انسان کی طاقت

بمبئی کے ایک 18 سالہ مسیحی نوجوان نے خود کشی کر لی ۔ اس کا نام گرین ویل گومس (Greenwell Gomes) تھا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، اس سال اس نے ایچ ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا، اب وہ بی کام میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ مگر اس کو بتایا گیا کہ پندرہ ہزار روپیہ ’عطیہ‘ دیے بغیر اس کا داخلہ نہیں ہو سکتا۔ گومس کے ذہن کو اس سے بہت سخت جھٹکا لگا۔ یہاں تک کہ پریشانی کے عالم میں اس نے خود کشی کرلی (روز نامہ ہندستان بمبئی ، جولائی 1993)۔

دوسری طرف اسی ملک میں ایک اور مثال موجود ہے ۔ ایک شخص کو اپنے بیٹے کے علاج کے لیے اچھے اسپتال میں داخلہ نہیں ملا۔ صرف اس لیے کہ اچھے اسپتال کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اس آدمی نے طے کیا کہ میں خود ایک ایسا اسپتال کھولوں گا جو اچھا بھی ہوگا ، اور اسی کے ساتھ اس میں داخلہ سے کوئی شخص اس لیے محروم نہیں رہے گا کہ وہ اس کی فیس نہیں ادا کر سکتا تھا۔ وہ اس مہم میں لگ گیا۔ یہاں تک کہ وہ ایسا ایک اسپتال قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ اسپتال آج کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ ہزاروں لوگ اس سے معالجاتی فائدہ حاصل کر چکے ہیں۔

اس طرح کے فیصلہ کن مواقع ہر شخص کی زندگی میں آتے ہیں۔ اس وقت اس کا ذہن جس طرف مڑ جائے، بس اسی طرف وہ چلنے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کو ایسا تعمیری رہنما مل جائے جو اس کو منفی سمت میں مڑنے سے بچا سکے ۔ جو اس کو وہاں فکری سہارا دے جہاں اس کا اپنا ذہن سوچنے میں عاجز ثابت ہو رہا ہے۔

مذکورہ نوجوان کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے تعلیمی واقعے کو رکاوٹ کے بجائے چیلنج سمجھے ۔ وہ پندرہ ہزار روپیہ کا عطیہ مانگنے والوں سے کہے کہ اگرتم سمجھتے ہو کہ تم میرا راستہ روک سکتے ہو تو تم بہت بڑی بھول میں مبتلا ہو۔ تم انسان کو انڈراسٹیمیٹ کر رہےہو۔ ایک انسان کی طاقت اس سے زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کی زندگی میں حائل ہو سکے ۔ کوئی اس کو آگے بڑھنے سے روک دے۔

اس کے بعد وہ نوجوان یہ طے کر تاکہ میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ کھولوں گا جہاں نوجوان طالب علموں کو عطیہ یا رشوت دیے بغیر داخلہ مل سکتا ہو ۔ اگر وہ اس قسم کا فیصلہ کر کے اس کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیتا اور استقلال کے ساتھ اس مہم میں لگ جاتا تو عین ممکن تھا کہ وہ ایک نیا شاندار تعلیمی ادارہ بنانے میں کامیاب ہو جائے جہاں عطیہ کے بغیر صرف میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہو ۔

اس دنیا میں ناکامی کا سب سے بڑا سبب بے حوصلگی ہے اور کامیابی کا سب سے بڑا راز حوصلہ مندی۔ مذکورہ نوجوان کی خود کشی کا سبب یہ تھا کہ وہ بے ہمت ہو گیا۔ اگر وہ بے ہمت نہ ہوتا۔ اور نئے تعلیمی ادارہ کے قیام کو اپنا مشن بنا لیتا تو وہ دیکھتا کہ اسی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کی حمایت کریں ، جو اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں۔ پہلے تجربہ میں بظاہر وہ اکیلا ہو گیا تھا ، مگر دوسرے تجربہ میں وہ اکیلانہ رہتا کسی شاعر نے صحیح کہا ہے کہ :

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے            ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں

یہ شعر دہلی میں سب سے پہلے مجھے ایک تاجر نے سنایا تھا۔ وہ ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوا مگر بعض اسباب سے اس کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ بالکل اکیلا ہو گیا۔ اس کے پاس دہلی میں نہ گھر رہا اور نہ کا روبار ۔

یہ حادثہ اس کے ساتھ نو جوانی کی عمر میں پیش آیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ معمولی سامان لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ صبح سے شام تک وہ محنت کرتا۔ اس کے بعد بمشکل چند روپیہ کماتا، مگر ہر قسم کے ناموافق حالات کے باوجود اس نے اپنی محنت جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اس کو مدد گار ملنے شروع ہو گئے ۔

کسی تاجر نے اس کو ادھار مال دینا شروع کیا۔ کسی نے اس کو ایک دکان دلوادی کسی نے گھر حاصل کرنے میں مدد کی ۔ اس طرح وہ ایک کے بعد ایک زندگی کے زینے طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دہلی کا ایک کامیاب تاجر بن گیا۔

آدمی اگر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک راستے کو پکڑلے۔ اور اسی کے ساتھ وہ با اصول اور با کردار بھی ہو تو ایک نہ ایک دن وہ کامیاب ہو کر رہتا ہے ۔ کوئی بھی چیز اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion