حسن تدبیر
تاجر لوگ ایسا نہیں کرتے کہ وہ اپنا تجارتی کام شروع کر کے بیٹھ جائیں اور یہ سمجھ لیں کہ اب دوسروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئیں اور ہمارے یہاں سے اپنی مرضی کا سامان خرید کر لے جائیں۔ بلکہ اس کے بعد وہ ایک اور کام کرتے ہیں جس کو تجارت کو فروغ دینا کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی تجارت کو ترقی اور فروغ دینے کے لیے مزید مختلف قسم کی کوششیں کرتے ہیں ۔
انھیں میں سے ایک ہے— قیمت گھٹا کر سامان فروخت کرنا مثلاً ایک شخص ایک پندرہ روزہ میگزین نکالے گا۔ اس کی اصل قیمت فی کاپی دس روپیے ہوگی۔ مگر ایک مخصوص مدت تک وہ اس کی قیمت کم کر کے صرف دو روپیہ میں فروخت کرے گا۔ اس کمتر قیمت کو عام طور پر ترغیبی قیمت (invitation price) کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک شخص بازار میں ایک دکان کھولے گا۔ ابتدا میں وہ کچھ دنوں ایسا کرے گا کہ اس کا سامان جس کی اصل قیمت سو روپیہ ہے، اس کو وہ صرف 75 روپیہ میں دے گا۔ اس کو افتتاحی رعایت (inaugural discount) کہا جاتا ہے۔
یہ طریقہ صرف تجارت کے لیے نہیں ہے۔ اس کا تعلق تمام اجتماعی معاملات سے ہے ۔ جب بھی آپ کسی سے تعلقات بڑھانا چا ہیں۔ کسی حلقہ میں نفوذ حاصل کرنا چا ہیں۔ کسی کو اپنی طرف مائل کرنا چاہیں تو آپ کو یہی طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ دوسروں کو رعایت دے کر ہی اس دنیا میں دوسروں کے درمیان مقام حاصل ہوتا ہے۔
ہندستان میں بعض تاریخی یا غیر تاریخی اسباب سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اِس کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اب دونوں فرقوں کے درمیان تعلق کو معتدل بنانے کی عملی صورت صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان اس معاملے میں پہل کر کے وہی تدبیر اختیار کریں جس کو مذکورہ مثال میں ترغیبی قیمت یا افتتاحی رعایت کہا گیا ہے۔
یہ کوئی دبنے یا جھکنے کی بات نہیں، بلکہ وہ حسن تدبیر ہے۔ ذاتی معاملے میں ہر آدمی اسی تدبیر کو اختیار کرتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ملّی معاملے میں بھی اس کو اختیار کر لیا جائے ۔ اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر موجودہ حالت کو ختم کرنے والی نہیں ۔
