مدینہ میں داخلہ

قباء مدینہ سے 3 میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہاں آپ ابتداء ایک کھجور کے باغ میں اترے۔ قباء کے مسلمان اور یہودی باشندے آ کر آپ کے پاس جمع ہونے لگے۔ مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ حضرت محمد کون ہیں۔ ابوبکر چونکہ حضرت محمد سے تین سال بڑے تھے، انہیں گمان ہوا کہ لوگ کہیں یہ سمجھنے میں غلطی نہ کر جائیں پیغمبر کون ہے۔ انہوں نے اپنی چادر، جس کو انہوں نے زبیر بن العوام سے لیا تھا، سائبان کی طرح حضرت محمد کے اوپر پھیلا دیا جو اس وقت ایک کھجور کے درخت کے ناکافی سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اب لوگوں نے پیغمبر کو پہچان لیا اور عرب رواج کے مطابق آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے شور مچانے لگے۔

اس کے بعد بنی عمرو بن عوف کے سردار کلثوم بن الہدام نے اپنے گھر چلنے کی درخواست کی۔ حضرت محمد نے کہا ہم کسی کو زحمت نہیں دینا چاہتے۔ کلثوم نے کہا ہمارے گھر میں ایک کمرہ خالی ہے، اس میں کوئی نہیں رہتا، آپ اور ابو بکر اس میں چل کر قیام کریں۔ ہم آپ کے اونٹوں کی حفاظت کریں گے اور ان کاپیٹ بھریں گے۔ اب آپ وہاں چلے گئے۔ مگر جلد ہی مدینہ کے مسلمان آپ سے ملنے کے لیے کثرت سے آگئے اور اس کمرہ میں سمائی نہ رہی۔ اس کے بعد سعد بن خیثمہ نے اپنا مکان پیش کیا جو کافی بڑا تھا۔ چنانچہ آپ دن کو اس مکان میں رہنے لگے۔ البتہ رات کو سونے کے لیے کلثوم کے گھر میں آ جاتے۔

قباء میں پہنچنے کے تیسرے دن حضرت محمد نے ارادہ کیا کہ وہاں مسجد بنائیں۔ یہ اسلام کی سب سے پہلی مسجد تھی۔ ایک مسلمان نے حضرت محمد کو مسجد کے لیے زمین پیش کی۔ مگر پیغمبر اسلام نے ہدیہ قبول نہ کیا اور قیمت دے کر اس کو خرید لیا۔ اس مسجد کو بنانے میں تمام مسلمانوں نے حصہ لیا۔ حضرت محمد خود بھی ابو بکر کے ساتھ مٹی کا گارا بناتے تھے اور پتھروں کو اٹھاتے اور ردے جماتے تھے۔ عمر بن خطاب، جو کبھی مکہ کے معزز ترین لوگوں میں تھے، اپنے کندھوں پر پتھر ڈھوتے اور مٹی سے بھرا ہوا برتن اٹھاکر لاتے۔ اس طرح تمام مسلمان اس کے بنانے میں شریک رہے۔ حضرت محمد نے قباء میں تقریباً ایک ہفتہ تک قیام کیا اور جب مسجد مکمل ہوگئی تو وہاں سے چل کر یثرب آئے۔

 یثرب اس وقت تک دو ناموں سے مشہور تھا، یثرب اور طیبہ۔ حضرت محمد کے آنے کے بعد وہ مدینۃ النبی(نبی کا شہر) کہا گیا اور مختصر ہو کر مدینہ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ جب حضرت محمد مدینہ میں داخل ہوئے، اس وقت مدینہ کا رقبہ تقریباً30 مربع کلو میٹر تھا۔ اس شہر میں گھروں کے علاوہ72 قلعے تھے جن میں59 قلعے یہودیوں کے تھے اور13 عربوں کے۔ اس کے شمال اور جنوب میں دو پہاڑ واقع تھے جو اب بھی موجود ہیں۔مدینہ کے باشندے تقریباً نصف عربی تھے اور نصف یہودی۔ عرب باشندوں کا پیشہ کاشتکاری، جانور پالنااور تجارت کرنا تھا۔ یہودی کاشتکاری، زرگری،گوہر فروشی، دباغی کے ذریعہ اپنی روزی حاصل کرتے تھے۔ اس زمانہ میں عربوں کے پاس اپنا سکہ نہ تھا۔ مکہ مدینہ میں ایرانی اوررومی سکے رائج تھے۔ رومی سکہ کو دینار ہرقلی کہتے تھے اور ایرانی سکہ کو دینار خسروی۔

حضرت محمد نے قباء میں جو مسجد بنائی، اس کا محراب بیت المقدس کی طرف تھا۔ اس وقت حضرت محمد اور آپ کے ساتھی بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے، اس سے یہودیوں کو یہ امید ہوگئی کہ آپ ان کا مذہب تسلیم کر لیں گے۔ ان کو مزید یقین اس بات سے ہوتا تھا کہ قرآن میں یہودی نسل کے انبیاء، ابراہیمؑ، موسیٰؑ ، عیسیٰ وغیرہ کا ذکر اسی احترام کے ساتھ کیا گیا ہے جس طرح یہودی ان کو مانتے ہیں۔ مگر قباء میں اجتماعی عبادت کا دن جب آپ نے جمعہ کو مقرر فرمایا تو یہودیوں کو مایوسی ہوئی۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ یہودیوں کا دن(سنیچر) کواجتماعی عبادت کے لیے اختیار کریں گے۔ اس کے بعد کچھ یہودی علماء نے آپ سے گفتگو کی اور کہا کہ اگر پیغمبر ہونا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ کو یہودی ہونا چاہیے۔ کیونکہ خدا یہودی قوم کے واسطہ ہی سے کلام کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ خدا کی نظر میں قومیں برابر ہیں۔ وہ جس کو چاہے پیغمبری کے لیے منتخب کرے۔

 قباء کے یہودی باشندے اسلام کی طرف راغب نہیں ہوئے۔ صرف ایک یہودی نے اسلام قبول کیا جس کا نام سلوم تھا۔ یہ وہی شخص ہے جس نے قباء کے قریب آپ کی آمد کو سب سے پہلے دیکھا تھا اور قباء کے باشندوں کو اطلاع دی تھی کہ پیغمبر اسلام ہجرت کرکے یہاں پہنچ گئے ہیں۔

حضرت محمد کی اونٹنی مدینہ میں داخل ہوئی تو یہاں کے لوگ پہلے سے آپ کے استقبال کے لیے تیار تھے۔ لوگ آپ کی اونٹنی کی طرف دوڑتے، اونٹنی کی نکیل پکڑتے اور حضرت محمد سے کہتے کہ ہمارے گھر چلیے۔ آپ نے فرمایا کہ میری اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو، میری اونٹنی خود ہی مجھے ایسی جگہ لے جائے گی جہاں خدا کی مرضی ہے۔ اونٹنی چلتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک ایسی جگہ جا کر رک گئی جہاں کوئی مکان نہ تھا۔ آپ نے پوچھا یہ زمین کس کی ہے۔ اسعد بن زرارہ نے کہا یہ زمین دو کم سن یتیموں کی ہے اور میں اس کا سرپرست ہوں۔ یہ زمین آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ آپ اس میں گھر اور مسجد بنائیں۔ آپ نے خریداری پراصرار کیا تو اسعد بن زرارہ نے اس کی قیمت سات دینار بتائی۔ آپ نے کچھ اضافہ کے ساتھ دینار دے کر اس زمین کو خرید لیا۔ یہ دینار ابوبکر نے آپ کی طرف سے ادا کیے۔

 اس زمانہ میں مکہ یا مدینہ میں سکے رائج نہ تھے۔ دونوں جگہ جو سکے رائج تھے وہ ایرانی یا رومی تھے۔ رومی حکومت کاپایہ تخت بیزنطین تھا جس کو آج کل استنبول کہتے ہیں۔ دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا۔ ایرانی دینار کو دینار خسرواں کہتے تھے اور رومی کو دینار ہرقلی۔

 اگلے دن حضرت محمد نے مسلمانوں کی مدد سے اس جگہ مدینہ کی پہلی مسجد بنانی شروع کی۔ پیغمبر سمیت تمام لوگ گارا بناتے اور مٹی اور پتھر اٹھا کر لے آتے۔ اس مسجد کی دیواریں پتھر کی تھیں اور چھت کو کھجور کے تنوں اور پتوں(جرید) سے ڈھانک دیا۔ اس مسجد کو بنانے میں سات مہینے لگے۔ اس مسجد کا قبلہ بھی بیت المقدس کی طرف بنایا گیا۔ کیونکہ اس وقت تک کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم نہیں آیا تھا۔

 مدینہ میں حضرت محمد جہاں اپنے اونٹ سے اترے، اس سے سب سے قریب کا مکان ابوایوب خالد بن زید کا تھا جو اپنی ماں کی طرف سے حضرت محمد کے رشتہ دار بھی ہوتے تھے۔ ابو ایوب نے اصرار کیا کہ آپ میرے مکان پر چل کر قیام کریں۔ آپ نے کہا کہ میں ایک شرط پر چل سکتا ہوں کہ رات تمہارے یہاں بسر کروں مگر کھانے کا بوجھ تمہارے اوپر نہ ہو۔ ابو ایوب نے کہا، اے محمد! آپ کتنا کھائیں گے کہ مجھ پر بوجھ پڑے گا۔ حضرت محمد نے کہا، میں جتنا بھی کھاؤں، مگر تمہارے اوپر اس کی ذمہ داری نہیں ڈالوں گا۔ جب ابو ایوب نے دیکھا کہ حضرت محمد کھانا نہ کھانے پر اصرار کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کو منظور کر لیا۔

 حضرت محمد تقریباً سات مہینے ابو ایوب انصاری کے مکان میں رہے۔ ابو ایوب کا مکان دو منزلہ تھا۔ دیواریں کچی تھیں اور چھت کھجور کے پتوں کی تھی، اوپر ذرا سا بھی دھماکہ ہوتا تو نیچے مٹی جھڑتی تھی۔ اس لیے ابو ایوب نے اوپر کا حصہ حضرت محمد کے رہنے کے لیے تجویز کیا۔ مگر آپ نے آنے جانے والوں کی آسانی کے لیے نچلی منزل پسند کی۔ ابو ایوب انصاری کا خاندان اوپری چھت پر رہتا تھا۔ ایک روز اتفاق سے ان کے پانی کا برتن ٹوٹ گیا، چھت معمولی تھی۔ اندیشہ ہوا کہ پانی ٹپک کر نیچے گرے گا اور حضرت محمد کو تکلیف ہوگی۔ گھر میں اوڑھنے کے لیے ایک لحاف تھا، انہوں نے اس لحاف کو پانی پر ڈال دیا تاکہ وہ اسے جذب کر لے(سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ276)۔ جب مدینہ کی مسجد بن گئی تو اس کے گرد حجرے بنا دیے گئے، آپ اپنے خاندان سمیت ان حجروں میں جا کر رہنے لگے۔

 ابوایوب انصاری کے یہاں قیام کے زمانہ میں حضرت محمد نے زید بن حارثہ اور ابو رافع کودو اونٹ اور پانچ سو درہم دے کر مکہ بھیجا کہ وہ آپ کے گھر والوں کو مکہ سے مدینہ لے کر آئیں۔ حضرت محمد کی چار بیٹیاں تھیں، فاطمہ، ام کلثوم، رقیہ اور زینب۔ رقیہ اپنے شوہر عثمان کے ساتھ مدینہ آ چکی تھیں۔ دوسری تین لڑکیاں مکہ میں ہی تھیں۔ یہ لوگ فاطمہ اور ام کلثوم اور آپ کی بیوی سودہ بنت زمعہ، اسامہ بن زید اور ان کی زوجہ ام ایمن کو لے کر آگئے۔ آپ کی تیسری لڑکی زینب کو ان کے غیر مسلم شوہر ابوالعاص نے آنے نہ دیا۔ حضرت ابوبکر کے لڑکے عبداللہ اپنی بہن عائشہ اور اپنے دوسرے گھر والوں کو لے کر مدینہ آگئے۔

مکہ کو چھوڑ کر مدینہ آنے والوں میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس رہنے اور سونے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ حضرت محمد نے ان کے لیے مسجد سے ملا ہوا ایک چبوترہ بنوا دیا اور اس کے اوپر کھجور کی شاخوں اور پتوں کا ایک سائبان(صفہ) ڈال دیا۔ اس سائبان میں رہنے والے اسلامی تاریخ میں اصحاب صفہ  کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ صفہ نہ صرف بے گھروں کے لیے گھر تھا بلکہ وہ اسلام کا پہلا مدرسہ بھی تھا جہاں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت ہوتی تھی۔

 ابو ہریرہ بھی انہیں اصحاب صفہ میں سے ایک تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ستر اصحاب صفہ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس لمبی چادر نہ تھی۔ یا صرف تہمد ہوتی تھی یا صرف چھوٹی چادر جس کا ایک سرا وہ اپنی گردن سے باندھ لیتے تھے اور دوسرا ہاتھ سے تھامے رہتے تھے کہ کہیں ستر نہ کھل جائے۔ یہ چادر کسی کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچتی تھی اور کسی کے ٹخنوں تک۔ وہ اپنی بے سروسامانی کی وجہ سے زراعت یا تجارت بھی نہ کر سکتے تھے، ان میں سے کچھ لوگ جنگل کی طرف چلے جاتے اور وہاں سے لکڑیاں لاتے۔ جس کو بیچ کر وہ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے پیٹ بھرنے کا سامان مہیا کرتے۔ کبھی کسی مال دار مسلمان کے یہاں سے کھانے کا انتظام ہو جاتا۔ ایک بار حضرت محمد نے صفہ والوں سے کہا:

’’اے اہل صفہ، تم کو بشارت ہو، میری امت میں جو کوئی محتاجی میں صبر و شکر کی زندگی اس طرح گزارے گا جس طرح تم کرتے ہو، وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ صفہ میں جو لوگ مختلف وقتوں میں مقیم رہے، ان کی مجموعی تعداد تقریباً چار سو ہے۔

حضرت محمد نے اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب کے ساتھ مواخاۃ کا معاملہ کیا۔ آپ نے کہا، اے علی، ہم دونوں کے لیے ایک دن تم روزی کماؤ اور دوسرے دن میں کماؤں گا۔ علی نے کہا، اے خدا کے رسول، مسجد میں آپ کا موجود رہنا ضروری ہے تاکہ آپ مسجد کا انتظام کریں اور مسلمانوں کے مسائل کاجواب دیں۔ میں تنہا دونوں کی روزی کے لیے کام کروں گا۔ حضرت محمد نے تجویز قبول کر لی۔ علی روزانہ صبح کو روزی کمانے کے لیے نکل جاتے۔ اس زمانہ میں مدینہ کے ایک مال دار آدمی کا مکان تیار ہو رہا تھا۔ علی اس کے گارے کے لیے پانی ڈھوتے تھے۔ مکان اور کنواں کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ علی صبح سے شام تک سولہ ڈول سے زیادہ پانی نہ لاپاتے تھے۔ پانی کے ہر ڈول کے لیے ایک خرما کی مزدوری مقرر تھی۔ علی کی دن بھر کی مزدوری سولہ خرما ہوتی تھی جس کا آدھا یعنی آٹھ خرما حضرت محمد کو دیتے اور آٹھ خرما خود کھاتے۔ دونوں اسی طرح عرصہ تک آٹھ خرما پر زندگی گزارتے رہے۔

 مکہ کے مسلمان(مہاجرین) اپنے گھر اور مال کو چھوڑ کر مدینہ پہنچے تھے۔ حضرت محمد نے مدینہ کے مسلمانوں(انصار) سے کہا کہ ایک انصاری ایک مہاجر کو اپنا بھائی بنا لے۔ اپنے مکان میں رکھے اور دونوں ساتھ ساتھ روزی کمائیں۔ جب مکہ کے مسلمانوں خود اپنا انتظام کر لیں گے تو وہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ انصار نے خوشی خوشی آپ کی تجویز مان لی۔

 مدینہ آنے کے پانچویں مہینہ مہاجرین و انصار سے یہ عہد مواخات لیا گیا۔ آپ یکساں ذوق اور حالات والے ایک مہاجر اور ایک انصاری کو بلاتے اور کہتے’’تم دونوں بھائی بھائی ہو‘‘۔ اس کے بعد یہ دونوں اس طرح بھائی بھائی بن جاتے کہ نہ صرف گھر اور جائیداد میں شریک ہو جاتے بلکہ مرنے کے بعد زندہ رہنے والے کو اپنے بھائی کا ورثہ ملتا۔ اس طرح ایک سو چھیاسی مہاجروں نے مدینہ کے مسلمانوں کے ساتھ مواخاۃ کرلی اور ان کے گھروں میں رہنے لگے۔ عہد مواخاۃ کے بعد انصاری بھائی نے اپنی زمین، باغ، مکان، اثاث البیت، ہر چیز کا نصف حصہ اپنے مہاجر بھائی کو پیش کیا۔

 سعد بن ربیع ایک مال دار انصاری تھے۔ عبدالرحمن بن عوف ان کے بھائی ہوئے۔ وہ عبدالرحمن بن عوف کو اپنے گھر لے گئے اور اپنا سب مال و اسباب پیش کرکے کہا کہ’’ان میں سے آدھا آپ لے لیجیے‘‘۔ یہ بھی کہا کہ میری دو بیویاں ہیں، ان میں سے ایک کو پسند کر لیجئے۔ میں اس کو طلاق دے دوں گا، آپ اس سے نکاح کر لیں‘‘۔ عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ مجھے تو تم صرف بازار کا راستہ بتا دو۔ وہ بنی قینقاع کے بازار میں گئے اور گھی اور پنیر کا کاروبار شروع کیا۔ ان کے کاروبار میں اس قدر برکت ہوئی کہ ان کا اسباب تجارت سات سو اونٹوں پر لد کر آتا تھا۔ ایک روز وہ حضرت محمد کے پاس آئے تو کپڑوں سے خوشبو آ رہی تھی۔ آپ نے پوچھا تو بتایا کہ ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ نے ان کو ولیمہ کرنے کا حکم دیا۔’’مواخاۃ‘‘ کا قانونی رشتہ بعد کو ختم کر دیا گیا۔ جب مہاجرین نے مدینہ میں اپنی جگہ بنا لی اور یہودیوں کے چھوڑے ہوئے باغات و مکانات میں ان کو حصے ملے تو اس کی ضرورت نہیں رہی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion