کل اور آج
ہر آدمی اپنے گزشتہ کل کو کھو چکا ہے، کامیاب وہ ہے جو اپنے آج کونہ کھوئے— پچھلا دن جاچکا ۔ اب تو آپ کے پاس صرف آج ہے ۔ پھر آج کو آپ کیوں کھوئیں۔
اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے پچھلے کل کو استعمال نہ کر سکے تو اپنے آج کے دن اس کا افسوس لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ کل کی خاطر آج کو بھی کھونا ہے ۔ نہ ملے ہوئے کی فکر میں ملے ہوئے کو بھی برباد کر دینا ہے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو اپنے آپ کو اس دہرا نقصان سے بچائے۔
اگر آپ کا پچھلا کل کھوگیا ہے تو اس کو کھویا ہوا نہ سمجھے، اس کو تجربہ سیکھنے کا ذریعہ بنا لیجیے ۔ اس طرح آپ کا کھویا ہوا سرمایہ بھی پایا ہوا سرمایہ بن جائے گا۔ ماضی کے تجربہ کے سرمایہ کو اپنی حال کی پونجی میں ملا دیجیے۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کی کھوئی ہوئی چیز بھی مزید اضافے کے ساتھ آپ کو دوبارہ مل گئی ہے۔
پچھلے کل کاغم کر نا گویا اپنی صلاحیت کے ایک حصہ کو ضائع کر دینا ہے ۔ آپ ایسی غلطی کیوں کریں۔ آپ نئے دن میں اپنی ادھوری صلاحیت کے ساتھ کیوں داخل ہوں۔ پچھلے کل کے غم سے اپنے دماغ کو خالی کر دیجیے اور اپنی پوری طاقت کو لے کر اپنے نئے دن کے منصوبہ میں لگ جائیے ۔ یہی کامیاب زندگی کا صحیح طریقہ ہے۔
آپ خواہ کتنا ہی زیادہ گزشتہ کل کی فکر کریں، گزشتہ کل اب دوبارہ آپ کی طرف واپس آنے والا نہیں ۔ جانے والی چیز جا چکی، رہنے والی چیز باقی ہے۔ جانے والی چیز کو بھلا دیجیے اور رہنے والی چیز کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ پکڑ لیجیے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا واحد راز ہے۔ یہاں کامیابی حاصل کرنے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں۔
پچھلے کل کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے، مگر پچھلے کل پر غم کرنا اتنا ہی بے فائدہ ہے۔ آپ یہ ضرور دیکھیے کہ پچھلے کل کو آپ نے کیا پایا اور کیا کھویا ۔ مگر یہ دیکھنا نصیحت کے لیے ہو، نہ کہ افسوس کرنے کے لیے۔
آج کو استعمال کیجیے۔ کیونکہ گزرا ہوا کل تو اب کبھی واپس آنے والا نہیں۔
