خودکشی کی چھلانگ
دہلی کے روز نامہ ہندوستان ٹائمس (17نومبر1995) کے پہلے صفحہ پر ایک باتصویر کہانی چھپی ہے۔ یہ ایک مُردے کی کہانی ہے جو زندہ لوگوں کو درد ناک سبق دے رہی ہے۔
دہلی کے مسٹر ایم این ارورا کی 20 سالہ بھتیجی ساریکا ہورا (Sarika Hora) پونہ میں انجینیرنگ کے تیسرے سال کی اسٹوڈنٹ تھی۔ اکتوبر 1995 میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ دیوالی منانے کے لیے دہلی آئی۔27 اکتوبر کو نظام الدین ریلوے اسٹیشن سے وہ گوا اکسپرس پر سوار ہوئی تاکہ پونہ پہنچ کر وہ دوبارہ اپنے اکیڈمک سیشن میں شامل ہو سکے۔
ریلوے اسٹیشن پر اس کے گھر والوں نے اس کو رخصت کیا۔ وہ اپنے ایک ساتھی طالب علم کےہمراہ نہایت خوش و خرم اپنی منزل کی طرف جا رہی تھی ۔ اس ٹرین کے ہر دو ڈبہ کے درمیان اندرونی گزر گاہ بنی ہوئی تھی ۔ ٹرین گوالیار اور جھانسی کے درمیان تھی کہ پر شوق لڑکی اٹھی تاکہ ایک کوچ سے دوسری کوچ میں جاسکے ۔ وہ کوچ کی دہلیز (vestibule) میں پہنچی۔ یہاں قاعدہ کے مطابق ، دونوں کوچ کے در میان گزرنے کی پلیٹ (stepping plate) ہونی چاہیے تھی۔ مگر کسی وجہ سے وہ وہاں موجود نہ تھی۔ لڑکی نے اس کی پروانہ کی۔ اس نے چاہا کہ قدم بڑھا کر وہ اِس کو چ سے اُس کوچ میں پہنچ جائے۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کا پاؤں اگلی کو چ تک پہنچنے کے بجائے درمیان کی خالی جگہ پر پڑ گیا۔ اچانک وہ تیز دوڑتی ہوئی ریل کے نیچے چلی گئی اور سکنڈوں میں اس کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔
یہ صرف ریل کے سفر کی بات نہیں ۔ زندگی کے وسیع تر سفرمیں بھی بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ ہمیں ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچنے کے لیے کسی گزرنے والی پلیٹ (stepping plate) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر سب سے پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ ٹھہر کر دیکھا جائے کہ ہمارے لیے فی الواقع کوئی قابل اعتماد پلیٹ موجود ہے جس سے گزر کر ہم آگے کی طرف جا سکیں۔ ایسی قدم گاہ کی غیر موجودگی میں گزرنے کی کوشش کرنا خود کشی کی چھلانگ لگانا ہے۔نہ کہ ترقی اور کامیابی کی طرف اپنا سفر طے کرنا۔
کیا کوئی سبق لینے والا ہے جو اس واقعے سے سبق لے ۔
