زندگی کامعاملہ
بازار میں تمام چیزیں ضروری قیمت دینے کے بعد ملتی ہیں۔ بازار کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے جتنا دینا، اتنا پانا۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیا دہ ۔یہی اصول پوری انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ تم دنیا کو اپنابہترین دو،اورتمہاری طرف بھی دنیا کا بہترین واپس آئےگا:
Give the world the best you have, and the best will come back to you.
اگر آپ لوگوں کے خیر خواہ ہوں تو لوگ بھی آپ کے خیر خواہ ہوں گے۔اگر آپ لوگوں سے میٹھا بول بولیں تو لوگوں کی طرف سے بھی آپ کو میٹھے بول کا تحفہ ملے گا۔آپ لوگوں کے ساتھ محبت کرنے والے بن جائیں گے۔
یہ دنیا لین دین کی دنیا ہے۔یہاں آدمی وہی پاتا ہے جو اس نے دوسروں کو دیا ہو۔یہاں دوسرے لوگ کسی آدمی کے لیے وہی کچھ ثابت ہوتے ہیں جو کہ وہ خود دوسروں کے لیےثابت ہوا ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیےاچھا ماحول پانا آدمی کے اپنے اختیار میں ہے۔آپ دوسروں کے دوست بن جائیے ، اس کے بعد آپ کو بھی دوستوں سے بھرا ہوا ماحول مل جائے گا۔ آپ دوسروں کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کیجیے، اس کے بعد آپ بھی اپنے گردو پیش ایسے پڑوسی پالیں گے جو آپ کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کریں۔ آپ دوسروں کو فائدہ پہنچائیے ، اس کے بعد آپ کو بھی زندگی گزارنے کے لیے ایسی دنیا مل جائے گی جہاں ہر ایک آپ کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہو گا۔
اگر آپ پھول بن کر رہنا جانتے ہوں تو آپ خود بخود اپنے رہنے کے لیے پھولوں کی کیاری پالیں گے ۔ اور اگر آپ کے وجود کے ساتھ کانٹے لگے ہوئے ہوں تو اس کے بعد آپ کو زندگی گزارنے کے لیے جو دنیا ملے گی وہ صرف کانٹوں کا جھاڑ جھنکاڑ ہوگا۔
