مخالفانہ ردّعمل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ والوں کوکھلے طور پر توحید کی طرف بلایا تو ان کو محسوس ہوا کہ آپ ان کے مشرکانہ دین کو غلط اور بے بنیاد بتا رہے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ آپ کے مخالف ہو گئے۔ اب آپ کے لیے مصیبتوں کا دور شروع ہو گیا۔ ایک بار حضرت ابوبکر کے کہنے پر آپ ان کے ساتھ کعبہ میں آئے۔ مسلمان کعبہ کے صحن میںاکٹھا ہوئے تو مکہ کے دوسرے لوگ بھی بڑی تعداد میں وہاں پہنچ گئے۔ اس اجتماع میں پہلے حضرت ابوبکر نے کھڑے ہو کر تقریر کی۔ قریش کے کچھ لوگ عین اجتماع کے درمیان بگڑ گئے۔ وہ آپ پر اور دوسرے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے۔ عتبہ بن ربیعہ نے حضرت ابوبکر کو اتنا مارا کہ ان کا چہرہ لہولہان ہو گیا۔ اس دوران جب کہ لوگ چاروں طرف سے آپ کو گھیرے ہوئے تھے ، ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ مجمع سے ایک شخص نے جواب دیا:مجنون بن ابی قحافہ۔ کچھ دیر کے بعد حضرت ابوبکر کے خاندان والے وہاں آئے اور بڑی مشکل سے چھڑا کر انہیں گھر پہنچایا۔
دھیرے دھیرے آپ کے گرد مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت بن گئی جس میں عورت، مرد، جوان اور بوڑھے ہر قسم کے لوگ شامل تھے۔ مگر ابھی مخالفین اسلام کا خوف غالب تھا۔ چنانچہ مسلمان مکہ سے باہر پہاڑکی گھاٹی میں جا کر نماز پڑھا کرتے تھے۔ تین سال تک اسلام کی تبلیغ خاموشی سے انفرادی ملاقات کے ذریعہ ہوتی رہی۔ نو مسلموں میں سے ایک ارقم بن ابی الارقم تھے جن کا گھر صفا پہاڑی کے اوپر بالکل الگ تھلگ تھا۔ اس ابتدائی زمانہ میں یہی گھر تبلیغ اسلام کا مرکز بن گیا ، یہاں مسلمانوں کے اجتماعات ہوتے اور تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں مشورے کیے جاتے۔ نبوت ملنے کے بعد ابتدائی تین سال تک یہی دارارقم اسلام کا دعوتی اور تربیتی مرکز بنا رہا۔
تقریباً تین سال تک تبلیغی کام انفرادی ملاقاتوں کے ذریعہ ہوتا رہا۔ اس کے بعد عمومی دعوت کا حکم ہوا۔ مگر ابتدائی مرحلہ میں اس کا دائرہ عزیزوں ، رشتہ داروںتک محدود رکھا گیا:
وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (26:214)۔ یعنی،اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔
آپ نے ایک روز اپنے خاندان بنی ہاشم کے لوگوں کو کھانے پر بلایا۔ تقریباً چالیس آدمی جمع ہوئے۔ اس کا انتظام حضرت علی بن ابی طالب کے سپرد کیا گیا۔ جب لوگ دودھ پی کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا:دیکھو ، میں تم سب کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں۔ اور میں نہیں جانتا کہ عرب میں کوئی بھی شخص اپنی قوم کے لیے اس سے بہتر چیز لایا ہو۔ بتاؤ تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا۔ اسلام کی دعوت اس وقت آپ کے قریبی حلقوں میں اتنی معروف ہو چکی تھی کہ لوگوں کے لیے اس کو سمجھنا مشکل نہ تھا۔ سب لوگ سن کر چپ رہے۔ آخر ایک نوجوان حضرت علی بن ابی طالب اٹھے اور کہا:
’’اگرچہ میری آنکھیں دکھ رہی ہیں ، اگرچہ میری ٹانگیں کمزور ہیں ، اگرچہ میں سب سے چھوٹا ہوں، مگر اے بھائی ، میں آپ کا ساتھ دوں گا‘‘۔اس کے بعد دائرہ کو اور بڑھاتے ہوئے حکم ہوا کہ جس بات کا تم کو حکم دیا گیا ہے ، اس کو کھول کر بیان کر دو:فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ ( سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 262)۔
اب آپ نے عمومی دعوت کے لیے عرب کے ایک دستور کو استعمال کیا۔ ان کے یہاں پرانے زمانہ سے یہ قاعدہ چلا آ رہاتھا کہ جب کسی کو کوئی اہم بات، مثلاً دشمن کے حملہ کی خبر بتانی ہوتی تو وہ پہاڑ پر چڑھ کر آواز لگاتا۔ چنانچہ آپ ایک روز مکہ کے قریب صفا پر چڑھ گئے۔ صفا ایک ٹیلا تھا۔ آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کو نام لے کر پکارا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے پوچھا:
اگر میں کہوں کہ جس پہاڑ کی چوٹی پر میں کھڑا ہوں اس کے پیچھے دشمن کا ایک لشکر جمع ہے جو صبح یا شام تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم لوگ میری بات کا یقین کرو گے‘‘ جواب میں آواز آئی:مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ إِلَّا صِدْقًا(دلائل النبویۃ للبیہقی، جلد2، صفحہ 181)۔ یعنی، ہم نے تو آپ کے بارے میں صرف سچ ہی کا تجربہ کیا ہے۔
آپ نے کہا:اچھا تو سنو، تمہیں اسی طرح مرنا ہے جس طرح تم سوتے ہو اور اسی طرح پھر زندہ ہونا ہے جس طرح تم جاگتے ہو ، صرف ایک خدا کی عبادت کرو ، اس کی خدائی میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو یاد رکھو خدا کا عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا‘‘۔ اس اعلان کے بعد اسلام کی دعوت سارے مکہ میں گفتگو کا موضوع بن گئی۔ ہر طرف یہ چرچا تھا کہ—’’محمد اپنے بزرگوں کے طریقے سے پھر گئے ہیں اور ملک میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
اس وقت مکہ میں آپ کی تصویر یہ تھی کہ— ایک ایسا شخص جو قومی دین کو چھوڑ کر اپنا ایک الگ دین لے کر کھڑا ہو گیا ہو۔ اُس زمانہ میں آپ کے ساتھ جو واقعات پیش آئے اُس کی ایک جھلک مندرجہ ذیل روایت میں ملتی ہے۔
ایک صحابی کہتے ہیں کہ نوجوانی کی عمر میں میں اپنے باپ کے ساتھ منیٰ میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک جگہ لوگوں کی بھیڑ جمع ہے۔ میں نے اپنے باپ سے کہاکہ یہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صابی (بددین) ہے جس کے گرد لوگ اکٹھا ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے جھانک کر دیکھا تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دے رہے تھے اور لوگ آپ کا مذاق اڑا رہے تھے۔
