صحیح طرز فکر
انسان کی صفت یہ ہے کہ وہ فکری صلاحیت رکھتا ہے۔ حیوان اپنی جبلّت کے تابع ہے۔ انسان کی عظمت یہ ہے کہ وہ سوچتا ہے اور سوچ کے تحت اپنے عمل کا منصوبہ بناتا ہے۔ حیوان کے لیے غلطی کرنے کا کوئی امکان نہیں کیوں کہ حیوان خدائی جبلّت کے تحت عمل کرتا ہے۔ لیکن انسان صحیح بھی کرتا ہے اور غلط بھی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنے سوچنے کی صلاحیت کو آخری حد تک بیدار کرے، تا کہ اس کی سوچ درست سوچ ہو ۔ اور اس کے نتیجہ میں اس کا عمل بھی درست عمل۔
پہلا نکتہ
زندگی ایک آرٹ ہے۔ جو لوگ اس آرٹ کو جانیں وہی اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ جو لوگ اس آرٹ سے بے خبر ہوں، ان کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔
اس آرٹ کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو اس کو مثبت طرز فکر (positive thinking) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی ردِّ عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر کھلے انداز میں سوچنا، اور پھر غیر متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کر کے اپنا منصوبہ بنانا۔
مثبت طرز فکر کے برعکس وہ طرز فکر ہے جس کو منفی طرز فکر (negative thinking) کہا جا سکتا ہے۔ مثبت طرز فکر اگر اپنی فکری صلاحیتوں کو عمل میں لانے کا نام ہے تو منفی طرز فکر یہ ہے کہ آدمی کی اپنی فکری صلاحیت ارتقا نہ کر سکے ، وہ صرف خارجی احوال کے زیر اثر سوچے اور اسی کے مطابق اپنی رائے بنائے۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو زندگی کا سارا معاملہ صحیح سوچ یا غلط سوچ کا معاملہ ہے۔ صحیح سوچ کامیابی کا ذریعہ ہے، اور غلط سوچ ناکامی کا ذریعہ۔ یہی اصو ل افراد کے لیے ہے اور یہی اصول قوموں کے لیے بھی۔ آدمی نے اگر اپنے ذہن کو بند نہ رکھا ہو تو صحیح فکر کو پانا کچھ بھی مشکل نہیں۔ آدمی کی خود اپنی فطرت اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ کائنات میں بکھری ہوئی نشانیاں اسی کا سبق دیتی ہیں۔ تاریخ کے تجربات ہی پیغام دے رہے ہیں۔ تمام علوم اس کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں صحیح طرز فکر سے وہی شخص محروم رہ سکتا ہے جو آنکھ رکھتے ہوئے نہ دیکھے ، کان رکھتے ہوئے نہ سنے ، جو عقل رکھتے ہوئے سمجھنے سے انکار کر دے۔
دوسرا نکتہ
کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal) ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی تمام کارروائیاں اس کی سوچ کے تابع ہوتی ہیں۔ آدمی پہلے سوچتا ہے، اس کے بعد وہ عمل کرتا ہے۔ سوچ اگر درست ہو تو عمل بھی درست ہو گا۔ اور اگر سوچ درست نہ ہو تو عمل بھی شروع سے آخر تک غلط ہو کر رہ جائے گا۔ صحیح سوچ سے صحیح آغاز ملتا ہے اور صحیح آغاز صحیح نتیجہ تک پہنچاتا ہے۔
سیب یا کوئی پھل جب اپنی شاخ سے ٹوٹتا ہے تو وہ ہمیشہ زمین پر گرتا ہے۔ یہ واقعہ ہزاروں سال سے ہو رہا تھا۔ مگر وہ لوگوں کو بس ایک عادی واقعہ نظر آتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس میں سوچنے کی کوئی بات نہیں، کیوں کہ جو ہو رہا ہے وہی ہونا چاہیے ۔
نیوٹن (وفات 1643-1727) غالباً پہلا شخص تھا جس نے سیب کے پھل کو شاخ سے ٹوٹ کر نیچے گرتے ہوئے دیکھا تو وہ سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اس کے ذہن میں بظاہر ایک انوکھی بات آئی سیب شاخ سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا ، وہ نیچے کیوں آیا۔ یہ سوچ بظاہر انوکھی تھی مگر اس کے ذریعہ نیوٹن اس حقیقت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا کہ زمین میں قوّت ِکشش(gravitational pull) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر کی چیز ہمیشہ نیچے آتی ہے۔ نیچے کی چیز کبھی اوپر نہیں جاتی۔
اسی طرح ہزاروں سال سے انسان کو بظاہر یہ دکھائی دیتا تھا کہ زمین ایک مُسطّح میدان کی طرح چپٹی ہے۔ ظاہری مشاہدہ میں یہ نظریہ درست معلوم ہو تا تھا۔ چنانچہ اس کو ایک مسلّمہ کے طور پر مان لیا گیا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ ایک گہری سوچ والا آدمی سمندر کے کنارے ساحل پر کھڑا ہوا تھا۔ دور سمندر افق سے ملتا ہوا نظر آتا تھا۔اچانک اس نے دیکھا کہ سمندر کے دوسرے سرے پر ایک نشان بر آمد ہوا۔ یہ ایک بحری جہاز کا مستول (Mast)تھا۔ دھیرے دھیرے مستول اوپر اٹھتا گیا یہاں تک کہ پورا جہاز سطح سمندر پر دکھائی دینے لگا۔
وہ آدمی سوچنے لگا کہ ایسا کیوں ہوا۔ زمین اگر چپٹی(flat)ہوتی تو جہاز دور سے بھی بیک وقت پوراد کھائی دیتا اور قریب سے بھی پورا۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے وہ دھند لاد کھائی دیتا اور بعد کو وہ صاف نظر آتا۔ مگر جب ایسا ہوا کہ جہاز پہلے تھوڑا سامنے آیا اور اس کے بعد دھیرے دھیرے پورا جہاز دکھائی دیا۔ اس سے اس آدمی نے سمجھا کہ زمین میں خم (curvature) ہے یعنی زمین تختہ کے مانند نہیں ہے بلکہ گیند کے مانند ہے۔ چنانچہ زمین کے خم کے ساتھ جہازاوپر اٹھتا رہا یہاں تک کہ وہ پوری طرح سامنے آگیا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی میں سوچنے کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی کے ذریعہ تمام نئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ سوچ ہی کے ذریعہ منصوبہ بندی ممکن ہوتی ہے۔ سوچ ہی کے ذریعہ ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ سوچ ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی شخص ماضی اور حال پر غور کر کے مستقبل کے لیے زیادہ بہتر نقشہ بنا سکے۔
تیسرا نکتہ
انسانی سماج میں ہمیشہ با ہمی جھگڑے جاری رہے ہیں۔ ان جھگڑوں کا وجود کوئی لازمی چیز نہیں۔ یہ خود سوچنے والے انسان کے اوپر ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو جھگڑوں میں پھنسائے اور چاہے تو اپنے آپ کو ان سے محفوظ رکھے۔ یہ معاملہ فرد کے لیے بھی ہے اور قوموں اور حکومتوں کے لیے بھی۔
مجھے ایک صاحب کا قصہ معلوم ہے ۔ انھوں نے تجارت کی اور اس میں کافی کامیاب رہے۔ ان کا ایک رشتہ دار جس نے انھیں کے ساتھ تجارت شروع کی تھی وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کو اس کامیاب تاجر سے حسد ہو گیا۔ ایک شخص نے مذکورہ کامیاب تاجر کو بتایا کہ آپ کا فلاں رشتہ دار آپ کے خلاف ایسا اور ایسا کہتا ہے۔ تاجر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے کئی بار اپنی بات کو دہرایا۔ آخر میں اس نے کہا کہ میں آپ کو بار بار بتارہا ہوں کہ آپ کا فلاں رشتہ دار آپ کے خلاف بری بری باتیں پھیلا رہا ہے مگر آپ اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیتے۔ مذکورہ تاجر نے نہایت اطمینان سے کہا:یہ ان کا پر ابلم ہے، میر اپرابلم تو نہیں۔
مذکورہ تاجر نے اپنے حاسد رشتہ دار کی بات کو سنا اور ٹال دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں کے درمیان مزید کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ بات لفظوں پر ختم ہو گئی۔ اس کے برعکس، اگر یہ تاجر مذکورہ رشتہ دار کی بات پر بھڑک اٹھتا تو دونوں کے درمیان ایسی لڑائی چھڑ جاتی جس میں دونوں کی تباہی یقینی تھی۔
چوتھا نکتہ
1947سے پہلے کے ہندستان کا واقعہ ہے۔ ایک گاؤں میں دو زمیندار رہتے تھے۔ ان میں سے ایک مذہبی تھا اور داڑھی رکھتا تھا۔ اور دوسرے کے چہرے پر داڑھی نہیں تھی۔ بے داڑھی والے زمیندار نے ایک بار داڑھی والے زمیندار کے یہاں شیرینی کا تحفہ بھیجا۔ داڑھی والے زمیندار نے اس کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میں داڑھی منڈوں کا تحفہ قبول نہیں کرتا۔ بے داڑھی والا زمیندار اس کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے تحفہ کی واپسی کو اپنی توہین سمجھا۔ اس کے اندر زبر دست انتقام بھڑک اٹھا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔ ایک دوسرے کا کھیت کاٹنا، ایک دوسرے کے آدمی کو قتل کرنا، ایک دوسرے کے خلاف مقدمے چلانا ، ایک دوسرے کو بدنام کرنا۔ اس طرح کی منفی کارروائیاں 25 سال تک جاری رہیں۔ لڑائی کا یہ سلسلہ صرف اس وقت بند ہوا جب کہ دونوں کے گھر کے زیور تک بک گئے۔ دونوں میں یہ سکت ہی نہ رہی کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف مزید کوئی کارروائی کر سکیں۔
انسانی سماج میں زیادہ تر جھگڑے الفاظ سے شروع ہوتے ہیں۔ لوگ مخالفانہ الفاظ سن کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی سوچ انتقام کے رخ پر چل پڑتی ہے۔ اور اس کے بعد وہ تمام صورتیں پیش آتی ہیں جن کو آپس کی لڑائی کہا جاتا ہے۔ منفی عمل ہمیشہ منفی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ منفی حالات میں بھی مثبت سوچ کو قائم رکھا جائے۔ منفی کارروائی کا جواب بھی مثبت انداز میں دیا جائے۔
اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی ناخوشگوار بات کو سنیں تو یہ سوچیں کہ کیا یہ محض الفاظ کا معاملہ ہے یا وہ حقیقی معنوں میں آپ کو کوئی نقصان پہنچانے والا ہے۔ اگر اس سے کسی حقیقی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کا تدارک کیجیے۔ ورنہ سادہ طور پر صرف یہ کیجیے کہ اس کو نظر انداز کردیجیے۔
پانچواں نکتہ
اس سلسلے میں ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ انگریز انیسویں صدی میں عراق میں داخل ہو چکے تھے۔ 1917 میں انھوں نے بغداد کو فتح کیا۔ اس کے بعد وہاں ایک انگریز کونسلر (councillor) رہنے لگا۔ انگریز کو نسلر جب شروع میں بغداد میں آیا تو صبح کے وقت اس کو محسوس ہوا کہ اس کی رہائش گاہ کے باہر عراقیوں کے شور کی آواز آرہی ہے۔ انگریز کو نسلر نے فوراً اپنے مقامی سکریٹری کو بلایا۔اس نے پوچھا کہ یہ کیسا شور ہے۔ سکریٹری نے جواب دیا کہ یہ مسلمانوں کی صبح کی نماز کا وقت ہے اور وہ مسجدوں میں اس کے لیے اذان دے رہے ہیں۔ کونسلر نے دوبارہ پوچھا کہ اس سے برٹش امپائر کو کوئی خطرہ تو نہیں۔ سکریٹری نے جواب دیا کہ نہیں، اس میں خطرہ کی کوئی بات نہیں۔ اس کے بعد کو نسلر نے کہا کہ پھر وہ جو کر رہے ہیں انھیں کرنے دو۔
اختلافی معاملات میں یہ بہترین پالیسی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کے لیے حقیقی خطرہ بن رہا ہو تو ضرور اس سے مقابلہ کیجیے۔ اور اس کو روکنے کی کوشش کیجیے ۔ لیکن اگر وہ بات صرف الفاظ کی حد تک ہو تو خواہ آپ کے جذبات کتنا ہی مجروح ہوتے ہوں اس کو نظر انداز کیجیے۔ جذبات کا مجروح ہونا کوئی نقصان کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ صرف ایک خیالی بات ہے۔ اور خیالی بات پر عملی اقدام کرنا دانش مند آدمی کا کام نہیں۔
چھٹا نکتہ
موجودہ دنیا میں کوئی آدمی اکیلا نہیں ہے۔ یہاں ہر آدمی کو دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے سڑک کے اوپر ہر آدمی اپنی گاڑی کو دوسری بہت سی گاڑیوں کے ساتھ چلاتا ہے۔ ایسی حالت میں ردِّ عمل کی پالیسی کبھی مفید نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو منفی حالات میں مثبت جواب دینا جانے۔
اس معاملے کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ سوامی وویکانند (1902-1863) کے ایک مسیحی دوست نے ان کو جانچنا چاہا۔ اس نے سوامی جی کو اپنے گھر پر بلایا۔ وہاں ملاقات کے کمرے میں ایک میز تھی۔ مسیحی دوست نے ہر مذہب کی مقدس کتا بیں ایک کے اوپر ایک اس میز پر رکھ دیں۔ اس کی ترتیب یہ تھی کہ سب سے نیچے ہندوؤں کی مذہبی کتاب گیتا تھی اور اس کے اوپر دوسرے مذہبوں کی مقدس کتابیں۔ سوامی جی جب اس کمرے میں پہنچے تو ان کے مسیحی دوست نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، سوامی جی ، میز کے اوپر رکھی ہوئی کتابوں کو دیکھیے اور اس کے اوپر تبصرہ کیجیے۔ مسیحی دوست کا اندازہ تھا کہ سوامی جی یہ منظر دیکھ کر بگڑ جائیں گے کہ ان کے مذہب کی کتاب کو سب سے نیچے رکھ دیا گیا ہے اور دوسرے مذہب کی کتابوں کو اس کے اوپر ۔ کیوں کہ اس میں بظاہر ان کے اپنے مذہب کی توہین ہے اور دوسرے مذہبوں کی تعظیم ۔ مگر سوامی جی اس کو دیکھ کر غصہ نہیں ہوئے۔ انھوں نے اس معاملے کو ٹھنڈے طریقہ سے لیا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہو گئے کہ وہ ایک منفی واقعہ کا مثبت جواب دے سکیں۔ وہ کتابوں کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ بنیاد تو بہت اچھی ہے:
The foundation is really good.
یہ واقعہ مزید اس بات کی مثال ہے کہ آدمی اگر غصہ نہ ہو اور اعتدال پر قائم رہے تو وہ اپنے نہیں کو ہے بنا سکتا ہے، وہ ایک غیر موافق واقعے کو ایک موافق واقعہ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوچنے کے عمل کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی کی سطح پر انسان کی ہر کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اعلیٰ زندگی نام ہے اعلیٰ سوچ کا۔ اگر آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر صحیح سوچ پیدا کیجیے۔ صحیح سوچ ہی کا دوسرانام صحیح عمل ہے ، اور صحیح عمل کا دوسرا نام کا میابی۔
ساتواں نکتہ
سوچ کی غلطی کی ایک مثال وہ ہے جس کو ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کہا جاسکتا ہے یعنی کسی معاملے میں صرف دو صورت کے دائرے میں سوچنا، جب کہ وہاں تیسری زیادہ بہتر صورت بھی موجود ہو۔
مثلاً ایک شخص آپ کے خلاف بد زبانی کرے۔ وہ آپ کے وقار کو مجروح کرے۔ ایسی صورت حال میں لوگ عام طور پر برداشت نہیں کر پاتے ، وہ غصہ ہو کر فریق ثانی سے لڑ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ برداشت کرنا بزدلی ہے اور اس کے مقابلے میں لڑ جانا بہادرانہ دفاع۔ اب چونکہ بزدلی کے مقابلے میں بہادری زیادہ بہتر چیز معلوم ہوتی ہے اس لیے وہ اس روش کو چھوڑ دیتے ہیں جس کو وہ بزدلی سمجھتے ہیں اور اس روش کو اختیار کر لیتے ہیں جس کے متعلق ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ ایک بہادرانہ روش ہے۔
مگر یہ سوچ کی غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال میں ایک تیسری ممکن روش بھی ہے ، اور وہ اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مشتعل ہو کر لڑنے میں اپنا وقت ضائع نہ کرے بلکہ وہ اپنے آپ کو مثبت عمل پر قائم رکھے۔ یہ تیسری روش عین وہی چیز ہے جس کو ایک مشہور مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے— کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے۔
یہ محض ایک اخلاقی بات نہیں، بلکہ یہ زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے۔ یہ دنیا طرح طرح کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں بار بار نا خوشگوار تجربے پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں آدمی اگر ہر ناپسندیدہ بات پر بھڑکتار ہے، وہ ہر اشتعال انگیزی پر مشتعل ہو جائے تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو دوسروں کے خلاف کارروائی میں ضائع کرتا رہے گا۔ جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ اپنی قوت اور اپنی صلاحیت کو مکمل طور پر صرف اپنی مثبت تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے۔
اس دنیا میں آدمی کے پاس وقت بہت کم ہے اس کے ساتھ اس کے وسائل بھی بہت محدود ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی بھی شخص اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دوسروں کو سبق سکھانے یا ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے پیچھے دوڑتا رہے۔ ایسی روش کی قیمت آدمی کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کی اپنی تعمیر و ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔
آٹھواں نکتہ
آدمی پیدائشی طور پر معیار پسند (idealist) ہے۔ وہ ہمیشہ اعلیٰ معیار کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں خیر برتر کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس قسم کی معیار پسندی نظری طور پر بہت اچھی معلوم ہوتی ہے مگر عملی طور پر وہ صرف تباہ کن ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی آدمی اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کا اپنا انٹرسٹ ہے۔ ہر آدمی کی اپنی مصلحتیں ہیں۔ ہر آدمی فائدہ اور نقصان کا اپنا ذاتی نظریہ رکھتا ہے۔ اس صورت حال نے موجودہ دنیا میں ہر ایک کے لیے معیار طلبی کو نا قابل حصول بنا دیا ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں قابل عمل صورت صرف ایک ہے، اور وہ دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی (adjustment) ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے جو انتخاب (choice) ہے ، وہ خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ چھوٹی برائی (lesser evil)اور بڑی برائی (greater evil) کےدرمیان ہے۔ اب کسی انسان کے لیے معقول روش یا صحیح طرز فکر یہ ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ بڑی برائی کو چھوڑ دے اور چھوٹی برائی پر راضی ہو جائے۔
نواں نکتہ
فن تفکیر(art of thinking) کے سلسلے میں ایک اہم پہلو ہے— ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کو جاننا۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر مشابہ مگر حقیقتاً وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات آدمی کوبہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
مثلاً ایک شخص سروس کرتا ہے ، اور دوسرا آدمی تاجر ہے۔ سروس کرنے والے آدمی کو مہینہ پورا ہونے پر جور قم ملتی ہے وہ پوری کی پوری اس کی اپنی آمدنی ہوتی ہے۔ اگر وہ ملی ہوئی پوری رقم خرچ کر دے تو اس سے اس کی سروس کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اس کے بر عکس، تاجر کے پاس پورے مہینہ میں جور قم آئی، اگر وہ اس پوری رقم کو اپنی ذاتی ضرورت میں خرچ کر دے اور ہر مہینہ ایسا ہی کرتا رہے تو اس کی تجارت ختم ہو جائے گی اور وہ دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا۔ کیوں کہ تاجر کے پاس جور قم آتی ہے اس میں بمشکل دس فیصد اس کی اپنی آمدنی ہوتی ہے، بقیہ رقم مارکیٹ کی ہوتی ہے جس کو اسے دوسروں کو لوٹانا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ سروس اور تجارت کے فرق کو سمجھا جائے ورنہ آدمی کو سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اس اصول کا تعلق زندگی کے اکثر معاملات سے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو ظاہری یا جزئی مشابہت کی بنا پر وہ غیر حقیقی رائے قائم کرنے کی غلطی نہ کرے۔ وہ دو چیزوں کے فرق کو جانے اور اس کے مطابق اپنی رائے قائم کرے۔ جو آدمی اس حکمت کو نہ سمجھے اس کا حال ایک ایسے ڈرائیور کا ہو گا جو خالی سڑک اور بھری سڑک کے فرق کو نہ جانے اور دونوں جگہ یکساں طور پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔
دسواں نکتہ
اس سلسلے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اس طرح تربیت دے کہ وہ گردوپیش کے واقعات سے سبق لے سکے۔ سبق لینے کا مزاج ایک طرف آدمی کے لیے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے ، اور دوسری طرف وہ اس کو غیر ضروری نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک نوجوان نے شہر میں ایک دکان کھولی۔ کچھ دنوں کے بعد اس میں چوری ہو گئی۔ ایک بزرگ نے نوجوان سے اس کی تفصیل پوچھی ، نوجوان نے بتایا کہ مجھ کو تجربہ نہیں تھا، میں نے دکان میں ایک معمولی تالا لگا دیا۔ وہ نہایت آسانی سے کھل سکتا تھا۔ چنانچہ کوئی شخص رات کو آیا اور تالا کھول کر اطمینان کے ساتھ چوری کی اور بھاگ گیا۔
بزرگ نے کہا کہ اس معاملے میں خود تجربہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ سیکڑوں لوگوں کا تجربہ موجود ہے کہ دکان میں مضبوط تالا لگانا چاہیے۔ دکان میں معمولی تالا لگانا چور کو چوری کی دعوت دینا ہے۔
ہماری دنیا اسباق اور نصیحتوں سے بھری ہوئی ہے۔ ہر طرف کوئی نہ کوئی ایسی چیز موجود ہے جس سے آدمی اپنے لیے مفید سبق لے سکے۔ اور بہتر انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ چیزوں کو کھلی آنکھ سے دیکھا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ ان پر غور کیا جائے۔
