غزوۃ احد
شوال3ھ
مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد مکہ والوں کے اقدامات کی بنا پر بار بار ان سے جھڑپیں ہوتی رہیں۔ ان میں سے پہلا بڑا واقعہ بدر کا غزوہ تھا۔ اس میں اہل مکہ کو زبردست شکست ہوئی۔ اس شکست کے بعد وہ خاموش نہیں ہوئے۔ ان کے انتقام کا جذبہ بھڑکتا رہا یہاں تک کہ وہ جنگ پیش آئی جس کو غزوۃ احد کہا جاتاہے۔
بدر کے موقع پر قریش کی اس فوج سے مڈبھیڑ ہوئی تھی جو ابوجہل کی سرداری میں مکہ سے نکل کر آئی تھی۔ قریش کا دوسرا گروہ وہ تھا جس کی حیثیت تجارتی قافلہ کی تھی۔ یہ قافلہ سفیان کی سرداری میں شام سے آ رہا تھا، وہ محفوظ طور پر مکہ پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
اس تجارتی سفر میں اہل مکہ نے مشترک طور پر پچاس ہزار کا سرمایہ لگایا تھا۔ اس سے تقریباً دگنا فائدہ حاصل ہوا تھا۔ اب مکہ کے سردار ابوسفیان بن حرب،عبداللہ بن ابی ربیعہ اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ دارالندوہ(مکہ کے چوپال) میں اکٹھا ہوئے۔ مشورہ کے بعدیہ طے پایا کہ اس تجارت کی اصل رقم لوگوں کو لوٹادی جائے اوراس کا جو نفع ہے اس کو مدینہ کے خلاف فوجی کارروائی میں استعمال کیا جائے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے باقاعدہ تیاری کی گئی یہاں تک کہ پورے سازو سامان کے ساتھ تین ہزار کا لشکر 5 شوال3ھ کو مکہ سے مدینہ کے لیے ابو سفیان کی سرداری میں روانہ ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض ذرائع سے قریش کے اس فوجی اقدام کی خبر ہوگئی۔ چنانچہ آپ نے مزید حالات معلوم کرنے کے لیے مدینہ سے دو آدمی روانہ کیے جن کا نام انس اور مونس تھا۔
ان دونوں نے واپس آ کر یہ خبر دی کہ قریش کا لشکر مدینہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اسکے بعد آپ نے حباب بن منذر کو بھیجا تاکہ وہ لشکر کی تعداد کا اندازہ کریں۔ انہوں نے واپس آ کر تعداد وغیرہ کے بارے میں پوری اطلاع دی۔
اس کے بعد آپ نے دفاع کی تیاریاں شروع کر دیں اور صحابہ کو جمع کرکے مشورہ کیا۔ بزرگ صحابہ کی رائے یہ تھی کہ شہر میں رہ کران کا مقابلہ کیا جائے۔ لیکن نوجوان مسلمانوں کی رائے یہ تھی کہ شہر سے نکل کر باہر مقابلہ کرنا چاہیے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں قلعہ بند ہو کر دفاع کیا جائے۔ عبداللہ بن ابی کی رائے بھی یہی تھی۔ عبداللہ بن ابی نے کہا کہ شہر مدینہ ایک قلعہ کی مانند ہے، تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی مدینہ والوں نے مدینہ میں رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا تووہ کامیاب رہے، اور جب وہ مدینہ سے باہر نکلے تو کامیاب نہ ہو سکے۔
کچھ لوگو ں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اگر ہم نے مدینہ میں رہ کر ان کی مدافعت کی تو ہمارے دشمن ہم کو بزدل قرار دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار افراد تھے مگر مذکورہ اختلاف کی بنا پرعبداللہ بن ابی کی سرداری میں تین سوآدمی درمیان سے جدا ہو کر واپس چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات نہیں مانی گئی اس لیے ہم اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم کے ساتھ صرف سات سو افراد باقی رہ گئے۔
احد کی جنگ دوپہر بعد شروع ہوئی اور شام تک ختم ہوگئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی طرف آخر میں سات سو آدمی رہ گئے تھے۔ دوسری طرف اہل مکہ کا لشکر تقریباً تین ہزار افراد پر مشتمل تھا۔ ان کے لشکر کے ساتھ مکہ کی عورتیں بھی آئی تھیں جو رجزیہ اشعار پڑھ کر اپنے لشکریوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارتی تھیں۔ ان عورتوں میں سے کچھ کے نام یہ ہیں:ہندہ بنت عتبہ، ام حکم بنت حارث، فاطمہ بن ولید، برزہ بنت مسعود، ریطہ بنت شیبہ، سلافہ بنت سعد، خناس بن مالک۔
ان میں سے دو عورتیں خناس اور عمرہ دینِ شرک پر باقی رہیں۔ بقیہ عورتوں نے بعد کو اسلام قبول کر لیا۔
مشرکین مکہ نے پانچ آدمیوں کو اپنے لشکر کا سردار بنایا تھا۔ ان کے نام یہ ہیں:خالد بن ولید، عکرمہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ، عمر بن العاص، عبداللہ بن ابی ربیعہ۔ احد کے موقع پر یہ لوگ نہایت بے جگری کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے۔ مگر بعد کو ان کی سوچ میں تبدیلی ہوئی اوران پانچوں نے اسلام قبول کر لیا۔
جنگ شروع ہوئی تو مسلمان اپنی قلت کے باوجود غالب رہے۔ انہوں نے مخالف لشکر کے بہت سے لوگوں کو قتل کیا۔ تاہم اس وقت بھی وہ اسلام کے اصولوں پر قائم رہے۔مثلاً ابودجانہ صحابی تلوار لے کر مخالف لشکر میں گھسے اور انہیں مارنا شروع کیا۔ اسی دوران ایک عورت(ہندہ) ان کے سامنے آگئی۔ مگر جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک عورت ہے، اس کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہیں ہے۔ وہ صرف رجزیہ اشعار پڑھ رہی ہے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اپنی اٹھی ہوئی تلوار روک لی۔ کیوں کہ میدان جنگ میں عورتوں کو یاغیر مقاتلین کو مارنا اسلام میں جائز نہیں۔
احد کی جنگ میں ابتداء ً مسلمانوں کی جیت ہوئی تھی۔ مگر پھر جیت شکست میں تبدیل ہوگئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میدان کے کنارے احد پہاڑ میں ایک درہ تھا جو انتہائی جنگی اہمیت کا حامل تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں مسلمانوں کا ایک دستہ مقرر فرمایا تھا اور یہ حکم دیا تھا کہ تم ہرحال میں یہاں قائم رہنا۔ کسی بھی صورت میں تم یہاں سے نہ ہٹنا۔ مگر ان لوگوں نے دیکھا کہ جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوگئی تووہ درہ کوچھوڑ کر باہر آگئے۔ خالد جو اس وقت مشرکین کے سردار تھے، انہوں نے اس غلطی سے فائدہ اٹھایا اور درہ میں داخل ہو کر پشت کی طرف سے مسلمانوں کے اوپر حملہ کر دیا۔ یہ غیر متوقع حملہ مسلمانوں کے لیے بہت ہی سخت ثابت ہوا یہاں تک کہ فتح دوبارہ شکست میں تبدیل ہوگئی۔
اس جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہ بن عبدالمطلب بھی شہید ہوگئے۔ ان کو مارنے والا مکہ کا ایک غلام تھا جس کا نام وحشی بن حرب تھا۔ اس کو مسلمانوں سے کوئی عناد نہ تھا۔ صرف اپنے آقا کے کہنے پرآزاد ہونے کے لیے اس نے ایسا کیا تھا۔ بعد کو اسے شرمندگی ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس وقت ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے اخدا کے رسول، یہ وہی شخص ہے جس نے آپ کے چچا حمزہ کو قتل کیا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو ایک شخص کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک ہزار کافر کو قتل کرنے سے زیادہ محبوب ہے:دَعُوهُ فَلَإِسْلَامُ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ قَتْلِ أَلْفِ كَافِرٍ(الروض الانف،جلد5، صفحہ317)۔
اس جنگ میں جب مخالفین کے لشکر نے پشت کی طرف سے حملہ کیا تو مسلمانوں کی پاؤں اکھڑ گئے۔ یہاں تک کہ صرف تھوڑے سے لوگ رسول اللہ کے پاس آپ کی حفاظت کے لیے باقی رہے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر مخالفین نے آپ کی طرف ہجوم کیا۔ اس وقت آپ نے بآواز بلند فرمایا کہ کون شخص ہے جو ہمارے لیے اپنی جان کو فروخت کرے اور جنت میں ہمارے ساتھ رہے۔ اس وقت صحابہ کی بڑی تعداد آپ کی طرف دوڑ پڑی اور آپ کو گھیرے میں لے لیا۔ اس طرح مخالفین کو آپ کے اوپر تلوار سے حملہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ البتہ انہوں نے آپ کی طرف کئی پتھر پھینکے جس کی وجہ سے آپ کا چہرہ شدید طور پر زخمی ہوگیااور خون بہنے لگا۔ اس وقت آپ کی زبان سے نکلا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو لہولہان کرے حالانکہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہے۔
آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا تو اسی وقت خدا کی طرف سے فرشتہ یہ حکم لے کر آگیا کہ تم کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔ اللہ یا توان کی توبہ قبول کرے گا یا ان کو عذاب دے گا (2:128)۔
ایک دوسری روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زخمی ہوئے تو آپ نے مخالفین کے کچھ سرداروں کے نام لے کر ان کے خلاف ہلاکت کی دعا کی۔ مثلاً صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام۔ مگر شدید سرکشی کے باوجود اللہ نے اس کی تائید نہیں کی اور رسول اللہ کو واپس بددعا کرنے سے منع فرما دیا۔ اس کی مصلحت بعد کو سامنے آئی۔ کیوں کہ بعد کو یہ تمام سردار اسلام میں اخل ہوگئے اور اسلام کی طاقت کا ذریعہ بنے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ تنبیہ کی گئی تو آپ نے فوراً اپنا انداز بدل دیا۔ اب آپ ان کی ہلاکت کے بجائے ان کی ہدایت کی دعا کرنے لگے۔ اب آپ کی زبان پر ان کی بابت یہ الفاظ تھے:رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ۔ اے رب، میری قوم کو بخش دے کیوں کہ وہ جانتے نہیں ہیں(فتح الباری، جلد8، صفحہ508)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب زخمی ہوگئے اور آپ کے جسم سے کافی خون نکل گیا تو اس وقت آپ نے ایک غار میں پناہ لی۔ کچھ دیر کے لیے آپ لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ یہاں تک کہ یہ مشہور ہوگیا کہ آپ خدا ناخواستہ شہید ہوگئے۔ اسی اثناء میں کعب بن مالک کی نظر آپ پر پڑی۔ وہ آپ کے پاس آئے اور یہ چاہا کہ بلند آواز سے کہیں کہ اے مسلمانو، تم کو خوش خبری ہو کہ رسول اللہ یہاں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے ان کو منع فرمایا کیوں کہ اعلان کی صورت میں یہ اندیشہ تھا کہ مخالفین اس کو جان لیں گے اور کوئی نیا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
جنگ کے آخری مرحلہ میں جو واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مخالف لشکر کا سردار ایک پہاڑی پر کھڑا ہوا۔ اس نے کہا:أُعْلُ هُبَلْ، أُعْلُ هُبَلْ(ہبل بلند ہو ہبل بلند ہو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا کہ اس کے جواب میں یہ کہو، اللهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ(اللہ ہی بڑا اور برتر ہے) مخالف لشکر کے سردار نے دوبارہ کہا:إِنَّ لَنَا العُزَّى وَلاَ عُزَّى لَكُم(ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارے پاس عزیٰ نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا تم اس طرح جواب دو:اللهُ مَوْلاَنَا، وَلاَ مَوْلَى لَكُمْ(اللہ ہمارا مدد گار ہے اور تمہارا کوئی مدد گار نہیں) صحیح البخاری، حدیث نمبر3039۔
پھر مخالف لشکر کے سردار نے آخر میں کہا:يَوْمُ بِيَوْمِ بَدْرٍ أَلَا إنّ الْأَيّامَ دُوَلٌ، وَإِنّ الْحَرْبَ سِجَالٌ۔یہ دن بدر کے دن کا جواب ہے۔ اور لڑائی ڈول کی مانند ہے(کبھی اوپر کبھی نیچے)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے جواب دیا کہ:لَا سَوَاءَ، قَتْلَانَا فِي الْجَنّةِ وَقَتْلَاكُمْ فِي النّارِ(ہم اور تم برابر نہیں ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین آگ میں) مغازی الواقدی، جلد 1، صفحہ 297۔
اس جنگ میں جب مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ان کے بہت سے لوگ شہید ہوئے تو مخالفین نے ان شہداء کے جسموں کو لے کر ان کا مثلہ کیا۔ ان کے کان اور ناک کاٹے۔ اور اس طرح ان کا حلیہ بگاڑ کر خوشی منائی۔ مگر جب کے آخر میں جب مخالف لشکر کے سردار ابوسفیان کی ملاقات حضرت عمر سے ہوئی تو ابوسفیان نے حضرت عمر سے کہا کہ اس موقع پر تمہارے مقتولین کا مثلہ کیا گیا۔ خدا کی قسم میں نہ اس پر راضی ہوا نہ میں نے اس کو ناپسند کیا، نہ میں اس سے روکا اور نہ میں نے اس کا حکم دیا۔(إنَّهُ قَدْ كَانَ فِي قَتْلَاكُمْ مُثُلٌ، وَاللهِ مَا رَضِيتُ، وَمَا سَخِطْتُ، وَمَا نَهَيْتُ، وَمَا أَمَرْتُ) سیرۃ ابن ہشام ، جلد2، صفحہ 94۔
غزوۃ احد میں کچھ مسلم خواتین نے بھی شرکت کی۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ احد کے دن میں نے حضرت عائشہ اور اپنی والدہ ام سلیم کو دیکھا کہ کپڑے سمیٹے ہوئے پانی کی مشک بھر بھر کر پشت پر رکھ کر لاتی ہیں اور میدان جنگ میں لوگوں کو پلاتی ہیں۔ جب مشک خالی ہو جاتی ہے تو پھر بھر کر لاتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عمر کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری کی والدہ ام سلیط بھی احد کے دن ہمارے لیے مشک بھر بھر کر پانی لاتی تھیں۔
ربیع بن معوذ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاتے تھے کہ لوگوں کو پانی پلائیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کریں اور مقتولین کو اٹھا کر لائیں۔ مگر ہم لوگ جنگ نہیں کرتے تھے۔
اسی طرح ام عطیہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ غزوات میں مریضوں کی خبر گیری اور زخمیوں کے علاج کی غرض سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ ان عورتوں نے فقط لوگوں کو پانی پلایا اور مریضوں اور زخمیوں کی خبر گیری کی لیکن قتال نہیں کیا۔ مگر ام عمارہ نے جب دیکھا کہ ابن قمیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کررہا ہے تو انہوں نے اس حالت میں آگے بڑھ کر مقابلہ کیا۔
غزوۃ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے۔ ان میں سے بیشتر انصارسے تعلق رکھتے تھے۔تجہیز وتکفین کے وقت بے سروسامانی کی بنا پر بہت سے عبرت انگیز واقعات پیش آئے۔ مثلاً مصعب بن عمیر کی تکفین ہونے لگی تو معلوم ہوا کہ جس چادر میں ان کو کفن دینا تھا وہ چھوٹی ہے۔ سر اگر ڈھانکا جاتا تھا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور اگر پاؤں ڈھکے جاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سرڈھانک دو اور پیروں پر اذخر(گھاس) ڈال دو۔
احد کے ان شہداء کو نہلائے بغیر دفن کیا گیا۔ بعض لوگوں نے شہیدوں کے تئیں یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے شہدیوں کو لے جا کر مدینہ میں دفن کریں گے۔ رسول اللہ نے منع فرمایا اور حکم دیاکہ جہاں شہید ہوئے وہیں دفن کر دیا جائے۔
