بعث عمر بن امیہ ضمری

ابو سفیان نے ایک مرتبہ قریش کے مجمع میں یہ کہا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں کہ جو جا کر محمد کو قتل کر آئے۔ ایک اعرابی نے کہا میں اس کام میں بڑا ماہر ہوں اگر تم میری مدد کرو تو میں اس کام کو کر سکتا ہوں۔ ابو سفیان نے اس کو سواری کے لیے ایک اونٹنی دی اور خرچ دیا اور امداد کا وعدہ کیا۔ وہ اعرابی مدینہ کے لیے روانہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی عبدالاشہل میں تھے۔ اس اعرابی کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھ کر کہا یہ کسی بری نیت سے آ رہا ہے۔ اُسید بن حضیر اٹھے اور اس اعرابی کو پکڑ لیا۔ وہ ایک خنجر کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھاجو چھوٹ کر گر گیا۔ آپ نے کہا سچ بتاؤ کس نیت سے آئے ہو۔ اس نے کہا اگر امن ہو تو بتا دوں۔ آپ نے کہا تجھ کو امن ہے۔ اعرابی نے تمام واقعہ بیان کر دیا۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد اعرابی نے اسلام قبول کر لیا۔

 اس واقعہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن امیہ ضمری اور سلمہ بن اسلم انصاری کو مکہ روانہ کیا کہ وہ وہاں پہنچ کر ابو سفیان کو تنبیہ کریں۔ جب یہ دونوں مکہ میں داخل ہوئے تو یہ ارادہ کیا کہ مسجد حرام میں داخل ہو کر پہلے طواف کر لیں۔ ابو سفیان نے ان کو دیکھ لیا اور چلایا، دیکھو یہ کسی شر کے لیے آئے ہیں۔ عمر بن امیہ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ابو سفیان کے خلاف کارروائی اب ممکن نہیں، بہتر ہے کہ ہم یہاں سے واپس ہولیں۔ چنانچہ وہ لوگ مدینہ چلے آئے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion