واقعۂ حدیبیہ

ذوالقعدہ6ھ

حدیبیہ ایک کنویں کا نام ہے جس کے متصل ایک گاؤں آباد ہے جواسی نام سے مشہور ہے۔ یہ گاؤں مکہ سے 9 میل کے فاصلہ پر ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خواب دیکھا کہ آپ اور آپ کے اصحاب مکہ پہنچ کر اس کے اندر داخل ہوئے اور وہاں عمرہ کیا۔ اس خواب کے بعد یکم ذی القعدہ6ھ کو رسول اللہ عمرہ کے ارادہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ تقریباً پندرہ سو مہاجرین اور انصار آپ کے ساتھ تھے۔ بُسر بن سفیان کو جاسوس بنا کر قریش کی خبر معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔ چونکہ جنگ کا ارادہ نہ تھا اس لیے سامان سفر کے سوا کچھ اور اپنے ساتھ نہ رکھا۔

 جب غدیر اشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس نے آکر اطلاع دی کہ قریش نے آپ کی خبر پا کر ایک شکر جمع کیا ہے اور عہد کیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے۔ یہ بھی معلوم ہواکہ خالد بن ولد دو سو سواروں کو لے کر مقام عمیم تک پہنچ گئے ہیں۔ رسول اللہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے اس راستہ کو چھوڑ دیا اور دوسرے راستہ سے نکل کر مقام حدیبیہ پہنچ گئے۔ حدیبیہ میں قیام کرنے کے بعد آپ نے خراش بن امیہ خزاعی کو مکہ بھیجا کہ وہ ان کو بتائیں کہ ہم صرف بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئے ہیں، جنگ کے لیے نہیں۔ جب خراش بن امیہ مکہ آئے تو ان لوگوں نے ان کو پکڑ لیا اور قتل کرنا چاہا۔ لیکن دوسرے لوگوں نے ان کو بچایا۔ واپس آ کر انہوں نے آپ سے تمام واقعات بیان کئے۔

اس کے بعد قریش سے مزید گفتگو ہوتی رہی یہاں تک کہ بدیل بن ورقہ قبیلۂ خزاعہ کے چند آدمیوں کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور قریش کے عزائم سے آپ کو باخبر کیا۔ رسول اللہ نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے ہیں۔ ہم عمرہ کے لیے آئے ہیں۔ اگروہ چاہیں تو ہم دونوں کے درمیان ایک مدت کے لیے ناجنگ معاہدہ ہو جائے اور اس مدت میں ایک فریق دوسرے سے کوئی تعرض نہ کرے۔

واپس ہوکر بدیل نے قریش کو بتایا کہ محمد جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں وہ صرف عمرہ اور صلح کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر عروہ بن مسعود نے جواپنی قوم میں بہت ہی باعزت شخص تھے۔ اٹھ کر کہا، لوگو، محمد نے تمہاری بھلائی کی بات کہی ہے۔ اس کو ضرور قبول کر لو اور مجھ کو اجازت دو کہ میں محمد سے گفتگو کروں۔ لوگ تیار ہوگئے۔

 عروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بات شروع کی۔ رسول اللہ نے وہی کہا جو بُدیل سے کہا تھا۔ واپس جا کر عروہ نے قریش کو پوری صورت حال سے باخبر کیا۔ عروہ کی یہ گفتگو سن کر حلیس بن علقمہ کنانی نے کہا مجھے محمد کے پاس جانے کی اجازت دو۔ جب رسول اللہ نے حلیس کو دیکھا تو صحابہ سے کہا کہ قربانی کے جانوروں کو کھڑا کر دو کیوں کہ یہ شخص ایک ایسے قبیلہ سے ہے جس میں قربانی کے جانوروں کی تعظیم کی جاتی ہے۔ حلیس قربانی کے جانوروں کو دیکھ کرراستہ ہی سے واپس ہوگیا اور قریش سے کہاکہ ان لوگوں کو عمرہ کرنے دو لیکن قریش تیار نہ ہوئے۔

آخر کار قریش نے سہیل کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہی کو آتے دیکھا تو کہاقد سھل لکم من امر کم۔ یعنی اب تمہارا معاملہ آسان ہوگیا۔ سہیل آپ کے پاس آیا اور دیر تک صلح اور شرائط صلح پر گفتگو ہوتی رہی۔ جب شرائط صلح طے ہوگئیں تو رسول اللہ نے حضرت علی کو لکھنے کاحکم دیا۔ صلح کی شرطیں یہ تھیں:

1۔     دس سال تک آپس میں لڑائی موقوف رہے گی۔

2۔     قریش کا جو شخص مسلمان ہو کر مدینہ آ جائے اس کو واپس کیا جائے گا۔

3۔     جو مسلمان مدینہ سے مکہ آ جائے اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔

4۔     اس درمیان کوئی ایک دوسرے پر تلوار نہ اٹھائے گا اور نہ کوئی کسی سے خیانت کرے گا۔

5۔     محمد اس سال بغیر عمرہ کیے مدینہ واپس ہو جائیں۔ وہ آئندہ سال آئیں اور صرف تین دن مکہ میں رہ کر عمرہ کرکے واپس ہو جائیں۔

6۔     قبائل کو اختیار ہے کہ وہ جس کے معاہدہ اور صلح میں شریک ہونا چاہیں شریک ہو سکتے ہیں۔

 رسول اللہ نے یکطرفہ طورپر قریش کی تمام شرائط کو مان لیا۔ لیکن صحابہ پر یہ بات بہت شاق گزری۔ حضرت عمر ضبط نہ کر سکے اور رسول اللہ سے اس کا اظہار کیا۔ رسول اللہ نے انہیں سمجھایا۔ تکمیل صلح کے بعد آپ نے صحابہ کو قربانی اور سرمنڈوانے کا حکم دیا۔ تقریباً دو ہفتہ قیام کرنے کے بعد رسول اللہ حدیبیہ سے واپس ہوئے۔ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ سورہ فتح نازل ہوئی۔ جس میں ایک واضح فتح کی خوش خبری دی گئی تھی:إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا(48:1)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو جمع کرکے یہ آیت سنائی۔ اس آیت کو سن کر صحابہ نے تعجب سے پوچھا اے خدا کے رسول، کیا یہ فتح ہے۔ آپ نے کہا، ہاں یہ فتح ہے۔

نتیجہ کے اعتبار سے واقعی یہ ایک عظیم فتح ثابت ہوئی۔ اس سے پہلے آپس کی لڑائی کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے تھے۔ اب جب امن قائم ہوا، منافرت اور کشیدگی دور ہوئی تو آپس میں تبادلۂ خیال ہونے لگا۔ اس طرح لوگوں کو اسلام کو سمجھنے کا موقع ملا۔ جس کا اثر یہ ہواکہ صلح حدیبیہ کے بعد اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا کہ بعثت سے لے کر اس وقت تک اتنے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

دوسری طرف ایسا ہوا کہ ابو البصیر اسلام قبول کرکے مکہ سے مدینہ آئے مگر معاہدہ کے مطابق آپ نے ان کو واپس کر دیا۔ لیکن وہ مکہ جانے بجائے بھاگ کر ساحل سمندر پر پہنچ گئے اور وہاں پڑاؤ ڈال لیا۔ اسی راستہ سے قریش کا تجارتی قافلہ گزرتا تھا۔ اب جو بھی مسلمان ہوتا مدینہ جانے کے بجائے یہیں آ کر قیام کرتا۔ یہاں تک کہ ستر آدمیوں کا ایک گروہ  بن گیا۔ یہ لوگ قریش کے قافلوں کو چھیڑتے تھے جس سے قریش بہت تنگ آگئے۔ آخر کار رسول اللہ کے پاس آدمی بھیج کر ان لوگوں نے معاہدہ کی دفعہ دو کو ختم کرا دیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion