ہار کے بعد جیت
شکست خواہ کتنی ہی بڑی ہو ، وہ ہمیشہ وقتی ہوتی ہے۔ اور دوبارہ زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ اس کو فتح میں تبدیل کیا جا سکتا ہے— اس دنیا میں ہر چیز عارضی ہے ، اسی طرح ہار بھی عارضی ہے ، اس دنیا میں کوئی ہار مستقل ہار نہیں۔
ہارنے کے بعد آدمی کے لیے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ جنگ ہارنے کے بعد ہمت بھی ہار جائے۔ وہ پست ہمت ہو کر بیٹھا رہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ یہ سوچنے میں لگ جائے کہ میں ہارا تو کیوں ہارا۔وہ فریق ثانی کے جیتنے کا سبب اور اپنے ہارنے کا سبب معلوم کرے۔
یہ دوسری سوچ آدمی کے ذہن کو کھولتی ہے۔ اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ زیادہ اعلیٰ تیاری کے ساتھ دوبارہ اقدام کر سکے۔ اور جو شخص ایسا کرے وہ پہلی بار نہیں تو دوسری بار ضرور کامیاب ہو کر رہتا ہے۔
اس دنیا میں ناکامی کے ساتھ کامیابی لگی ہوئی ہے اور کامیابی کے ساتھ نا کامی وابستہ ہے۔ جو شخص ناکام ہو جائے، اس کے اندر دوبارہ اٹھنے کے لیے نیا عزم جاگتا ہے۔ اس کے دماغ کے نئے نئے گوشے بیدار ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف جو آدمی کامیاب ہوا ہو ، اس کی زندگی میں ٹھہراؤآجاتا ہے۔ و ہ اطمینان کی نفسیات میں مبتلا ہو کر سو جاتا ہے۔
اس طرح ہارنے والے کے لیے ہار نئی زندگی کا سبب بنتی ہے ، اور جو آدمی جیتتا ہے اس کی جیت اس کوسُلا کر زندگی سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ کبھی مایوس نہ ہو۔ وہ ناکامی کے بعد کبھی بد دلی کاشکار نہ ہو ، خواہ اس کی ناکامی بظاہر کتنی ہی زیادہ بڑی کیوں نہ ہو۔
یہ دنیا ہارنے کے بعد جیتنے اور جیتنے کے بعد ہارنے کا کھیل ہے ۔ اس دنیا میں کامیاب کھلاڑی وہ ہے جو کھیل پر نظر رکھے، نہ کہ ہار اور جیت میں کھو کر رہ جائے۔
شکست وقتی حادثہ ہے، شکست مستقل بر بادی نہیں۔ شکست آپ کو باہر کی چیزوں سے محروم کرتی ہے۔ وہ آپ کے اندر کی چیزوں کو آپ سے نہیں چھینتی ۔ آپ اپنے اندر کی چیزوں کو لے کر دوبارہ نئی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
