غزوۃ بنی نضیر
ربیع الاول4ھ
عمر بن امیہ ضمری جب بئر معونہ سے واپس ہو رہے تھے تو راستہ میں بنی عامر کے دو مشرک ساتھ ہو لیے۔ وہ مقام قناۃ میں پہنچ کر ایک باغ میں ٹھہرے۔ جب وہ دونوں سو گئے تو عمر بن امیہ ضمری نے انتقاماً دونوں کو قتل کر دیا اور مدینہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ان سے ہمارا عہد ہے ان کی دیت دینا ضروری ہے۔
بنی نضیر بھی چونکہ بنی عامر کے حلیف تھے۔ اس لیے ازروئے معاہدہ دیت کا کچھ حصہ جو بنی نضیر کے ذمہ بھی واجب الادا تھا۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ بنو نضیر کے پاس گئے۔ بنونضیر نے بظاہر خندہ پیشانی سے جواب دیا اور دیت میں شرکت کا وعدہ کیا۔ لیکن آپس میں یہ مشورہ کیا کہ ایک شخص چھت پر چڑھ کر اوپر سے ایک بھاری پتھر گرا دے تاکہ آپ دب کر ہلاک ہو جائیں۔
ابھی آپ بیٹھے ہی تھے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ ان کی سازش سے باخبر کیا گیا۔ آپ فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ تشریف لے گئے۔ اور بنو نضیر پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ آپ عبداللہ بن ام مکتوم کومدینہ کا عامل مقرر کرکے بنو نضیر کی طرف روانہ ہوئے اور جا کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنونضیر نے اپنے قلعوں میں گھس کر دروازے بند کر لیے۔ اس طرح بنو نضیر کی غداری اور بدعہدی کی بناء پر آپ نے ان پر حملہ کا حکم دیا۔ اور پندرہ روز تک ان کو محاصرہ میں رکھا اور ان کے باغوں اور درختوں کے کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا بالآخر وہ امن کے طلب گار ہوئے۔
آپ نے فرمایا دس دن کی مہلت ہے مدینہ خالی کر دو۔ اپنے اہل وعیال بچوں اور عورتوں کو جہاں چاہو لے جاؤ۔ سوا سامان جنگ کے جس قدر سامان اونٹوں اور سواریوں پر لے جا سکتے ہو اس کی اجازت ہے۔ یہود کے ساتھ یہ معاملہ ان کی مقدس کتاب تورات کے مطابق کیا گیا کیوں کہ تورات میں غداری کی سزا جلاوطنی بتائی گئی ہے۔
