تا خیر نہ کہ نا کامی
شکست تاخیر ہے ، مگر شکست نا کامی نہیں— شکست کسی کے لیے ایک درمیانی وقفہ ہے ، وہ اس کا آخری انجام نہیں ۔ ایسی حالت میں شکست سے مایوس ہونے کی کیا ضرورت۔
زندگی کا سفر کبھی ہمواری کے ساتھ طے نہیں ہوتا۔ زندگی میں اتار چڑھاؤ آنالازمی ہے۔ مختلف اسباب سے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی نقصان اٹھاتا ہے یا ہار جاتا ہے ۔ مگر زندگی میں ہر نقصان یا ہار کی حیثیت وقتی واقعے کی ہے۔ آپ ایسے واقعے سے بد دل نہ ہوں ۔ اور اپنی کوشش جاری رکھیں ۔ آج نہیں تو کل آپ یقینی طور پر کامیاب ہو جائیں گے۔
نقصان صرف نقصان نہیں یا ہار نا صرف ہارنا نہیں۔ ان میں فائدہ کا پہلو بھی ہے۔ نقصان یا ہار کا واقعہ جب پیش آتا ہے تو اس سے آدمی کو بہت سے نئے تجربے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی صلاحیتیں از سر نو جاگ اٹھتی ہیں۔ اس طرح نئی چیز کو پانا، کھوئی ہوئی چیز کی تلافی بن جاتا ہے۔
ابتدا میں جب کوئی شکست پیش آتی ہے تو فوری طور پر آدمی جھنجھلا اٹھتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے عمل کو جاری رکھے تو نئی کامیابیاں اس کو جلد ہی اتنی زیادہ خوشی اور اطمینان دے دیںگی کہ پچھلی بات اس کو یاد بھی نہیں رہے گی۔ فتح کی خوشی شکست کے سارے غم کو بہت جلد بھلا دے گی۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ آگے کی طرف دیکھے۔ وہ آج کے بجائے کل پر اپنی نظریں جمائے رہے ۔ جو شخص ایسا کرے گا ، اس کے لیے وقتی ناخوش گواریوں کو جھیلنا آسان ہو جائے گا۔ آنے والی جیت کی خاطر وہ آج کی ہار کو بھول جائے گا۔ شام اس کے لیے شام نہ ہوگی ، بلکہ سادہ طور پر وہ صبح کا انتظار بن جائے گی۔
وقتی شکست کا پیش آنا لازمی طور پر آپ کی کوتاہی نہیں، وہ فطرت کے عمومی قانون کی بنا پر ہے۔ یہ دنیا اسی ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ یہاں فتح کے ساتھ شکست بھی پیش آئے ، یہاں کامیابی کے ساتھ آدمی کوناکامی کا بھی تجربہ ہو۔ گویا کہ جو ہوا ، وہی ہونا بھی چاہیے تھا ، ایسی حالت میں دل شکستہ ہونے کی کیا ضرورت ۔
