حقیقت پسندی
خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے:لَيْسَ الْعَاقِلُ الَّذِي يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنْ الشَّرِّ وَ لَكِنَّهُ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْنِ (ذم الھویٰ لابن الجوزی، صفحہ 8)۔ یعنی، دانش مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلے میں خیر کو جانے۔ بلکہ دانش مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دوشر میں سےبہتر شر کون سا ہے۔
اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک فرد اور دوسرے فرد یا ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات ظہور میں آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاملے کو طے کرنے کی صورت کیا ہو۔ وہ کون سا ر ہنما اصول ہے جس کی روشنی میں باہمی نزاعات کو طے کیا جائے۔
ایسے موقع پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ معاملے کو خیر اور شریا انصاف اور بے انصافی کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے حصے میں شر نہ آئے بلکہ خیر آئے۔ وہ اپنے آپ کو بے انصافی سے بچائیں اور جو انصاف ہے اس کو حاصل کریں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔ ساری کوشش کے باوجود آخر میں انھیں شکایت اور نقصان کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کوئی بھی شخص اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں لے سکتا۔ اس طرح کے معاملے میں ہر نزاع کے دو فریق ہوتے ہیں۔ کسی بھی فیصلہ کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک فریق کے ساتھ دوسرا فریق بھی اس پر راضی ہو ۔ ایک فریق جس چیز کو خیر یا انصاف سمجھتا ہو، اگر دوسرا فریق اس کو تسلیم کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کا نتیجہ دو طرفہ ٹکراؤ ہو گا۔ اور ٹکراؤ ہمیشہ مسئلہ کو بڑھانے والا ہوتا ہے، نہ کہ اس کو گھٹانے والا۔
ایسی حالت میں دانش مندی کا تقاضا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملے کو خیر اور شریا انصاف اور بے انصافی کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ اس کو ممکن اور نا ممکن کی نظر سے دیکھا جائے۔ پھر جو چیز عملی طور پر ممکن ہے اس کو لیا جائے اور جو چیز عملی طور پر نا ممکن ہے اس کو چھوڑ دیا جائے۔
اس معاملے کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں عربوں اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کے مسئلہ پر نزاع پیدا ہوئی جو اس کے بعد پچاس برس تک چلتی رہی۔ یہودیوں کا یہ کہنا تھا کہ دو فریقوں کے درمیان امن کا معاہدہ ہو جائے۔ لیکن عرب اس کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ امن صرف عدل کی بنیاد پر ہو سکتا ہے، عدل نہیں تو امن بھی نہیں۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود عربوں کا یہ نظریہ فیل ہو گیا اور بیسویں صدی کے آخر میں انھوں نے عدل کی شرط کو پس پشت ڈال کر صرف امن کے مقصد کے تحت اسرائیل سے معاہدہ کر لیا۔
نظری طور پر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ جب دو فریقوں میں نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو ان کے درمیان امن کا قیام عدل کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ آئیڈیلزم کے اعتبار سے یہ نظریہ بہت اچھا ہے مگر عملی اسباب بتاتے ہیں کہ اس قسم کا آئیڈیل کبھی قابل حصول نہیں ہوتا۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی نظری انصاف پر اصرار نہ کرے بلکہ عملی انصاف پر راضی ہو جائے۔
اصل یہ ہے کہ امن اور انصاف کو ایک دوسرے کے ساتھ بریکٹ کرنا بجائے خود غلط ہے۔ اس دنیا میں امن انصاف کے لیے نہیں ہوتا۔ امن کا تعلق مواقع کار سے ہے، نہ کہ عدل و انصاف سے۔ امن اس لیے حاصل نہیں کیا جاتا کہ اس کے ساتھ انصاف حاصل ہو جائے۔ بلکہ امن اس لیے قائم کیا جاتا ہے تا کہ وہ مواقع کار حاصل ہوں جن کو استعمال کر کے عدل و انصاف تک پہنچا جا سکے۔
مثال کے طور پر 1948 میں فلسطین کی جو صور تحال تھی اس میں عربوں کو فلسطین کا بیشترحصہ ملا ہوا تھا۔ اس وقت دانش مندانہ پالیسی یہ تھی کہ اس صور تحال کو قبول کر کے یہودیوں سے وہ صلح کر لی جائے جو پچاس برس بعد کی گئی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اس کا زبردست فائدہ ہو تا۔ اس طرح عربوں کے لیے ممکن تھا کہ وہ امن قائم کر کے اپنے تعمیر و استحکام کی جد وجہد شروع کر دیں۔ پچھلے پچاس برس میں انھوں نے انصاف کے حصول کے نام پر بے شمار دولت ضائع کی ہے۔ اور لاکھوں قیمتی جانوں کا نقصان کیا ہے۔ قیام امن کی صورت میں ان کا یہ تمام سر مایہ تعمیر و استحکام کے محاذ پر لگ جاتا۔ اس مثبت پالیسی کا نتیجہ یہ ہو تا کہ وہ ان تمام چیزوں کو لڑائی کے بغیر کامیاب طور پر حاصل کر لیتے جس کو وہ لڑائی کے ذریعہ ناکام طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
اس معاملے کی بہترین مثال اسلام کے دور اول کا وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرک قبائل کے درمیان زبر دست نزاع تھی۔ ان مشرکین نے آپ کو آپ کے وطن مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور مسلمانوں کے خلاف دوسری بہت سی نا انصافیاں کر رہے تھے۔
پیغمبر اسلام ﷺ اگر امن کے حصول کے لیے عدل کی شرط لگاتے تو دونوں فریقوں کے درمیان کبھی امن قائم نہ ہوتا۔ مگر آپ نے یہ کیا کہ عدل وانصاف کے سوال کو الگ کر کے مشرکین سے گویا ’’امن برائے امن‘‘ کے اصول پر صلح کر لی۔ اس امن کو آپ نے کام کے ایک موقع کے طور پر لیا۔ اور اس کو اسلام کی تعمیر و استحکام کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو سال کے اندر مزید اضافے کے ساتھ وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جس کو آپ نے بظاہر معاہدۂ امن کے وقت کھو دیا تھا۔
دانش مندی کا یہ اصول جس طرح اجتماعی نزاعات کے لیے ہے۔ اسی طرح وہ انفرادی نزاعات و اختلافات کے لیے بھی ہے۔ انفرادی معاملات میں بھی کامیابی کا واحد طریقہ یہی ہے کہ خیر اور شریا صحیح اور غلط کی بنیاد پر معاملات کو طے کرنے کے بجائے ممکن اور نا ممکن کی بنیاد پر ان کو طے کیا جائے۔
گھر کے اندر دو مردوں یا دو عورتوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو تو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ حق کیا ہے اور نا حق کیا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ عملی حالات کے اعتبار سے ممکن کیا ہے اور نا ممکن کیا ہے۔ حق اور ناحق یا صحیح اور غلط کی بحث میں پڑنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اختلاف کبھی ختم نہ ہو گا۔ اس کے بر عکس اگر آپ ممکن پر راضی ہو جائیں تو بیک وقت آپ کو دو فائدے حاصل ہوں گے اختلاف کا فوری خاتمہ اور مواقع کار کا حصول۔
یہی اصول تمام انفرادی نزاعات کے لیے ہے۔ زندگی کی سرگرمیوں کے درمیان ہر شخص کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اختلاف اور نزاع کی صورتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی مالی اور کبھی غیر مالی۔ ایسے مواقع پر جو شخص حق اور باطل یا صحیح اور غلط کی بحث چھیڑے۔ وہ بلاشبہ غیر دانش مند انسان ہے۔ اس کے بجائے جو عملی تقاضوں کو سمجھے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے ممکن پر راضی ہو جائے تو ایسا ہی شخص عقل مند ہے ، اور یہی وہ شخص ہے جو اس دنیا میں کامیابی حاصل کرے گا۔
اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی نزا ع پیدا ہو تو لوگوں کی تمام تر توجہ اس پر لگ جاتی ہے کہ از روئے انصاف کیا ہونا چاہیے یا ان کے نزدیک اس معاملے میں حق کیا ہے اور پھر اس حق کے حصول کے لیے فریق ثانی سے لڑائی چھیڑ دیتے ہیں۔ یہ لڑائی اکثر سالہا سال تک جاری رہتی ہے اور اکثر کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔ اس طرح کے موقع پر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ مفروضہ حق کے حصول میں جو وقت اور طاقت خرچ ہو گی اس کو مقابلہ آرائی سے بچا کر اپنی مثبت تعمیر میں استعمال کیا جائے۔
ٹکراؤ ہمیشہ حق کے حصول کے نام پر کیا جاتا ہے۔ مگر عملی طور پر ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے دوران نہایت قیمتی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا میں عقلمندی یہ ہے کہ ہر معاملے میں یہاں عملی نقطہ نظر اختیار کیا جائے۔ ایک شخص اپنی ذاتی زندگی میں آئیڈیل کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے، مگر جب اجتماعی زندگی کا معاملہ ہو تو اس کو ہمیشہ پر یکٹکل بن جانا چاہیے ۔
