی انصاری اپنے مال اور جائیداد کا اپنے مہاجر بھائی سے زیادہ اپنے کو مستحق نہیں سمجھتا تھا۔

انصار کے اس غیر معمولی ایثار کودیکھ کر کچھ مہاجرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاکہ اے خدا کے رسول، جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں، ان سے بڑھ کر ہم نے کسی کو تنگی میں ہمدردی کرنے والا اور کشادگی میں خرچ کرنے والا نہیں پایا۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ تمام اجر صرف ان کو مل جائے اور ہم اجر سے محروم رہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرو اور ان کے لیے دعا کرتے رہو۔

ابتداء مواخاۃ میں وراثت کا حق بھی شامل تھا۔ بعد کو وراثت کا حق منسوخ ہوگیا۔ وراثت کا معاملہ نسبی رشتہ داروں کے لیے خاص کر دیا گیا۔ البتہ بقیہ پہلوؤں سے تمام مسلمان بھائی بھائی بن کر رہنے لگے۔ ابن سعد کے مطابق، مواخاۃ45 مہاجرین اور45 انصار کے درمیان ہوئی۔ کچھ نام یہاں درج کیے جاتے ہیں:

                              مہاجر                                                                                                انصار

1

ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ

خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ

2

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ

3

ابو عبیدہ بن الجرّاح رضی اللہ عنہ

سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ

4

عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ

5

زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ

اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ

6

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

اوس بن ثابت رضی اللہ عنہ

7

سعید بن زید بن عمرو رضی اللہ عنہ

اُبیّ بن کعب رضی الہل عنہ

8

سعید بن زید بن عمرو رضی اللہ عنہ

اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ

9

مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ

ابو ایوب خالد بن زید رضی اللہ عنہ

10

ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ

عبّاد بن بِشر رضی اللہ عنہ

11

عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ

حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ

12

ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ

منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ

13

سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ

ابوالدرداء عویمر بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ

14

بلال حبشی رضی اللہ عنہ

ابو رویحہ عبداللہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

15

حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ

عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ

16

ابومرثد رضی اللہ عنہ

عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ

17

عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ

عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ

18

19

عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ

ابو سلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ

ابودجانہ رضی اللہ عنہ

سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ

20

عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ

21

عبیدہ بن الحارث رضی اللہ عنہ

عمیر بن الحمام رضی اللہ عنہ

22

صفوان بن بیضاء رضی اللہ عنہ

رافع بن معلیٰ رضی اللہ عنہ

23

ذوالشمالین رضی اللہ عنہ

یزید بن الحارث رضی اللہ عنہ

24

ارقم رضی اللہ عنہ

طلحہ بن زید رضی اللہ عنہ

25

زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ

معن بن عدی رضی اللہ عنہ

 

 

حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مدینہ میں ہمارے جو کھجور کے باغات ہیں ، ان کو ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان تقسیم کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ انصار نے کہا کہ پھر آپ جیسا فرمائیں۔ آپ نے کہاکہ مہاجرین کو زراعت اور باغبانی کا تجربہ نہیں۔ پھر کیا تم ایسا کرو گے کہ باغ میں تم ہماری طرف سے محنت کرو اور پیداوار میں ہم تمہارے شریک رہیں۔ انصار نے کہا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ انصار کا یہ طریقہ تھاکہ جب وہ کھجور کی پیداوار کو تقسیم کرتے توہر انصاری ان کے دو حصے اس طرح کرتا کہ اس کا ایک حصہ کم ہوتا اور دوسرا حصہ زیادہ ۔ پھر وہ کم والے حصہ کے ساتھ کھجور کی شاخیں ملا دیتے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں سے کہتے کہ دونوں میں سے جس حصہ کو چاہیں لے لیں۔ تو مہاجر زیادہ پیداوار والے حصہ کو لے لیتے اور انصاری اس حصہ کو لے لیتے جس میں پھل کی مقدار کم ہوتی۔

یہ سلسلہ خیبر کی فتح تک جاری رہا۔ پھر جب خیبر کا علاقہ فتح ہوا اور مسلمانوں کو خیبر کے باغات ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا کہ ہمارا حق جو تمہارے اوپر تھا وہ تم نے پورا پورا ادا کر دیا۔ اب اگر تم چاہو تو ہم تمہارے اطمینان خاطر کے لیے خیبر میں تمہارا حصہ دے دیں۔ انصار نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ہمارے اوپر آپ کی کچھ شرطیں تھیں اور ہماری بھی آپ کے اوپر ایک شرط تھی، وہ یہ کہ ہمارے لیے جنت ہو۔ آپ نے جو فرمایا وہ ہم نے کر دیا، تو اب ہماری شرط بھی ہم کو ملے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، وہ تمہارے لیے ہے:فَذَاكُمْ لَكُمْ(مجمع الزوائد، حدیث نمبر16526)۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخاۃ کا طریقہ دوبار اختیار فرمایا۔ پہلی بار مکہ میں، اور دوسری باری مدینہ میں۔ مکہ میں جن لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان میں کئی افراد ایسے تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے خاندان سے کٹ گئے تھے۔ اس لیے ضرورت پیش آئی کہ ان کا کوئی انتظام کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے مکہ میں ایسے افراد کا رشتہ مواخاۃ ایسے مسلمانوں کے ساتھ قائم فرمایاجو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی صاحب خاندان کی حیثیت رکھتے تھے۔

یہ پہلی مواخاۃ مہاجرین اور مہاجرین کے درمیان ہوئی۔ عبداللہ بن عباس بتاتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بین العوام اور عبداللہ بن مسعود کے درمیان مواخاۃ قائم فرمائی۔ اس طرح زید بن حارثہ کی مواخاۃ حمزہ بن عبدالمطلب کے ساتھ قائم کی گئی۔مصعب بن عمیر کی مواخاۃ سعد بن ابی وقاص کے ساتھ، وغیرہ۔

 مواخاۃ کا طریقہ دوسری بار ہجرت کے بعد مدینہ میں اختیار کیا گیا۔ یہ مواخاۃ مہاجرین اور انصار کے درمیان تھی۔ مدینہ اس زمانہ میں ایک قصبہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب وہاں مہاجرین آئے تو ان کے آنے سے پناہ گزینوں کا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ اس وقت آپ نے مواخاۃ کا طریقہ اختیار کرکے اس مسئلہ کو حل فرمایا۔

 مواخاۃ نے صرف یہی نہیں کیا کہ کچھ بے گھر لوگوں کے معاشی مسئلہ کو حل کیا۔ اس نے اس بات کا عملی مظاہرہ کیا کہ اسلام میں اصل تعلق دین کا تعلق ہے۔ بقیہ تمام حیثیتیں اضافی ہیں۔ چھوٹا اور بڑا، غریب اورامیر، گھر والا اور بے گھر والا، سب اللہ کی نظر میں یکساں ہیں۔ تمام مادی اور سماجی امتیازات کو مٹاکر انہیں دین کی خاطر ایک ہو جانا چاہیے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion