رسول اللہ کی بعثت

جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس وحی بھیجی اور آپ کو اپنا پیغمبر بنایا۔ پہلی چیز جس سے آپ کی رسالت کی ابتدا ہوئی وہ سچے خواب تھے۔ آپ نیند کی حالت میں جو خواب دیکھتے وہ دن میں بالکل صحیح ثابت ہوتے۔ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے تنہائی کو آپ کے لیے محبوب بنا دیا۔ اس زمانہ میں کوئی چیز آپ کو تنہائی سے زیادہ پسندیدہ نہ تھی۔ مکہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر غار حرا واقع ہے۔ اکثر آپ وہاں چلے جاتے اور تنہائی میں غور و فکر اور عبادت کرتے رہتے۔

رمضان کا مہینہ تھا۔ رات کے وقت آپ حسب معمول غار حرا میں تھے کہ جبریل (فرشتہ) اللہ کی طرف سے آپ کے پاس آئے۔ اس وقت آپ غار حرا میں سوئے ہوئے تھے۔ جبریل نے آپ کو اٹھایا اور کہا کہ:اقرأ (پڑھ) آپ نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے تین بار آپ کو اپنے سینے سے لگایا یہاں تک کہ آپ کی کیفیت بدل گئی۔ اس کے بعد حضرت جبریل نے آپ کو وہ سورہ پڑھائی جو موجودہ قرآن میں العلق (96) کے نام سے شامل ہے۔

آپ غار حرا سے واپس ہو کر اپنے مکان پر آئے اور اپنی اہلیہ حضرت خدیجہ سے پورا واقعہ بیان فرمایا۔ انہوں نے کہاکہ آپ کو مبارک ہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں خدیجہ کی جان ہے ، بے شک میں اس بات کی امید رکھتی ہوں کہ آپ اس امت کے نبی ہوں گے۔ حضرت خدیجہ آپ کی سچائی اور آپ کی سنجیدگی کا اتنا زیادہ تجربہ کر چکی تھیں کہ انہیں آپ کی روایت کو ماننے میں کوئی تامل نہ ہوا۔ وہ اس کو سنتے ہی فوراً آپ کی مومن بن گئیں۔

اس کے بعد حضرت خدیجہ اٹھیں۔ اپنے اوپر ایک چادر ڈال لی اور ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں جو ان کے چچا زاد بھائی تھے۔ ورقہ نے مسیحی مذہب اختیارکر لیا تھااور تورات اور انجیل پڑھتے رہتے تھے۔ حضرت خدیجہ نے جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غار حرا کا تجربہ بتایا تو ورقہ بن نوفل نے کہا:قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں ورقہ کی جان ہے ، اے خدیجہ ، اگر تو نے سچ کہا ہے تو ناموسِ اکبر جو موسیٰ کے پاس آتا تھا ، وہ محمد کے پاس آ چکا تھا ، اور بے شک وہ اس امت کے نبی ہیں۔ ان سے کہہ دوکہ وہ ثابت قدمی اختیار کریں۔ اس کے بعدوہ رسول اللہ سے ملے اور آپ کی زبان سے غار حرا کا تجربہ سننے کے بعد کہا کہ آپ کو جھٹلایا جائے گا ، آپ کو تکلیف پہنچائی جائے گی ، حتیٰ کہ آپ سے جنگ کی جائے گی۔ اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو میں ضرور آپ کا ساتھ دوں گا(صحیح البخاری، حدیث نمبر4953 )۔

اس کے بعد آپ نے لوگوں کے سامنے اپنی پیغمبری کا اعلان کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے لگے۔ لوگوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ آپ کو لوگوں کی ناپسندیدہ باتیں سن کر سخت صدمہ ہوتا۔ آپ غمگین حالت میں اپنے گھر واپس آتے۔ اس وقت حضرت خدیجہ آپ کو تسلی دیتیں اور آپ کا بار ہلکا کرتیں۔ حضرت خدیجہ اس زمانہ میں آپ کے لیے بہترین رفیقِ حیات ثابت ہوئیں۔

ایک روز آپ اپنے گھر میں تھے۔حضرت جبرئیل آئے۔ انہوں نے کہاکہ خدیجہ کو ان کے رب کا سلام پہنچا دیجئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایک ایسے موتیوں کے گھر کی خوش خبری دے دوں جس میں نہ شور ہو گا اور نہ تکلیف۔ آپ کے مخالفین آپ کے گھر کے پاس آ کر شورکرتے اور آپ کے راستہ میں کانٹے ڈالتے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتہ کے ذریعہ حضرت خدیجہ کو مذکورہ خوش خبری بھیجی۔

نبوت کے ابتدائی زمانہ میں جو سورتیں آپ پر اتریں ان میں سے ایک سورہ الضحیٰ (93) تھی۔

اس سورہ کی آخری آیات کا ترجمہ یہ ہے:

اللہ نے تم کو متلاشی پایا تو اس نے تم کو راہ دکھائی اور تم کو نادار پایا تو تم کو غنی کر دیا۔ پس تم یتیم پر سختی نہ کرو۔ اور تم سائل کو نہ چھڑکو۔ اور تم اپنے رب کی نعمت بیان کرو(93:7-11)۔

اس آیت میں رب کی نعمت بیان کرنا (تحدیث نعمت) کی تشریح ابن ہشام نے اس طرح نقل کی ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے نبوت کی جو نعمت اورعزت تم کو ملی ہے اس کو بیان کرو، اس کا چرچا کرو اور اس کی طرف لوگوں کو بلاؤ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوںکو بیان کرنے لگے جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے ذریعہ سے تمام بندوں پر انعام فرمائی تھیں۔ ابتدا میں آپ تنہائی میں ان باتوں کو لوگوں سے بیان کرتے جن پر آپ کو اعتماد تھا۔ پھر دھیرے دھیرے آپ کا پیغام عام ہوا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع میں جب نماز کا حکم اترا تو ہر نماز کی 2،2 رکعتیں فرض ہوئیں۔ پھر اللہ نے حضر میں انہیں پورا کر کے چار رکعت کر دیا اور سفر میں ان کی ابتدائی فرضیت یعنی 2 رکعت برقرار رکھی۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز فرض ہوئی تو حضرت جبریل مکہ میں آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپ کے سامنے وضو کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا ، پھر آپ نے بھی اسی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت جبریل کے ساتھ نماز ادا کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آئے تو آپ نے حضرت خدیجہ کو وضو اورنماز کا طریقہ سکھایا جس طرح حضرت جبریل نے آپ کو سکھایا تھا۔

قریبی مردوں میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والے حضرت علی تھے۔ اس وقت ان کی عمر دس سال تھی۔ حضرت علی بن ابی طالب نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور اس چیز کی تصدیق کی جو آپ کے پاس اللہ کی طرف سے آئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو ان کے والد ابو طالب سے لے لیا تھا اور وہ آپ کے ساتھ رہنے لگے تھے۔

مکہ کے حالات اس وقت آپ کے لیے بہت سخت تھے۔ چنانچہ جب نماز کا وقت آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گھاٹی کی طرف چلے جاتے۔ حضرت علی بھی آپ کے ساتھ ہو جاتے۔ وہاں دونوں چھپ کر نماز پڑھتے۔ ایک روز جب کہ دونوں اس طرح نماز پڑھ رہے تھے ، ابو طالب وہاں آ گئے۔ انہوں نے آپ کو نئی بات میں مشغول دیکھ کرکہا کہ اے میرے بھتیجے ، یہ کون سادین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے رسول بنائے جانے کی خبر دی اور ان سے کہا کہ آپ میری دعوت کو قبول کر لیں۔ ابو طالب نے جواب دیا:اے میرے بھتیجے ، میں اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ نہیں سکتا۔ مگر خدا کی قسم، میں جب تک زندہ ہوں تمہارے اوپر کوئی ایسی بات نہیں آئے گی جس کو تم ناپسند کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم تھے ، ان کا نام زید بن حارثہ تھا۔ انہیں آپ سے اتنا زیادہ تعلق ہو گیا کہ ان کے والد ایک بار آئے اور زید بن حارثہ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہا۔ آپ نے زید سے کہا کہ تم چاہو تو میرے پاس رہو اور اگر چاہو تو اپنے باپ کے ساتھ چلے جاؤ۔ وہ رسول اللہ کے پاس ہی رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنا پیغمبر بنایا۔ اس وقت انہوں نے آپ کی تصدیق کی اور اسلام کو اختیار کر کے آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔

ابوبکر بن ابی قحافہ آپ کے ملنے والوں میں تھے۔ انہوںنے بھی کسی تردد کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ وہ اپنے نرم اخلاق کی وجہ سے لوگوں کے درمیان محبوب تھے۔ اور تجارت کی وجہ سے وسیع تعلقات رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے جاننے والوں میں اسلام کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان کے اثر سے بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔ مثلاً عثمان بن عفان ، زبیر بن العوام ، عبدالرحمن بن عوف ، سعد بن ابی وقاص ، طلح بن عبید اللہ ، وغیرہ۔ یہ آٹھ آدمی تھے جنہوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر بن ابی قحافہ کی بابت فرمایا کہ میں نے جس شخص کو بھی اسلام کی دعوت دی اس نے اس کو قبول کرنے میں کچھ نہ کچھ تردد اور پس و پیش کیا ، سوا ابوبکر بن ابی قحافہ کے۔ جب میں نے ان کے سامنے اسلام کا ذکر کیاتو انہوں نے کسی تاخیر اور تردد کے بغیر اس کو قبول کر لیا۔

اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی انفرادی طور پر لوگوں کو اس بات کی دعوت دینے لگے کہ وہ بت پرستی کو چھوڑ دیں اور ایک خدا کی عبادت کریں۔ ان کی کوششوں سے مسلمانوں کی تعداد میں دھیرے دھیرے اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ سیرت ابن ہشام میں ان اسلام قبول کرنے والوں کا ذکر نام بنام کیا گیا ہے۔ انہی میں فاطمہ بنت الخطاب تھیں جو بعد کو عمر فاروق کے اسلام لانے کا سبب بنیں۔ انہیں میں صہیب رومی تھے جن کی بابت رسول اللہ نے فرمایا کہ:صُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ(سیرۃ ابن ہشام، جلد1، صفحہ 262)۔ یعنی، صہیب رومیوں میں سے سبقت کرنے والے ہیں۔

ابتدائی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تبلیغ کرتے تھے ، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہو گا۔ عمرو بن عبسہ اونٹ پر سوار ہو کر آپ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ اے محمد ، کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ نے کہا ، ہاں۔ انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، مجھ کو وہ بات بتائیے جو اللہ نے آپ کو بتائی ہے۔ آپ نے جواب دیا:یہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور صلہ رحمی کی جائے ، خون نہ بہایا جائے ، راستوں میں امن قائم کیا جائے ، بتوں کو توڑ دیا جائے۔

عمرو بن عبسہ نے یہ سن کر کہا کہ کتنی اچھی بات ہے جس کو لے کر اللہ نے آپ کو بھیجا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں آپ پر ایمان لایا اور میں آپ کی نبوت کی تصدیق کرتا ہوں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion