مکہ میں تبلیغ

حج کے موسم میں ہر سال سارے عرب کے لوگ مکہ میں جمع ہوتے۔ آپ گھوم گھوم کر ان کے درمیان تبلیغ کرتے۔ اسی طرح عکاظ اور مجنہ اور ذوالمجاز کے میلوں میں جا کر لوگوں تک اپنی بات پہنچاتے۔

عبداللہ بن وابصہ العبسی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت محمد منیٰ میں ہم لوگوں کے خیموں پر آئے۔ ہم لوگ جمرۂ اولیٰ کے قریب خیف کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ اونٹنی پر سوار تھے۔ پیچھے زید بن حارثہ کو بٹھا رکھا تھا۔ آپ نے ہمیں اسلام کی دعوت دی۔ خدا کی قسم، ہم نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا۔ ہم نے آپ کے اور آپ کی تبلیغ کے بارے میں ہی سن رکھا تھا کہ موسم حج میں آپ گھوم گھوم کر قبائل عرب کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں۔ آپ کھڑے ہوئے کہتے رہے اور ہم خاموش سنتے رہے۔ ہمارے ساتھ میسرہ بن مسروق عبسی بھی تھے۔ انہوں نے کہا ، میں تو لوگوںکو خدا کی قسم دے کرکہتاہوں کہ اگر ہم اس آدمی کی تصدیق کریں اور اس کو لے جا کر اپنے قافلہ کے وسط میں ٹھہرائیں تو بہت اچھی بات ہو گی۔ میں پھر خدا کی قسم کھاکرکہتا ہوںکہ اسکی بات یہاںتک غالب آ کر رہے گی کہ ہر جگہ پہنچ جائے گی۔ قوم نے جواب دیا ، ان باتوںکو چھوڑو۔ ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کو ماننے کے لیے ہم میں سے کوئی تیار نہیں۔ میسرہ نے کہا۔ اس میں شک نہیں کہ آپ کی بات بہت بھلی ہے مگر کیا کروں میرا قبیلہ میرا مخالف ہو جائے گا اور آدمی اپنے قبیلہ کے ساتھ ہی زندہ رہ سکتا ہے:وَإِنَّمَا الرَّجُلُ بِقَوْمِهِ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ 170) ۔

حضرت محمد نے جب صفا پر کھڑے ہوکر اپنی رسالت کا اعلان کیااور کہاکہ ایک خدا کی اطاعت کرو ورنہ تم خدا کے یہاں پکڑے جاؤ گے تو آپ کا چچا ابو لہب چلّا کر بولا ’’کیا تو نے یہی سنانے کے لیے ہم کو یہاں بلایا تھا‘‘ پھر حاضرین کی طرف منھ کر کے کہا ’’تم لوگ ان باتوں کو نہ سنو، اپنے اپنے گھروں کو واپس جاؤ۔ کیوں کہ محمد کی عقل کھوئی گئی ہے‘‘ لوگ منتشر ہو گئے اور علی بن ابی طالب اور حضرت زید بن حارثہ کے سوا آپ کے پاس کوئی باقی نہ رہا۔

آپ کے خاندان والوں نے ، جو قریش سے تھے ، آپ کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت محمد پر اُس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے ، تو وہ باقاعدہ تکلیفیں دینے پر اتر آئے۔ ایک روز جب کہ حضرت محمد اور حضرت خدیجہ گھر میں تھے ، دیکھا کہ آپ کی دو لڑکیاں جو ابولہب کے لڑکوں سے بیاہی تھیں ، سامان لیے ہوئے چلی آ رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ ہمارے شوہروں نے ہم کو طلاق دے دی ہے اور کہا ہے کہ اپنے باپ کے گھر چلی جاؤ۔ حضرت خدیجہ نے لڑکیوں سے پوچھا کہ تمہیںکیوں طلاق دی۔ لڑکیوں نے جواب دیاکہ ہمارے شوہروں نے ابو لہب اور اس کی بیوی جمیلہ کے کہنے پرطلاق دی ہے۔ انہوں نے اپنے لڑکوں پر زور دیا کہ یہ مناسب نہیں کہ ابولہب کے گھر میں محمد کی لڑکیاں ہوں‘‘۔

ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے لوگوں کے پتھروں سے اس قدر زخمی ہو گئے کہ جب گھر پہنچے تو لہولہان ہو رہے تھے۔ دوسرے روز بھی آپ درد اور تکلیف کی زیادتی کے باعث اس قابل نہ ہو سکے کہ اٹھ کر خانہ کعبہ جائیں اور وہاں نماز ادا کریں۔ اس روز جو مسلمان عبادت کے لیے کعبہ میں جمع ہوئے تھے ، انہوں نے آپ کے بغیر نماز پڑھی۔ یہ لوگ جب سجدے میں گئے تو قریش نے ان پر حملہ کر دیا۔ جو مسلمان زخمی ہوئے ان میں ایک حارث بھی تھے جو آپ کی زوجہ حضرت خدیجہ کے لڑکے تھے جو پچھلے شوہر سے پیدا ہوئے تھے۔ حارث پہلے شخص ہیں جو اسلام کی راہ میں شہید ہوئے۔ انہیں سجدہ کی حالت میں حرم کعبہ میں قتل کیا گیا۔

ابولہب اور اس کی بیوی نہ صرف آپ کے قریبی رشتہ دار تھے بلکہ اونچے طبقہ کے لوگ تھے۔ مگر وہ آپ کے گھر میں پتھر پھینکنے لگے ، لڑکوں کو ابھارا کہ وہ آپ کے گھر میں پتھر پھینکیں اور مردہ جانوروں کی لاشیں اور دوسری آلودگیاں پیغمبر کے مکان میں ڈالیں۔ ابولہب کی بیوی جمیلہ آپ کے راستہ میں کانٹے بچھا دیتی تاکہ آپ کے پیروں میں گڑ جائیں۔ آپ گھر واپس آ کر پیروں سے کانٹے نکالتے تو ان جگہوں سے خون بہنے لگتا۔ کوئی دن ایسانہ تھاکہ حضرت محمد کعبہ سے واپسی پر خون آلود نہ ہوئے ہوں۔ کیوں کہ قریش پوری بے رحمی کے ساتھ آپ کی طرف پتھر پھینکتے تھے۔ قریش والوں کو آپ سے ایسی دشمنی تھی کہ کعبہ کے احترام کی رعایت بھی نہ کرتے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں نہ تو کعبہ میں اجتماعی عبادت ممکن تھی اور نہ ہی کسی دوسری جگہ عبادت کے لیے جمع ہونا قریش کی مسلسل نگرانی کے باعث ممکن تھا۔ اگر کسی مسلمان کے گھر میں جمع ہوتے تو محلہ والے دیکھ لیتے اور ہمارے اوپر حملہ کر دیتے۔ اس لیے ہم نے ایسا کیا کہ ہم شہر سے نکل جاتے اور کسی دور دراز مقام پر جمع ہو کر عبادت کرتے ۔ عبادت ختم ہونے کے بعد دوسری جگہ طے کر لی جاتی تاکہ اگلے روز مسلمان وہاں جمع ہو سکیں۔ کیوں کہ قریش کے لوگ اس طرح ہمارے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ اگر لگاتار دو روز بھی کسی ایک جگہ جمع ہوتے تو وہ جان لیتے تھے۔

ابوذر غفاری مکہ سے دور قبیلہ غفار کی آبادیوں میں رہتے تھے۔ وہ پہلے سے حق کی تلاش میں تھے۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ابوذر غفاری کو جب معلوم ہوا کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے آپ کو پیغمبر بتاتا ہے تو انہوں نے اپنے بڑے بھائی اُنَیس سے کہا کہ آپ مکہ جایئے اور اس شخص کی خبر لایئے جو وہاں پیدا ہوا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اور مجھ پر آسمان سے وحی آتی ہے۔ اس کا کلام سنئے اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے ۔

اس کے بعد اُنَیس غفاری اونٹ پر سوار ہو کر مکہ آئے۔ انہوں نے رسول اللہ سے ملاقات کی اور ضروری واقفیت حاصل کر کے واپس چلے گئے۔ جب وہ اپنے بھائی کے پاس پہنچے تو انہوں نے پوچھا کہ مکہ سے کیا خبر لے آئے۔

اُنَیس نے بتایا کہ میں جب مکہ پہنچاتو میں نے محمد بن عبداللہ کو اس حال میں پایا کہ وہاں کا کوئی شخص ان کو کاذب کہتا تھا اور کوئی شخص انہیں جادوگر بتاتا تھا اور کوئی شخص انہیں کاہن اور شاعر کہتا تھا۔ مگر اُنیَس بہت سمجھ دار اور تجربہ کار آدمی تھے۔ وہ ایک شاعر بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہے۔ محمد کا کلام کاہنوں کی مانند نہیں۔ ان کے کلام کو میں نے شعری اوزان پر رکھ کر دیکھا تو وہ شعر بھی نہیں تھا۔ خدا کی قسم وہ ایک سچے آدمی ہیں (وَاللهِ ‌إِنَّهُ ‌لَصَادِقٌ) انہوں نے مزید کہا:

رَأَ  يْتُهُ يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ وَيَنْهَى عَنِ الشَّرِّرَأَ  يْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَلَامًا مَا هُوَ ‌بِالشِّعْرِ(فتح الباری لابن حجر، جلد7، صفحہ 174)۔ یعنی،میں نے ان کو دیکھا کہ وہ خیر کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ اچھے اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور میں نے ان سے ایساکلام سنا جو شعر نہیں۔

ابوذر غفاری نے یہ باتیں سنیں تو ان کے اندر شوق پیدا ہوا کہ وہ خود مکہ جائیں اور براہ راست معاملہ کو جانیں۔ انہوں نے اپنا سواری کا اونٹ تیار کیا اور پانی کا مشکیزہ اور کچھ کھانے کا سامان لے کر مکہ کے لیے روانہ ہو گئے۔

سب سے پہلے ان کی ملاقات علی بن ابی طالب سے ہوئی۔ وہ ان کو رسول اللہ کے پاس لے گئے۔ ابوذر غفاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ کا کلاس سنا۔ وہ پہلے سے ہی حق کی تلاش میں تھے ، پہلی ہی ملاقات میں آپ کی صداقت کو پا گئے اور کلمہ ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد وہ حرم میں گئے۔ وہاں انہوں نے نماز پڑھی اور اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ یہ بات مکہ کے مشرکوںکو سخت ناگوار ہوئی۔ انہوں نے ابوذر غفاری کو مارنا شروع کیا حتیٰ کہ وہ نڈھال ہو کرزمین پر گر پڑے۔ عبداللہ بن عباس نے آ کر انہیں بچایا۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہاکہ تم اپنی قوم کی طرف لوٹ جاؤ اور وہاں اپنے لوگوں کو اسلام سے آگاہ کرو۔ فی الحال تم اپنے قبیلہ میں قیام رکھو۔ جب تم سننا کہ اللہ نے مجھ کو اپنے مخالفین پر غالب کر دیا ہے۔ اس وقت دوبارہ میرے پاس آ جانا۔ ابوذر غفاری اپنے قبیلہ میں واپس چلے گئے۔ وہاں سب سے پہلے ان کے بھائی اُنَیس نے اسلام قبول کیا۔ پھر دونوں بھائیوں نے اپنی ماں کو اسلام کی دعوت دی۔ ان کی سمجھ میں اسلام کی صداقت آ گئی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح وہ اپنے قبیلہ والوں کو دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ چند سال میں قبیلہ کے تقریباً آدھے افراد دین اسلام میں داخل ہو گئے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion