غزوۂ خیبر
محرم7ھ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ آئے۔ اس سے پہلے مدینہ کے یہود مکہ کے قریش سے مل کر سازشیں کرتے رہتے تھے۔ مدینہ کے یہود ہی کی ترغیب پر قریش نے مدینہ کے خلاف وہ حملہ کیا تھا جس کو غزوۂ احزاب کہا جاتا ہے۔ معاہدہ حدیبیہ کے بعد قریش اس کے پابند ہوگئے کہ وہ رسول اللہ کے خلاف نہ خود کوئی جنگی اقدام کریں اور نہ کسی جنگی اقدام کرنے والے کی مدد کریں۔ اس طرح معاہدہ حدیبیہ نے قریش کو یہود سے کاٹ دیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصوبہ بنایا کہ یہود کی طاقت کو توڑ دیں تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف صف آرا نہ ہو سکیں اور دعوت اسلام کی راہ میں ان کی مزاحمت کا خاتمہ ہو جائے۔
چنانچہ رسول اللہ علیہ وسلم نے محرم7ھ میں خیبر کے یہود کی طرف رخ کیا۔ اس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو پیادہ اور ایک سو سوار تھے۔ راستہ میں جب ایک بلند مقام پر پہنچے تو کچھ صحابہ نے نعرۃ تکبیر بلند کیا۔ رسول اللہ نے کہا اپنے اوپر رحم کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔ تم اس خدا کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور تمہارے قریب ہے۔
آپ کو یہ معلوم ہوگیا تھاکہ غطفان نے یہود خیبر کی امداد کے لیے لشکر جمع کیا ہے اس لیے آپ نے مدینہ سے متصل رجیع میں پڑاؤ کیا جو خیبر اور غطفان کے درمیان ہے تاکہ یہودِ غطفان مرعوب ہو جائیں اور یہود خیبر کی مدد کونہ پہنچیں۔ چنانچہ غطفان کے یہودکو جب یہ معلوم ہوا تو وہ واپس ہوگئے۔
خیبر کے قریب پہنچ کر آپ نے ایک لمبی دعا فرمائی۔ اس کا آخری جزء یہ تھا:فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا(سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 329)۔ یعنی، اے اللہ ہم اس بستی، اس کے باشندے، اور اس میں موجود تمام چیزوں کی خیر و بھلائی کے طلب گار ہیں اور ان تمام چیزوں کے شر سے پناہ چاہتے ہیں۔
خیبر میں یہود کے متعدد قلعے تھے۔ آپ کو دیکھ کر یہود قلعہ بند ہوگئے۔ آپ نے ان کے قلعوں پر حملہ شروع کیا اور ایک کے بعد ایک ان قلعوں کو فتح کر لیا۔
قلعہ قموص پر چڑھائی کے لیے آپ نے حضرت علی کو جھنڈا دے کر روانہ کیا۔ آپ نے ان کو یہ نصیحت کی کہ جنگ سے پہلے یہود کو اسلام کی دعوت دینا۔ خدا کی قسم اگر ایک شخص کو اللہ تمہارے ذریعہ ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے کہیں بہتر ہے۔
جب تمام قلعے فتح ہوگئے تو آخر میں مسلمانوں نے وطیح اور سلالم کا محاصرہ کیا۔ چودہ دن کے محاصرہ کے بعدان لوگوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہم کو امان دے دی جائے۔ ہم خیبر کو چھوڑ کر نکل جائیں گے آپ نے اس کو منظور فرمایا۔
