غزوہ تبوک

رجب 9ھ

رجب 9ھ میں ہر قل شاہ روم کو یہ بے اصل خبر پہنچائی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا ہے اور لوگ بھکمری اور قحط سے دو چار ہیں۔ اس لیے عرب پر حملہ آور ہونے کا سب سے مناسب موقع یہی ہے۔ ہر قل یہ خبر پا کر فوراً آمادہ ہوگیا اور چالیس ہزار کا لشکر مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے تیار کیا۔

آپ کو جب یہ خبر معلوم ہوئی کہ اس کا مقدمۃ الجیش بلقاء تک پہنچ چکا ہے اور یہ کہ ہر قل نے اپنے فوجیوں کو سال بھر کی پیشگی تنخواہیں بھی دے دی ہیں اور رومی پوری طرح آمادۂ جنگ ہیں تو آپ نے دفاع کے لیے تیاری کا حکم دیا اور لوگوں سے تعاون کی اپیل کی۔ سخت حالات کی بنا پر یہ سفر بہت صبر آزما تھا۔ منافقین نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر ورغلانا شروع کیا کہ:لَا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ (9:81)۔یعنی، ایسی گرمی میں جنگ کے لیے مت نکلو۔

تاہم مخلص مسلمان اس کے لیے تیار ہوگئے۔ سب سے پہلے ابوبکر صدیق نے اپنا کل اثاثہ آپ کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ جب آپ نے پوچھا کہ اہل وعیال کے لیے کیا چھوڑا ہے۔ تو آپ نے جوا ب دیا:صرف اللہ اور اس کے رسول کو۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنا آدھا مال پیش کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تین سو اونٹ مع سازو سامان کے اور ایک ہزار دینار لا کر اس مہم کے لیے دیا۔ آپ نہایت خوش ہوئے۔ آپ نے فرمایا اس عمل صالح کے بعد عثمان کو کوئی عمل ضرر نہیں پہنچائے گا اور حضرت عثمان کے لیے دعا کی۔

صحابہ کی ایک جماعت ایسی بھی تھی جو اس سفر پر جانے کے لیے تیار تھی لیکن زادراہ اور سواری نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ اپنے آپ کو مجبور پاتے تھے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ سے سواری طلب کی لیکن آپ نے معذرت کر دی۔ وہ لوگ روتے ہوئے واپس ہوئے۔

 انہی لوگوں کے متعلق قرآن کی وہ آیت اتری جس کا ترجمہ یہ ہے:اور نہ ان لوگوں پر الزام ہے کہ جب تمہارے پاس آئے کہ تم ان کو سواری دو۔ تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ تم کو اس پر سوار کر دوں تو وہ اسی حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس غم میں کہ انہیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں۔(9:92)

جب مدینہ سے روانگی کا وقت آیا تو آپ نے محمد بن سلمہ انصاری کو مدینہ میں اپنا قائم مقام اور والی مقرر کیا اور حضرت علی کو اہل وعیال کی حفاظت و نگرانی کے لیے مدینہ میں چھوڑا۔ اس کے بعد مدینہ سے30 ہزار فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ راستہ میں وہ عبرتناک مقام بھی پڑتا تھا جہاں قوم شمود پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ جب قافلے کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ نے چہرہ پر کپڑا لٹکا لیا اور ناقہ کو تیز کر دیا اور تمام لوگوں کو یہ تاکید کی کہ کوئی شخص ان مکانات میں داخل نہ ہو اور نہ ہی یہاں کا پانی وغیرہ استعمال کرے۔

 ایک جگہ آپ نے پڑاؤ ڈالا تو اس دوران آپ کی اونٹنی گم ہوگئی۔ ایک منافق نے کہا کہ محمد آسمان کی خبریں تو بیان کرتے ہیں لیکن زمین پر اپنی اونٹنی کی انہیں خبر نہیں۔ آپ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا:خدا کی قسم مجھ کو جوکچھ بھی معلوم ہوتا ہے وہ اللہ کی وحی سے ہوتا ہے۔ اور اب الہام سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اونٹنی فلاح وادی میں ہے۔ اور اس کی مہار ایک درخت سے اٹک گئی ہے۔ چنانچہ صحابہ جا کر اس اونٹنی کو لے آئے۔

 تبوک پہنچ کر آپ نے بیس روز قیام فرمایا مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا۔ اسی مقام سے آپ نے خالد بن ولید کی قیادت میں چار سو بیس سواروں کے ساتھ اکیدر کی طرف بھیجا جو ہر قل کی طرف سے دومۃ الجندل کا حاکم اور فرماں روا تھا۔

آپ نے روانگی کے وقت خالد بن ولید سے فرمایا کہ وہ شکار کھیلتا ہوا ملے گا تم اسے قتل مت کرنا صرف گرفتار کرکے میرے پاس لے آنا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ خالد بن ولید اسے پکڑ کر آپ کے پاس لے آئے۔ اس نے آپ سے صلح کر لی۔

 بیس روز قیام کے بعد آپ تبوک سے مدینہ واپس ہوئے۔ مدینہ پہنچ کر آپ نے دو افراد کو حکم دیا کہ وہ جا کر مسجد ضرار کو ڈھا دیں۔ یہ وہ مسجد تھی جس کو منافقین نے تعمیر کیا تھا۔ تبوک کے لیے روانگی سے قبل منافقین نے آپ سے کہا تھا کہ آپ آ کر یہاں ایک مرتبہ نماز پڑھا دیں تاکہ اس میں برکت ہو۔ آپ نے فرمایا تھا کہ جب میں تبوک سے واپس آؤں گا تب دیکھا جائے گا۔ واپس آنے کے بعد آپ نے اس کو ڈھانے کا حکم دے دیا۔

اس غزوہ میں تقریباً تمام ہی لوگ شریک ہوئے تھے بجز چند افراد کے جن میں سے کچھ کے پاس شرعی عذر تھا۔ البتہ تین ایسے تھے جنہوں نے بلاعذر اس میں شرکت نہیں کی تھی اور جنہیں قرآن میں پیچھے رہ جانے والے کہا گیا ہے۔ ان لوگوں نے رسول اللہ کے پاس آ کر اپنے قصور کا اعتراف کر لیا۔ آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ پچاس دن تک کوئی ان سے بات چیت نہ کرے۔ پچاس دن کے بعد وحی نازل ہوئی جس میں ان کی توبہ کی قبولیت کی بشارت تھی۔ آپ نے حضرت کعب کو، جو ان تین پیچھے رہ جانے والوں میں شامل تھے، مبارکباد دی اور کہا’’مبارک ہو تم کو یہ دن جو تمہار ی زندگی کا سب سے بہتر دن ہے‘‘۔

حضرت کعب نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ نے مجھ کو محض سچ کی وجہ سے نجات دی ہے۔ اس لیے میں توبہ کا یہ تکملہ سمجھتا ہوں کہ تادم حیات جھوٹ نہ بولوں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion