سو برس
سوسال کا سفر کبھی اس طرح طے نہیں ہو تا کہ ہم اپنے کاغذی کیلنڈر میں سو سال آگے کا ہندسہ لکھ لیں— جو لوگ حقیقت کے اعتبار سے پیچھے ہوں وہ بڑے بڑے لفظ بول کر آگے نہیں ہو سکتے ۔ آگے ہونے کے لیے حقائق کو اپنے مطابق کرنا پڑے گا۔
زمین سورج کے گرد اپنے لمبے مدار پر ایک سو بار گھومتی ہے تب اس کی سو سالہ تاریخ پوری ہوتی ہے ۔ یہی انسان کا معاملہ بھی ہے۔ انسان کو بھی اگر کسی دور کی منزل تک پہنچنا ہے تو اس کو لمبی مدت تک اس کی طرف سفر کر نا ہو گا ، اس کے بعد ہی وہ اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ سکتا ہے۔
ایک شخص سماج کے اندر اونچا مقام حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو پہلے ضروری جد و جہد کر کے اس کے تمام اسباب جمع کرنے ہوں گے، اس کے بعد ہی اس کو واقعی معنوں میں اونچا درجہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک قوم کو ترقی یافتہ قوم بنا نا ہے تو پہلے اس کو تیاری کے مرحلہ سے گزرنا ہو گا۔ ضروری تیاری کےمرحلوں کو پورا کیے بغیر وہ ایک ترقی یافتہ قوم نہیں بن سکتی۔
ترقی اور کامیابی ہمیشہ کسی تیاری کا نتیجہ ہوتی ہے۔ پہلے تیاری کی جاتی ہے ، اس کے بعد اس کا نتیجہ سامنے آتا ہے ۔ اگر آپ چاہیں کہ تیاری کے بغیر اس کا نتیجہ پائیں تو موجودہ دنیا میں یہ بالکل نا ممکن ہے۔ آپ نتیجہ سے اپنی زندگی کا سفر شروع نہیں کر سکتے۔ زندگی کا سفر جب بھی شروع ہوگا تو وہ تیاری سے شروع ہوگا، ورنہ کبھی شروع ہی نہ ہوگا۔
لوگ کسی کی ترقی کو دیکھ کر حسد کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تیاری کو حذف کر کے نتیجہ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس طرح جب انھیں نتیجہ نہیں ملتا تو وہ دوسرے شخص سے جلن میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ حالاں کہ اگر وہ دوسرے شخص کی طرح ضروری تیاری کرتے تو یقیناً وہ بھی اس نتیجہ کوپالیتے جس کو دوسرے شخص نے پایا ہے۔
اگر آپ سو سال کا سفرطے کر نا چاہتے ہیں تب بھی آپ کو ایک ایک دن کی رفتارسے آگے بڑھنا ہوگا۔ کا غذکے اوپر آپ کوئی بھی اپنا دل پسند لفظ لکھ سکتے ہیں۔ مگر حقیقت کی دنیا کو اپنی پسند کے مطابق بنانے کے لیے حقیقی جد وجہد کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔
